اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ میں 70 ہزار فلسطینوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی

بیک پیکر

Well-known member
غزہ جنگ میں تقریباً 70 ہزار فلسطینوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ایسے حالات میں ہوئی جب اسرائیل نے غزہ کی صحت حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار پر شک کا اظہار کرتا رہا تھا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے اب بھی غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں وہی تخمینہ اختیار کر لیا ہے جو غزہ کی وزارت صحت اور اقوام متحدہ طویل عرصے سے درست قرار دیتے آ رہے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے 480 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی غزہ کے تباہ شدہ علاقوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت ہلاک ہونے والوں کے نام اور عمریں بھی جاری کرتی ہے، تاہم وہ شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کرتی، البتہ اس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ اور دیگر بڑے میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ جمعرات کو سینئر فوجی حکام کے ساتھ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ فوج کے اندازے کے مطابق جنگ کے دوران تقریباً 70 ہزار غزہ کے باشندے مارے گئے جب کہ لاپتہ افراد اس میں شامل نہیں ہیں۔

اگرچہ اسرائیل نے غزہ کی صحت حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار پر شک کا اظہار کرتا رہا تھا لیکن اس سے قبل وہ اقدامات کر چکے تھے جن سے اسرائیل کو غزہ کی صحت حکام کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو بھی ملتا تھا۔

اسلامی دنیا میں اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ میں تقریباً 70 ہزار فلسطینوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے جس سے اسرائیل کے خلاف بھرپور مظاہرے اور تحریکی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
 
😱🤕 یہ واقعات دیکھ کر مجھے بھی دُباؤं لگ رہی ہیں اس کی ایسے حالات میں تو اعداد و شمار پر شک کرتا رہا تھا اور اب یہ کہیں چلا گئے، غزہ کی وزارت صحت جب بھی بتاتی ہے تو اس کے بعد سے یہی تخمینہ رکھتا رہتا ہے، ان لوگوں کو مٹانے والی پھرکیں دیکھنی ہی بھارپور نہیں ہیں تو کیا اس طرح کی اقدامات کرنا چاہتے ہو؟ 😔
 
یہ سب ایک حیرت انگیز واقعہ ہے جس پر انسان کو سوجھنا پڑتا ہے۔ اسی طرح کی جنگوں میں کسی بھی طرف سے جانے والی معلومات کو ایک دوسری طرف سے مسترد کرتے ہوئے بھی اسی طرح کی خمیازتیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ بات اس وقت تک کوئی نہیں بتا sakta جو آؤٹ ہوگیا ہے کہ واقعات کیسے اور کس طرح پیش آتے ہیں۔ مگر ایک بات بھی یقینی ہے اس جنگ میں زیادہ سے زیادہ فلسطینوں نے اپنی جان کھو دی ہے جو ان کے لیے ایک حیرت انگیز اور گمشدہ ہیڈنسٹامپ ہے۔
 
اس غزہ جنگ کی حقیقت پڑھنے کے لئے بھی ایسا وقت آ چکا ہے جب اسرائیل نے 70 ہزار فلسطینوں کو ہلاک کر لیا ہو وہ اس میں چھپ جانا چاہتا ہے۔ تاہم اب ایسا لگ رہا ہے جیسے اسرائیل نے اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا ہو اور اس کی نئی تاریخ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہو۔ یہ ایک لڑائی تھی جس میں بہت سے نوجوان اور عورتیں شہد کی آگ میں گئے تھے۔
 
یہ گنجان جھٹلے کی بات ہے، اسرائیل کے بعد بھی غزہ کی صحت حکام نے ایسا بھی کیا ہوگا۔ وہاں ایک سے زیادہ ہزار فلسطینوں کے مارے جانے کی گھنٹی ہوتی رہی ہے۔ اور اب ان کی تعداد تقریباً 70 ہزار پہچانی گئی ہے! یہ کیا چرچا ہوا ہے؟ غزہ کی صحت حکام کھڑے تو دکھائی دیتے ہیں کہ وہ کیا بتاتے ہیں اور وہ کیا چلائے باندھتے ہیں؟
 
🤯 اورھی غزہ جنگ میں فلسطینیوں کی یہ دیرپا تعداد کیا کس پہ بھی نہیں تھی؟ 71 ہزار سے زائد فلسطینی جا چکے ہیں۔ ان میں 480 سے زیادہ امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے بھی شامل ہیں۔ اور یہ تو غزہ کی وزارت صحت کا ان کے نام اور عمریں جاری کرتی ہے!

