چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اشتہار کیا ہے کہ چین اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اور دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس لے جانے کی مخالفت میں اہم کردار ادا کرنے کے عزم سے تعلیمات دے رہے ہیں۔
چین نے بیجنگ میں بیس روز اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ او آئی سی اسلامی دنیا کی سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے اور چین ہمیشہ اسلامی ممالک اور او آئی سی کے ساتھ تعلقات کو اسٹریٹجک اہمیت دیتا رہا ہے۔
وانگ یی نے سنکیانگ سے متعلق امور اور تائیوان کے مسئلے پر اسلامی ممالک اور او آئی سی کی جانب سے چین کی بھرپور حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس لے جانے کی مخالفت کرتا ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ چین اور او آئی سی کے ممبر ملکوں کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت باہمی تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔ علاقائی تنازعات کے سیاسی حل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وانگ یی نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور او آئی سی کو اقوامِ متحدہ کے کردار اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا احترام کرنا چاہیے اور عالمی سطح پر منصفانہ طرزِ حکمرانی کے قیام میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم ’وَن چائنہ‘ کے اصول کی حامی ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنکیانگ میں ترقیاتی منصوبے خوش آئند ہیں اور او آئی سی چین کے ساتھ شراکت داری میں اضافے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے۔
انہوں نے فلسطین کے مسئلے کے جامع، دیرپا اور منصفانہ حل کے لیے چین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چین آئندہ بھی اس حوالے سے مزید مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
چین نے بیجنگ میں بیس روز اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ او آئی سی اسلامی دنیا کی سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے اور چین ہمیشہ اسلامی ممالک اور او آئی سی کے ساتھ تعلقات کو اسٹریٹجک اہمیت دیتا رہا ہے۔
وانگ یی نے سنکیانگ سے متعلق امور اور تائیوان کے مسئلے پر اسلامی ممالک اور او آئی سی کی جانب سے چین کی بھرپور حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس لے جانے کی مخالفت کرتا ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ چین اور او آئی سی کے ممبر ملکوں کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت باہمی تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔ علاقائی تنازعات کے سیاسی حل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وانگ یی نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور او آئی سی کو اقوامِ متحدہ کے کردار اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا احترام کرنا چاہیے اور عالمی سطح پر منصفانہ طرزِ حکمرانی کے قیام میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم ’وَن چائنہ‘ کے اصول کی حامی ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنکیانگ میں ترقیاتی منصوبے خوش آئند ہیں اور او آئی سی چین کے ساتھ شراکت داری میں اضافے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے۔
انہوں نے فلسطین کے مسئلے کے جامع، دیرپا اور منصفانہ حل کے لیے چین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چین آئندہ بھی اس حوالے سے مزید مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