uterکھنڈ میں کنورژن لاء کا معاملہ اتراکھنڈ کی عدالتوں میں پھیل چکا ہے، اس میں سے 63 مقدمات درج کیے گئے ہیں جس میں تقریباً دو تہائی معاملات کی مکمل سماعت ہوئی ہے اور ان میں سب بری ہو چکے ہیں۔
اس معاملے کا مطالعہ کرنے پر پتا چلتا ہے کہ قانون کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے، جس کی وجہ سے جوڑے کی رضامندی کے بعد جبر کے کوئی ثبوت نہیں پائے گئے اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ شکایت کنندگان کے مخالف ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو درج کرنے میں بھی کوتاہیوں کی پائی گئیں۔
سےپمیبر 2025 تک، صرف پانچ مقدمات کی مکمل سماعت ہوئی ہیں اور ان میں سب بری ہو چکے ہیں۔ ان معاملات میں سے ایک ہندو عورت کا معاملہ ہے جس نے اسلام قبول کرنے کی وعدہ دی تھی لیکن اس کے بعد اسے UFRA کے تحت تقریباً چھ ماہ جیل میں گزارے گئے تھے، 19 مئی 2025 کو اسے ضمانت دے دی گئی اور اس نے کہا کہ ریاست کو بین المذاہب شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا جو ان کی اپنی مرضی سے اور ان کے والدین کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
یہ معاملات بھارتی قانون کی ایک چلچلے پیٹ پر بھیڑ آ رہے ہیں، یہ لگتا ہۈ۔ جب تک یہ لاواں معاملات دھلیں نہیں جاتے تو ہمیشہ کوئی بہت زیادہ ان کے حق میں نہیں ہو سکتے۔ یہ معاملات دیکھ کر میں سوچتا ہوں کہ یہ لاواں قانون کی ایک گہری کمی ہے جو کہ اس کے ساتھ آ رہی ہے، یہ معاملات دیکھ کر محسوس ہوتا ہۈ کہ ان میں کوئی بھی Fairness نہیں ہوئی ہے۔
اس معاملے میں سب بچ گئے! اس نئی قانون کا مطالعہ کرنے پر پتا چلتا ہے کہ وہ بہت ہیStrict ہے، لیکن اگر ہم ایسی سائنس کھوڈھیں کہ اس قانون کو اپنی فیکٹری میں استعمال کر کے دیکھیں تو وہ بہت مہنگا اور ناکام ثابت ہو جائیں گے!
اس معاملے میں ایکے لئے دوسرے پیدہ آ رہے ہیں، حالانکہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بری ہوئیں لیکن اگر ان کی سماعت ہونے پر پتا چلتا ہو تو اچھی گویں بھی ہو گی!
اس معاملے سے تعلق رکھنے والی خاتون کو ضمانت دی گئی، یہ ایک अचھوتہ حوالہ ہے کہ وہ جیل میں تین ماہ ہی رہیں گی اور اب اسے اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہو تو اسے نا ملک کی جگہ ملک کے قانون کو لازمی بنا دیا گیا!
اس معاملے میں بھی یہی بات ہوتی ہے، جس سے کوئی متاثر ہو سکتا ہے وہ کہیں دوسرا نہ جائے!
ہمیں ایک اور بات بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ معاملے کیسے کھڑے ہوئے تو وہی بات ہو گی، اس سے کوئی ناخوشگوار بات نہیں رہ جائے!
اس معاملے میں بہت سے لوگ نے جسٹس سिसٹم کو critic کیا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اپنے حق میں ایک بات ہے کہ تقریباً دو تہائی معاملات کی مکمل سماعت ہوئی ہے اور ان میں سب بری ہو چکے ہیں...
سےپمیبر 2025 تک صرف پانچ مقدمات کی مکمل سماعت ہوئی ہیں اور ان میں سب بری ہو چکے ہیں، یہ بھی ایک بات ہے کہ جب تک جوڑا تعلقات کے معاملات میں قانون کی پابندی نہیں ہوتی تو اس سے ان لوگوں کو نقصان ہوتا ہے جو وہ بری ہونے پر مجبور ہوتے ہیں...
اس معاملے میں اگر قانون کی پابندی کرتے ہوئے ایک نئی پالیسی banana ho، تو یہ بھی ایک گود news ہو گیا ہوگا...
bas apne pasandida pasandida ki nahi sunta ye to kaise hai? uttarakhanda mein konvergence ka mudda achi tarah se nahi sahi saamne rakha gaya, sab bray hua hai to phir kya galat kaha ja sakta hai? abhi bas dekho ki kaisa court system theek se kaam kar raha hai. aur kya ye samjhaan nahi ki UFRA ke andar kya hota hai? yeh hamesha bilkul galat ho gaya.