غزہ جنگ میں فلسطینیوں کی یہ تعداد ایسے حالات میں آی ہوئی ہے جب اسرائیل نے غزہ کی صحت حکام پر شک کرتا رہا تھا۔ لیکن وہ سچائی کے سامنے کیسے چل پاتے؟

غزہ جنگ میں فلسطینیوں کی یہ تعداد ایک خوفناک حقیقت ہے۔ اور یہ تو اس کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ کی صحت حکام پر کوئی احتیاط نہیں لیا ہے۔

📊 اسی طرح غزہ جنگ میں فلسطینیوں کی یہ تعداد کا تعلق ان کے عمریں سے بھی لگ رہا ہے۔women اور بچوں پر مشتمل اکثریت!

📊 اور یہ بھی کہتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اپنے اندازے کے مطابق تقریباً 70 ہزار فلسطینیوں کو مار ڈالا ہے!

🚨 اور یہ تو اس سے قبل وہ غزہ کی صحت حکام کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو بھی ملتا تھا؟ اس کیا مकسد تھا؟
 
اس Gaza ki situation bahut galat hai 🤕. Israel ko is baat ka sammaan karna chahiye, 70 hazaron se zada log mar gae hain, yeh to bhi sahi numbers nahi hain. Ministry of Health ke aapne apni galti rakh di hai, woh khud batati hain ki sabse zyada log bachon aur khواتin mein the. Ab kuch log unki baat ko lekar protest kar rahe hain, to chaliye Israel bhi iska sammaan kare aur koi aur galti na kare 🤞
 
اس دuniya mein kuch toh bhi hai jise hume pehchan nahi aata, yeh 70,000 ka number kaisa hota hai? Kya humein yah pata chalta tha ki Gaza mein jo ladai ho rahi thi wo itna haanikarak hui thi? Yeh toh ek darwaaza hai apne jeevan ko samajhne ke liye, agar humein yahaan se koi cheez nahi milta toh hamara sawal yeh ban jaata hai ki agle baar kya karenge?

Mujhe lagta hai ki iss baat par zyada aavashyak hai ki hum apne aap ko samajhein, kitna humari apni zindagi mein sakht hai? Kya humein pata chalta tha ki hum yahaan tak aaye hain, ya fir hamara koi ilaza nahi hoti?

Aur agar hum yah dekhte hain ki Islamik dunia ne Israel ko 70,000 ka number mana liya toh zaroor ek cheez hai. Lekin main sochta hoon ki is baat par bhi zyada mahatvpoorn hai ki hum apne aap ko samajhein aur kisi bhi tarah ke darwaaze ko band kar dein.

Iss duniya mein humein ek saath rahna chahiye, agar hum kisi bhi tarah se alag rhte hain toh humari zindagi ka koi mahatv nahi hota.
 
اس کی خبر سن کر میرا لگتا ہے کہ یہ عالمی سامع ہو کر چکا ہے، غزہ جنگ میں کتنی زبردست تعداد میں فلسطینی اور اس سے متعلق واقعات، اعداد و شمار کیا ہوا ہے؟ یہ بھی تیز دھن پر لائی گئی رپورٹ کی جانب سے واضع نہیں ہے کہ یہ واقعات اس وقت ہوئے جب اسرائیل نے غزہ کی صحت حکام کی جانب سے اعداد و شمار پر شک کرتا رہا تھا؟ یا یہ کہ ہر ایک کے پاس اپنی فیکٹ سیکیورٹی کے ساتھ انصاف اور عقل کا استعمال کرنا چاہئے۔

اس کے بعد سوالات پیدا ہوتے ہیں، اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں کیا کچھ ناقص ہوا یا اس پر کیا نقطہ نظر ہے؟ انصاف اور عقل کا معاملہ یہ نہیں بلکہ ایک سیاسی تحریک کی شروعات ہوئی ہے، اورPolitical تحریقی جسمانی و ماحولیاتی نقطہ نظر سے بھی دیکھنا ہوگا۔
 
