ڈی پی او ڈی جی خان پر سابق اہلیہ کے سنگین الزامات - Daily Ausaf

شارک

Well-known member
دیرہ غازی خان کے سابق ڈی پی او صادق حسین پر ایک سنگین الزامات کی لہر چل رہی ہے، جس نے اپنے گھر میں ان سے لڑائی کا مظاہرہ کیا تھا اور ان کے بیٹے کو پکڑ کر بے دردی سے ذبح کرنا تھا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپنے گھر میں ہونے کے واقعات کو پreshان کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صادق حسین نے مجھے ت شدد کا نشانہ بنایا اور مجھے بے دردی سے ذبح کرنا چاہتا تھا، انہوں نے اپنے بیٹے کو پکڑ کر بھی اس طرح کی دھمکی دی ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کہا ہے کہ مجھے اور مجھے کی جان کو خطرہ ہے، اس لیے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے گا، انہوں نے کہا ہے کہ اگر مجھے یا مجھے کی جان کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار صادق حسین ہیں، انہوں نے اس صورت میں بھی خود کشی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صادق حسین مجھے کہتا رہا کہ معصوم بچے کو مار دو یا جگہ یتیم خانے میں چھوڑ دو، لیکن ایک ماں اس طرح نہیں کر سکتی، انہوں نے اپنے پاس مزید ثبوت بھی رکھے ہیں جو وقت آنے کے ساتھ سامنے لائے گئے ہیں۔

انہوں نے پتہ چلا ہے کہ انہیں ڈی آئی جی آپریشنز کو درخواست دینے کی جا رہی تھی، لیکن اب دیکھنا ہے کہ پولیس اپنے پیٹی بھائی ساتھ ہو رہی ہے، یا مجھے انصاف دیا جاتا ہے۔
 
🤕 یہ صورتحال کچھ بھی نہیں ہوسکتی, ایسے لئے کہ ایک ماں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے یا مارنا چاہتا ہو تو وہ اپنی بیوی کو ہی پہچان لیں گی, اور اس طرح سے آپ کو بھی ایسا ہونا پدا گا, یہ سڑک پر یہ رہا ہے کہ آپ کی جان بھگتی ہےجب آپ اپنے خواتیر کو بھگتاتے ہیں۔
 
صادق حسین پر یہ الزامات ڈالنا ایک کہانی ہے جو نہیں چل پاتی, مجھے لگتا ہے انہوں نے خود کی جان سے بچنے کے لیے یہ کھیل رہے ہیں 🤔
 
کیوں وہ شخص اس طرح کیا کر رہا ہے؟ ان کی بیٹی نہیں آنسی تو انہیں بھگتنا پڑتا? مجھے یہ بات کچھ حیران کر دی ہے کہ اس شخص نے اپنی بیٹی کو پکڑ کر بھی کیا ہے؟ اور وہ سوشل میڈیا پر ہر رات یہی بات کرتا رہتا ہے? مجھے لگتا ہے کہ ان کی جان بھی Danger میں ہے! 🤯
 
ابھی ڈی پی او صادق حسین پر الزامات لگنے کے بعد پورا شعبہ مایوس ہو گیا ہے، لیکن یہ بات سچ ہے کہ ایسے واقعات کو جاننے سے ہمیں دھمکیاں لگتی ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اس معاملے میں کیونکہ پوری کوشش ناکام رہ گئی، اور پولیس اپنے پیٹی بھائی ساتھ ہو رہی ہے تو ہمیں دھمکیاں لگتی ہیں کہ ہمیں انصاف نہ ملے گا۔
 
ایسا نہیں ہو سکتا … صادق حسین کی کیا انصاف میں مدد کی جا سکتی؟ پتہ چلا ہے وہ جیسے بھی گریویٹیز کر رہا ہے وہ ایسی نہیں آگے آتا … کیا ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ وہ کس قدر بے دردی کے ساتھ اپنے گھر میں لڑائی کی مظاہرہ کرتا ہے؟ … پتہ چلا ہے وہ جانتا تھا کہ اس طرح کی دھمکیوں سے وہ اپنے بیٹے کو بھی ایسا ہی عمل میں لانے والا ہے، اور اب وہ کیسے انصاف کا مظاہرہ کر رہا ہے؟
 
