اسرائیلی صدر کی آسٹریلیا آمد پر احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

مور

Well-known member
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کی آسٹریلیا کے دورۂ کے خلاف لوگوں میں جھڑپیں، مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید تنازعات دیکھنے کو آئیں۔

ملک بھر میں فلسطین کے حامی لوگوں نے پیر کی شام میں منظم احتجاجی مظاہرے کیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ انھوں نے غزہ میں قتلِ عام پر اسرائیلی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سڈنی میں بونڈی بیچ پر ہنوکا تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے پر غضب و غصہ جھیلے۔

سڈنی پولیس نے مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی، ہیلی کاپٹر فضا میں گشت کر رہے اور گھڑ سوار پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود رہے۔ انھوں نے کالی مرچ کے اسپرے اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے اور جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

اس دورۂ کے مقصد سے علاوہ، انھوں نے آسٹریلیا کی یہودی برادری سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ تاہم، اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کی پہنچتے ہی ملک میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل آئے اور انھیں غصے اور تنقید کا نشانہ بنایا۔
 
یہ سڈنی کا ایک عجیب واقعہ ہے! مظاہرے سے قبل میں نے دیکھا تھا کہ آسٹریلیا میں فلسطین کی پیروکاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ان کے مظاہرے بھی بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں!

مظاہرے سے پہلے میں نے ویکسٹار ٹرانزیشن کے مطابق آسٹریلیا کی فیڈریشن آف ایسیز نے کہا تھا کہ 60 فیصد سڈنی میونسپل سیٹی کے رہائشی فلسطین کی پیروکار ہیں!

اس کے علاوہ، اس دورۂ پر بھی 22 اگست کو آسٹریلیا میں فلسطین کے حامیوں نے ایک رپورٹ جاری کی تھی، اس میں لکھا تھا کہ آسٹریلیا میں فلسطین کی پیروکاروں کی تعداد 1.3 ملین سے بڑھ کر 1.5 ملین بن گئی ہے!

اس کے علاوہ، ویکسٹار ٹرانزیشن کے مطابق آسٹریلیا میں فلسطین کے حامیوں نے اس دورۂ سے قبل بھی 20 لاکھ سے زائد مظاہرے منشہ کیے ہیں!

اس دورۂ کو دیکھ کر میں سمجھتا ہوں کہ آسٹریلیا میں فلسطین کی پیروکاروں کی تعداد اور احتجاجی مظاہرے بڑھ رہے ہیں!
 
اس دورۂ کے بعد ہونے والے مظاہرے اور جھڑپیں تو ایسی تھیں جن سے آپ کو حیران رہ جاتا ہے، لگتا ہے کہ لوگ اسے ایسا کرنا چاہتے تھے جو ان کے خلاف تنقید کرنے والوں سے زیادہ شدید ہو 🤔

اس کے علاوہ، یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ آسٹریلیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اسرائیل کی اِستعفیٰ سے انکار کرنے والوں کی طرف سے اس پر دکھ کرتے ہیں، مگر انھیں یہاں ایسا نہیں ملتا جیسا کہ اس میں ہونے والی تردیدوں کی وجہ سے، لگتا ہۈں اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہیں لوگوں کی حقیقت کو سمجھنے میں دیر ہوتی ہے، کیا آپ نے انھوں نے آسٹریلیا کی یہودی برادری سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا؟
 
اس دورۂ کی ایسے دن ہیں جب مظاہرین کے تہاڀوں میں تلوار ہی رہتی ہے. آسٹریلیا اور اسرائیل دونوں کے درمیان ایسے ساتھیوں نہیں رہتے جو ہر توجہ پکڑنے والی بات کو انھوں نے توازن میں رکھا. ملک بھر میں فلسطین کی حوالہ لگائے بغیر لوگ کیسے ہوجاتے ہیں. اس دورۂ سے پہلے آسٹریلیائی رہنماؤں نے ملک میں غنوت کا نشانہ بنے. 🚫
 
اس دورۂ کی بے پناہ سرگرمیوں میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو بھی اپنے ساتھ لے کر جانی پڑی!

مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں دیکھنے کو نہیں آئی، مگر ان لوگوں کی بات سے بات ہونے پر لگتا ہے کہ فلسطین کی آزادی اور غزہ میں قتلِ عام پر اسرائیلی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

اس وقت یہ بات سچ میں نہیں لگتی کہ آسٹریلیا کی یہودی برادری سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا، مگر ان لوگوں کو بھی غصے اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا،

اب اس دورۂ کے مقصد کو کس طرح پورا کیا جائے گا؟ نہیں بتایا گئے!
 
اس دورۂ کی وہ فریینڈشپ تھی جو کہ سب سے زیادہ مشہور تھی انھوں نے ایسا نہیں کیا جو کہ لوگ چاہتے تھے 🤔. یہ دورۂ پورے آسٹریلیا میں فلاسفی تھا، جبکہ اس پر مظاہر ہوئے تو وہ ایک سیاسی مظاہرہ تھا 🚫. میں یہ کہنے سے انکار کرتا ہوں کہ مظاہر کا مقصد اسرائیلی صدر کی جانب سے ہے، نہیں؟ 🤷‍♂️. مگر ایسا نہیں، انھوں نے آسٹریلیا کی یہودی برادری سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا جو کہ اچھی بات ہے 😊. مگر ایسا کیسے؟ انھوں نے اپنے دورۂ میں آسٹریلویوں سے ایک لین ہاتھ کی بھی، یا کہیں نہیں? 🤔.
 
😂 یہ دیکھنے کو بھی کچھ کچھ ہوا، آسٹریلیا میں فلسطین کی مظاہروں پر نہیں پورے ملک میں غصے اچھل گئے تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ اب یہ وہی مظاہرے ہیں جس سے پکھرے ہوئے لوگ سرزنش کرتی ہیں اور وہ تو ایسا دکھائی دیتے ہیں کہ وہ کتنی اچھی طرح سے ان کی پالین کرتے ہیں۔

اس لیے میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ مظاہرے ہمیشہ اسی لیے منعقد کیے جاتے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر غصے میں آجائیں اور سڑکوں پر نکل کے پھنسیں، وہ ایسا کیا سکتے ہیں؟
 
اس دورۂ کی جاری تاریکیوں کو نظر انداز کرنے سے پہلے، ایسا سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ مظاہرے اور تنازعات کی پوری وضاحت کیا جاسکتی ہے۔ اگرچہ فلسطین کی حامی فوجوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنی غنائی دھونے کی کوشش کی، مگر ان کا مقصد ایسا ہی نہیں تھا۔

اس دورۂ کے بعد میں، اسرائیل کی حکومت نے فلسطین کے خلاف اپنے جرموں پر خود کو کفیل بنا لیا ہے اور یہاں تک کہ اس کے دورۂ کے مقصد کو بھی انہوں نے ایسا کر دیا ہے کہ ملک کے لوگوں میں غصہ اور تنقید پیدا کی گئی ہے۔

اس دورۂ کو پچتائی جائے تو، اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کی آسٹریلیا کے دورۂ کے خلاف بھڑکوں اور مظاہرین سے دو چییزوں نکلتی ہیں۔ ایک، یہ کہ ان کی حکومت میں فلسطینیوں کے ساتھ بے حد برتاوتمسالی کیا جارہا ہے اور دوسرا، یہ کہ ان کی حکومت نے ایسی پالیسیوں کو اپنایا ہے جو فلسطینیوں کے حقوق کو نقصان پہنچائیں گے۔

ابھی تک، فلسطینیوں اور اسرائیل کی حکومت کے مابین تنازعات کا ایک دوسرا اسٹریٹجیک دور شروع نہیں ہوا ہے جو دونوں طرف کو ایسی پالیسیوں پر مجبور کرے جس سے ان کی ترجیح میں کسی بھی نقصان ہو کے بھی۔

اس دورۂ نے آسٹریلیا اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے اور فلسطینیوں کی حکومت میں ایک نئی طاقت پیدا ہوئی ہے۔

🤔
 
مुझے سڈنی کو ایک خاص مقام سمجھنے میں بہت difficulties ہوتی ہیں. آپ جانتے ہوں گے کہ وہاں کی سڑکوں پر رہائش پرندے ایک خاص طور پر چمکدے ہوتے ہیں. میرے پاس ایک فون میگولے لگے ہوئے تھے اور وہاں کی سڑکیں ایسے چمکتی تھیں کہ اس میں دیکھ کر آپ انہیں بلاوٹ کھیلنے کو نہیں ملتا تھا.

