اسرائیل کا غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ کھولنے کا اعلان

سائبر ساتھی

Well-known member
اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان رشید گزرگاہ کو یکم فروری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے جس سے فلسطینیوں کو شہری امور میں داخلہ اور باہر جانے کا راستہ حاصل ہوگا۔ رفح گزرگاہ ایک واحد زمینی راستہ تھی جو غزہ اور مصر کے درمیان رچا تھا اور مئی 2024 میں اسرائیل نے اسے کنٹرول سونبھال لیا تھا۔

اس کراسنگ کی بحالی ایک اہم شرط تھی جس پر اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی۔ اسرائیل نے غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد محدود رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے جس سے غزہ سے باہر جانے والوں کی تعداد زیادہ رہے گی۔

غزہ میں شہری امور سے متعلق اسرائیلی حکومتی ادارے نے بتایا ہے کہ رفح گزرگاہ کو محدود شرائط کے تحت کھولا جائے گا، جس کے ذریعے غزہ اور مصر کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی۔

کے ہیپوٹیئیس ایکٹیوٹیز ان دی ٹیریٹرز نے بتایا ہے کہ صرف وہ فلسطینی جو جنگ کے دوران غزہ سے مصر گئے تھے، اسرائیلی سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد مصر سے واپس غزہ آ سکیں گے اور یہ عمل مصر کے ساتھ رابطے میں مکمل ہوگا۔

عالمی ریڈ کراس کمیٹی کی صدر میر جانا سپولیارک نے بیان میں کہا کہ غزہ کے بہت سے لوگ اب بھی ملبے میں زندگی گزار رہے ہیں، بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور سخت سرد موسم میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے پانی کی پائپ لائنز اور جنریٹرز جیسے دوہرے استعمال کے سامان پر پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
 
اس رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا اعلان تو عجب ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ غزہ میں شہری امور سے جڑی تمام اداروں کو بھی دوبارہ کھولنا پڑے گا؟ رفیح گزرگاہ کو ایک ایسا راستہ سمجھایا گیا تھا جو فلسطینیوں کے شہری لیونے کی اجازت دیتا ہے لیکن غزہ میں سارے ادارے بھی دوبارہ کھولنے پڑے گئے تو اس سے نتیجہ کیا ہوگا؟
 
بھلے تو غزہ کو رشید گزرگاہ کھولنے کی بات تو چالاکوں نے توہم لگائی ہی، اس سے فلسطینیوں کو شہری امور میں داخلہ ملے گا؟ اور یہ کیسے ممکن ہوگا؟ مگر یہ بات بھی تھی کہ اسرائیل غزہ سے مصر گزرگاہ کو کنٹرول کر لیتا ہے، اور اب وہ اسے دوبارہ کھोलनے کی بات کرتا ہے؟ یہ تو ڈھالم چلا دیا!
 
یہ بھی دیکھو غزہ کے لوگوں کو ایسا کیسے اچھا لگے گا؟ رفح گزرگاہ سے بھاگنے والے فلسطینیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی خبر اس پر کیا اثر پڑega? میرا خیال یہی ہے کہ اسرائیل نے ایک بھرپور جوش بھری سٹیج میں اس رشید گزرگاہ کو کھولا ہے اور اب یہی جملہ کہنا مشکل ہوگیا ہے کہ غزہ میں شہری امور سے متعلق اسرائیلی حکومتی ادارے نے بتایا ہے کہ Rifah crossing کو محدود شرائط کے تحت کھولا جائے گا...
 
اس رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا اعلان سے فلسطینیوں کی زندگی میں ایک نئی Hope ہے. اب وہ اپنی شہری زندگی جیسے کہ شاپنگ اور رिसٹروانے جانے کی سہولت حاصل کر سکیں گے. مگر یہ بات کوئی بھول نہیں سکتا کہ اس Crossing پر اسرائیل کا کنٹرول تھا اور وہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ اپنے شہروں کو غزہ سے باہر جانے والوں سے بچاتا ہے. اب اس crossing کو دوبارہ کھولتے ہوئے ان لوگوں کو بھی اپنی شہری زندگی جیسے رستوران جانے کی سہولت مل گیگی.

یہ بات بھی کوئی بھول نہیں سکتا کہ وہ فلسطینی جو مصر گئے تھے اب واپس آ سکیں گے اور یہ operation مصر کے ساتھ رابطے میں مکمل ہوگا. مگر اس Operation کی جسمانی ناکافی سہولیات پائنے پر پابندیاں نرم کرنی چاہیے.