مریضوں کو لگاتار دبایا جا رہا ہے 🤕 اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی اٹھتی ہے وہ بھی جو غزہ کے تباہ شدہ علاقوں میں رہتے ہیں اس لیے وہ بھی دبایا جاتا ہے اور ان کی تعداد بھی اٹھتی ہے پورا ملک آگ لگانے کی صورت میں کوئی اقدامات نہیں کرتا یہاں رہنے والوں سے زیادہ ان شہروں کے لوگوں کو بھی اچھا سہارا ملتا ہے تو کیوں نہیں دبایا جاتا
 
ਮੈں تو اپنی بچپن کے دنوں سے ہی اس غزہ جنگ کے بارے میں सنا تھا، جس نے ایک پلیٹو کو ختم کر دیا تھا اور اس پر کئی سال تک پانی بھر رکھا تھا। اب 70 ہزار فلسطینی مارے گئے ہیں، یہ تو ہلاکتوں کی سگنالم ہے لیکن ایسے حالات میں جب اسرائیل نے غزہ کی صحت حکام کی جانب سے اعداد و شمار پر شک کیا تھا، تو میرا یہ سوال تھا کہ پہلے بھی نہیں تھا؟

اس وقت ابھی بھی اس کی جڑیں رکھی ہیں، غزہ کے تباہ شدہ علاقوں میں دبے ہوئے لوٹے ہیں، اور اس بات پر بھی ناکام ہونے کا یہ عزم ہے جس سے اسرائیل کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔
 
اس گھنے صورتحال کو سمجھتے ہیں تو یہ جاننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کیا پورا غزہ جنگ اسرائیل کی فوج کی ایک بڑی اور دہشت گرد حملہ آور تھی یا کہیں نا کہیں ایسے واقعات ہوئے جس سے یہ حقیقت بن گئی کہ فلسطینیوں میں 70 ہزار تک نقصان ہوا۔ اس بات کو تو یقین نہیں ہوتا کہ وہ تمام واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے Israel کی فوج کو ایک ایسا واقعہ پیش کیا جس سے وہ اپنی اقدامات میں معتدل ہو سکے۔
 
اس گزت کی غضب پر جو شہد نہیں ہو سکتا ہے وہ ایسے فلسطینیوں میں پھیل رہا ہے جن کو گواہ انکار کرتے ہوئے بھی ان کا کرم کرنا پڑتا ہے۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ جنگ کتنے غم و س Sor میں ہوئی، اور کتنے فلسطینی ملا بھی ہو گئے؟ اس سے پتہ چل گیا ہے کہ اسرائیل کی فوج نے غزہ میں 70 ہزار فلسطینوں کو مارا ہے، اور اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ان کی ایسی صورت یقینی طور پر نہیں تھی۔
 
اس غزہ جنگ کی بات کو سمجھیں تو یہ بہت گھینٹی بات ہے، اب تک اس جنگ میں کیے گئے ہلاکوں کا ایک اور ٹوٹا ہوا اعداد و شمار آ رہا ہے تو یہ بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ اسرائیل اپنی فوج کی پوری حد لگائی چکا ہے اور اب وہ دیکھ رہا ہے کہ اس بات کو بھی تسلیم کر لیں کہ غزہ میں کئی تیریں ہلاک ہوئی ہیں۔
 
اس غزہ جنگ میں فلسطینوں کی جان لگنے کی تعداد ہزاروں ہو گئی ہے، ان کا دماغ ہٹ گئا ہے۔ یہ واقف ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی معقول نہیں ہوتا، ایسے حالات میں بھی آپ اس کی سزا دی جاتی ہے۔

اسے پچھوں کی ओर دیکھنا چاہئے کہ یہ جنگ کب اور کیسے شروع ہوئی؟ ان کے لئے یہ سب سے بڑا معاملہ ہے، مگر اس پر غور کرنے کی زماں نہیں تھی اور اب نہیں ہے۔
 
واپس
Top