اس لیے سڈنی لوگ کیسے محسوس کرتے ہیں جب انہیں اپنا شہر دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو آپ کو اس بات کا اندازہ نہیں لگتا کہ وہ یہاں کے لوگوں کی زندگی سے کیسے روئے گے.

اسیرائیلی صدر کی اور یہ لوگ کیا جھوٹ ب Bolt بھیڑتے ہیں تو آپ کو یہ غلطی کرنا چاہیے کہ وہ شہر میں آئے ان لوگوں نے ان کی ایسے سے غلطیوں پر زبانی لگایا ہے کہ ابھی وہ سب اٹھا کر گزر جائیں گے.
 
[Image of a person throwing a water balloon at an Israeli flag]

😂🌴 آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر کی پہنچتے ہی لوگ انھیں غصے کا نشانہ بناتے ہیں؟

[Image of a person wearing a t-shirt that says "I'm with Palestine"]

مگر فلسطین کے حامیوں نے پچیس ہزار کی تعداد میں ہٹنا شروع کر دیا!

[Video of a person getting hit by a tear gas canister]

سڈنی پولیس نے اچھی طرح تیز گیس کے دباؤ سے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، لेकن وہ جو چل رہے تھے انھوں نے اس کی بات نہیں سمجھی!

[Image of a person making a peace sign with their middle finger]

اسلام کو ہٹانے والا اسرائیل؟ نہیں، یہ فلسطین کے حامیوں کی جدوجہد کو سمجھ رہا ہے!
 
اس دورۂ کی منقسیں تو تھیں، لوگوں کی غضب و غصہ بھی تھی، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ ان مظاہروں میں شامل نہیں ہوئے جن میں بھاری مرچ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا تھا، یہ جانتے ہو تو سڈنی میں ہنوکا تقریب کے دوران فائرنگ کی وجہ سے مظاہرین بھی نکل کر اٹھے ہوتے۔
 
اس دورۂ کی جھڑپیں بڑی حد تک خوفناک تھیں! سڈنی میں اس قدر بہت ہلچل پڑی ہوگئی کیونکہ فلسطین کے حامی لوگوں نے ایسا محسوس کیا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو ان کی ریپورٹنگ پر تنقید کرنا پڑی ہوگی۔

انھوں نے غضب و غصہ جھیلنے کا ایک بڑا موقع دیکھ لیا اور اس سے پہلے سے کیے گئے منظم مظاہرے میں مزید افراد شامل ہوئے جو کہ انھیں ہنوکا تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے پر غصے میں دھل گئے تھے۔

اس طرح سڈنی پولیس کو اس حوالے سے بھاری نفری تعینات کرنا پڑی اور انھوں نے کالی مرچ کے اسپرے اور آنسو گیس کا استعمال کیا جنکے بعد مظاہرین مشتعل ہوئے اور جھڑپوں کے نتیجے میں مختلف افراد کو حراست میں لے لیا گیا!
 
آسٹریلیا کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ اپنی آزادی اور حق کے لئے نکل آ رہے ہیں اور ان کی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فلسطین کے حامیوں کو اس دورۂ کی تنقید کرنے پر یقین ہے کیونکہ وہ ایسا کیا رہا ہے جو انھیں متاثر کر رہا ہے اور انھوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے سہلے طریقے سے مظاہرے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو تنازعہ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ہاضری تعینات، گیس کا استعمال اور جھڑپوں میں شہروں میں رہنے والے لوگوں کو حراست میں لے جانے سے سب KoIa koN diya jaata ہے اور یہ سب ایک ایسا معاملہ ہے جس پر انھوں نے بات کھانے کی ضرورت ہے۔
 
اس اسرائیلی دورۂ نے آسٹریلیا کی سیاسی لچک کو ٹھسک دی ہے، یہ دیکھنا خوشی کا نہیں ہوا کہ ملک بھر میں فلسطین پر تشدد کی آواز آ رہی ہے ~. ان لوگوں کو اس دورۂ سے اگے بڑھنا پڈا ہو گا جو فلسطین کے حامی ہیں وہ اپنی آواز آتے ہیں اور یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ انھیں مظالم مل رہی ہیں ~.
 
واپس
Top