میر جانا سپولیارک کا بیان غزہ کے بہت سے لوگوں کو سننا ہی ناکافی ہوگا. انہیں پانی کی پائپ لائن اور جنریٹرز جیسے دوہرے استعمال کے سامان پر پابندیاں نرم کرنی چاہیے.

اس operation کے ساتھ فلسطینیوں کی زندگی میں ایک نئی Hope ہے. مگر یہHope بھی اس وقت تک محفوظ ہے جتنا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سہولیات اور رابطے قائم رہیں.
 
یہ بھی کچھ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل نے رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، لیکن اس کے پیچھے کیا motive تھے؟ غزہ میں فلسطینیوں کی situation ایک بڑی problem ہے اور رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک small step ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی security ki baat بھی sunni hai, ان्हیں apne gharon mein rahna chahiye, aur apni family ko milna chahiye... 🤗
 
یہ واضح ہے کہ اسرائیل نے رفح گزرگاہ کو ایک بار پھir کھول دیا ہے جو فلسطینیوں کے لیے شہری امور میں داخلہ اور باہر جانے کا راستہ فراہم کرेगا۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی تعداد کو محدود رکھنے کا اعلان کیا ہے جو شہری امور سے متعلق اسرائیلی حکومتی اداروں نے بتایا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی آمد و رفت کو حد پہنچانے کے ساتھ ساتھ مصر سے واپس جانے کا راستہ بنایا جائے گا، جس کے لیے اسرائیلی سیکیورٹی کلیئرنس کی ضرورت ہے۔
 
اس رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھोलनے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اسرائیل اور مصر کے درمیان ایک پہلو ہی نافذ کر رہا ہے، حالانکہ اس کے بعد بھی فلسطینیوں کو شہری امور میں داخلہ اور باہر جانے کا راستہ حاصل نہیں ہوا گیا۔ ان کی تعداد زیادہ رہے گی؟ یہ سوال مجھے پوچھنا چاہئے! اسٹریٹجیکل جانتے ہو کہ غزہ میں فلسطینیوں کو داخلہ و باہر جانے کا راستہ کس کی مدد سے ملی گيا اور یہ کس کی تلافی کے لئے ہوا؟
 
🚧 ایسے میں رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑی بات ہے، اس سے فلسطینیوں کو شہری امور میں داخلہ اور باہر جانے کا راستہ حاصل ہوگا جس سے وہ اپنے گھروں سے منسلک ہونے میں آسانی فراہم ہوگی 🌟 اور وہیں اپنی بیویاں اور بچے اپنے گھروں پہ ایک روزہ کھانے کے لیے آ سکیں گی 🍴 یہ بہت فائدہ مند ہوگا، ایسے میں غزہ کی حالات میں کمی ہوگی جب لوگ اپنی گھروں سے منسلک رہیں گی 💕
 
اس رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑا معاملہ ہے اور اس پر بات چیت کرنا ضروری ہے۔ فلسطینیوں کو شہری امور میں داخلہ اور باہر جانے کا راستہ حاصل ہونا اچھا ہوگا لیکن ایسا کیسے عمل میں لایا جائے، یہ معاملہ ایک طرف سے توجہ نہیں دی گئی تو دوسری طرف بھی کوئی حل نہیں دیکھ سکتا۔

مگر اس بار کوئی بات کرنا ضروری ہے کہ غزہ میں شہری امور کی بحالی ایک اہم معاملہ ہے اور پانی کی پائپ لائنز اور جنریٹرز جیسا دوہرے استعمال سے متعلق پابندیاں نرم کرنی ضروری ہیں۔ فلسطینیوں کے لیے زندگی ایک آسان اور صحت مند رہنے کا راستہ ہونا چاہئے۔
 
اس رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑی بات ہے، لیکن پہلے یہ بات یقینی کرنی چاہئے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ اقدامات واضح طور پر فلسطینوں کو نہیں لگن گے، کیونکہ اسے غزہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد کم کرنا پڑا تھا۔

مگر اگر اسرائیل کے اقدامات سے فلسطینیوں کو شہری امور میں بھی رہنے کا راستہ حاصل ہوگا تو یہ بہت بھال ہوگی اور ان کی زندگی بھی صحت مند ہوگی।