ایسا بات نہیں توڑے کہ یہ معاملات میں قانون کی پیروی کرنے کی کوئی لازمییت نہیں ہے؟ سیکڈرٹ جیسے معاملات میں لگتا ہے کہ پریس وار بھی نہیں کرنا چاہئے، شادی اور تعلقات کا اس معاملے میں کیوں توڑنا پڑا؟
کیا یہ حقائق ہیں کہ 63 معاملات میں دو تہائی سماعت ہو چکے ہیں اور ان سب کو بری ہو گئے ہیں؟ یہ یقین دہنی ہے کہ قانون کی پابندی نہیں ہو رہی تھی، جس سے جوڑے کی رضامندی کو جبر کا ثبوت بنایا گیا اور شکایت کنندگان کے مخالف ہونے کی وجہ سے معاملات کو درج کرنے میں بھی غلطیوں کی پائی گئیں۔ میرا سوال ہے کیا یہ تمام معاملات مکمل طور پر سمجھے جاتے تھے اور صحیح نتیجے पर پہنچتے تھے؟
یہ معاملہ تو پوری طرح سے مایوس کن ہے ، قانون کا غلط استعمال تو ہوتا رہا ہے لیکن یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ ہمہ جیسے لوگ جسٹिस سسٹم میں بھی لالچ اور ناکامگی کی تریخ رکھتے ہیں। UFRA کے تحت جیل میں گزارنے والی عورت کا معاملہ تو خاص طور پر خوفناک ہے ، انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ریاست نے ان کے والدین کو بھی جبر کیا تھا ، یہ معاملات تو اس بات کی proves بن گئی ہیں کہ قانون کا غلط استعمال اور جسٹิส سسٹم میں لالچ پوری طرح سے مایوس کر رہا ہے
اس معاملے کی جسمانی صورت حال دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ جوڑوں کے درمیان باتचیت میں گمشدگی ہوتی ہے، پھر وہ جوڑا جس کے خلاف مقدمہ لگایا گیا ہے وہی بری ہوتا چلا गयا ہے اور اس کے بعد وہ شخص کو ان کی مرضی سے شادی کا امکان نہیں ملتا
ان معاملات میں پھر بھی سےپمیبر تک صرف پانچ مقدمات کی مکمل سماعت ہوئی ہیں، یہ تو کبھی کہا نہیں تھا کہ ان معاملات میں کتنے مقدمات درج ہوتے ہیں اور پھر سے کتنا عرصہ لیتے ہیں، پھر بھی اس معاملے کی جسمانی صورت حال ہمیں یہی دیکھنی پڑتی ہے۔
اس معاملے میں ان کی کیا بات ہو رہی ہے، اس نے کہا تھا کہ ریاست کو بین المذاہب شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا جو ان کی اپنی مرضی سے اور ان کے والدین کی رضامندی سے ہوئی تھی، یہ تو اس معاملے میں شادی کی بات کرنے کے لیے ایک بھرپور مشورہ لگنا چاہیے اور پھر اس پر یقین ہونا چاہیے، نہیں تو یہ معاملات میں کتنے نقصان دہ رہتے ہیں۔
مرحله سے پھر مرحلہ، یہ معاملات تو سستا گزر رہا ہے اور جسٹس سسٹم کی سماعت وغیرہ ہوا تو سب بھی بھگڑوں میں گھول گئے۔ یہ بات کوئی بھی نہیں کرتا کہ قانون کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے اور اس سے جوڑوں کی حیثیت کچل دی جاتی ہے، یہ معاملات کی مکمل سماعت ہونے پر صرف پانچ مقدمات تک پہنچے ہیں اور ان میں سب بھی بری ہو چکے ہیں، یہ تو سماج سے دیکھ رہا ہے کہ کیسے سسٹم نہ بنتا رہا۔ <img src="https://emojis.org/3.0/1f7e4.png" alt="شکایت کی بات" />
یہ معاملات کی پھرنہ کی کچھ بات تو ہمیں بتائی گئی ہے، ایک ہندو عورت کا معاملہ جس نے اسلام قبول کرنے کی وعدہ دی تھی اور اس پر UFRA کے تحت تقریبا چھ ماہ جیل میں گزارے گئے تھے، لیکن 19 مئی کو اسے ضمانت دے دی گئی اور اس نے کہا کہ ریاست کو بین المذاہب شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا جو ان کی اپنی مرضی سے اور ان کے والدین کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ <img src="https://emojis.org/3.0/1f60e.png" alt="ضمانت کی بات" />