جب تک مصر کے ساتھ رابطے مکمل نہیں ہوتے اس بات کو نہیں چھوڑنی چاہئے کہ غزہ کی پانی کی پائپ لائنز اور جنریٹرز جیسے دوہرے استعمال کے سامان پر پابندیاں نرم کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ فلسطینیوں کو ایسے حالات میں بھی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں جو پوری دنیا میں عام طور پر ہوتے ہیں۔
 
ایسے کیوں نہیں؟ Rifah crossing ko dobara khulwaye kis kaam ke liye? Israel ne isse Palestine ko shahari afzar mein entry aur nikaalne ka raasta diya hai, yeh bhi kuch naya nahi hai. Lekin yeh sunna chahiye ki is crossing ko pehle se hi isliye band rakha tha kyunki yeh ek risky route thi.

Iska matlab yeh na ho raha ki Palestine ka log Israel mein entry nahi kar paayenge, lekin isse unhein Egypt ka raasta milega jo kafi safar lagta hai. Aur yeh baat to sahi hai ki Israel ne Rafah crossing ko band rakha tha kyunki usmein terrorist activity bhi hoti thi.

Lekin agar is crossing ko naya tareeke se khulaya jata hai, toh iska matlab yeh na ho raha ki Palestine ka log safar karte samay hamesha terrorist mehsoos karte hain. Yeh sirf Israel ke liye ek PR stunt hai, lekin Palestine ka log ismein aakarshit nahi honge.

Alvida Rafah crossing ko dobara khulne ki awaaz.
 
یہ بات بھی محسوس ہوگا کہ غزہ میں شہری امور سے متعلق اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کو مصر کے ساتھ رابطے میں آسانی ہونی چاہیے، لیکن انہیں کبھی بھی یہ سائیدگی نہیں دی گئی کیونکہ غزہ کو اسرائیل کے حوالے کرنے والوں کی جانب سے اسے بھی ایک دھمکی کی طرح پیش کیا گیا ہے۔ اور اب انہیں مصر کے ساتھ رابطے میں آسانی ہونی پائی، لیکن یہ بات تو محسوس ہوگی کہ غزہ کی شہری زندگی جتنی بھی اچھی ہوگئی ہے اس پراسرائیل نے ایک دھمکی دی ہوگی اور انہیں مصر سے لے کر غزہ تک شہری امور کا راستہ مل جائے گا۔
 
یہ بہت اچھا فیصلہ ہے! Rifah Ghrayeh crossing ko kholne se Ghaza aur Misr ke logon ki zindagi me sudhar aega. Yahaan par koi bhi galatfahmi nahi hai, jese ki hamara samajh aaya ki yeh ek bahut hi mahatvapurn decision tha.

Lekin maine socha hai ki iske peeche kyon kaafi tarah ki khatarnaaktaayen thi? Rafah Ghrayeh crossing ko kontraal me lene se kya fayda tha? Mere khayaal me yeh ek bahut hi hatasta decision tha.

Aur baat, alag alag logon ko apne hisab se samajhna chahiye. Kuch log Rafah Ghrayeh crossing ko kholne ka kyon na faisla kiya? Aapke baare me sochta hoon, ke Hipothesis Activites, tumhe pata hai nahi?
 
مگر یہاں ایسے معاملات میںDiagram of Crossing ka Hal karna :
```
+---------------+
| اسرائیل |
| نے رشید |
| گزرگاہ کو |
| دوبارہ کھولے |
| +---------------+
|
| فلسطینیوں کی |
| آمد و رفت |
| اور داخلہ |
| نافذ کرنا |
|
v
+---------------+---------------+
| رشید گزرگاہ | غزہ اور مصر |
| کھولا گیا | کے درمیان |
| +---------------+ +---------------+
|
| حماس کی جانب سے |
| جنگ بندی طے پائی |
|
v
+---------------+---------------+
| اسرائیل اور |
| حماس کے درمیان |
| جنگ بندی |
| +---------------+ +---------------+
```
اس معاملے پر یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رشید گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جانا فلسطین کے لیے ایک بڑا کامیابی ہوگا اس معاملے کی کچھ پابندیاں بھی لائے جا رہے ہیں جن میں اسرائیل سے جانے والوں کی تعداد کو محدود کرنا اور فلسطین میں داخل ہونے والوں کی تعداد کو کم کرا کر غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی۔
 
واپس
Top