سعدق حسین کو دیرہ غازی خان کے ڈی پی او بننے کی نازک باتوں پر پتہ چل رہی ہیں... اب یہ سوال ہے کہ آرمی اور پولیس کا تعلق ہے یا ان کی اپنی پارٹی میں، وہاں تک جس سے ڈی پی او بننے والا ڈپلوما کر رہا تھا... اور اب پتہ چلا ہے کہ انہوں نے معصوم بچے کو مارنا یا جگہ یتیم خانے میں چھوڑنا سے انکار کر دیا تھا...

یہ بات کے بارے میں کہ آرمی کون سے نوبت لے رہی ہے، یہ واضع نہیں ہو رہا، لیکن یہ بات پتہ چل رہی ہے کہ ان میں بھی ایسی نوبت لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے معصوم بچے کو مارنا کا مطالبہ کیا تھا...
 
یہ تو ایک بڑا معاملہ ہے! پچیس سال کی عمر میں آگے چلنے والی کوئی رہنمائی دے سکتا ہے؟ ان کا حال بھی نہیں تھا، اب تو یہ کہتے ہوئے پورے ملک میں گھوم رہے ہیں اور پوری دنیا سے ان کی طرف دیکھ رہی ہے؟

اس معاملے کا جواب دینے سے پہلے، اس سنگین الزامات کو سامنے لانے سے پہلے یہ بات کوئی اور نہیں بنائی جاسکتی کہ ان کا کیا حال تھا؟ ان کے بیٹے کو پکڑ کر بھی کیسے ہوا، ان کی جان کو کس طرح خطرہ تھا؟

اب یہ ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام لگایا گیا ہے جو پوری دنیا کو دیکھنے کو ملا ہے، اور اب جب وہ اس معاملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہو رہے ہیں تو یہ کہتے ہوئے پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں؟

اس معاملے سے لے کر یہ تک پہنچنا، یہ ایک بڑا معاملہ ہے اور اس کو حل کرنے کے لیے یہ بات کوئی اور نہیں بنائی جاسکتی کہ ان کے خلاف کیا الزامات لگائے گئے ہیں؟
 
اللہ تازہnews میں سامنا کیا ہے جو کہ کچھ لوگ اپنے گھر میں لڑائی کر رہے ہیں اور اسے پوری دنیا کو دکھایا کرتے ہیں۔

اس سنگین الزامات پر توجہ دیتے ہوئے جو صادق حسین پر لگائی جا رہی ہے تو یہ بھی بات ہے کہ کسی اور جیسا بھی واقعہ ہوا تو اس کی جانب توجہ دیتے ہوئے نہیں چلتے ۔

ہمیں اپنے شہر کی安全تہ کے لیے بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے اور اس میں انصاف کو حاصل کرنا بھی ایکPriority ہے۔
 
ایسے حالات کے لئے ایک جواب نہیں ملتا جیسے صادق حسین نے اپنے بیٹے کو پکڑ کر ذبح کرنا تھا، اس سے زبردست ڈر لگتا ہے؟ اور وہ مجھے کیسے ت شدد کا نشانہ بنائے گیا؟

جس لوگ ایسے کارروائیوں میں شامل ہوتے ہیں ان کی جانب سے معافتی کی دوڑ شروع کرنے کی کوئی تنگیت نہیں، بلکہ انھوں نے اپنی ذمہ داریوں کا پورا جھٹکا کیا ہے اور اب وہ مریم نواز سے آؤٹ لینے کی کوشش کر رہی ہیڹ۔

لیکن وہ جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے، ایسا ہی ہوگا اور جس نے اپنے بیٹے کو پکڑ کر ذبح کرنا تھا وہ اسی طرح کا سامنا ہونے والی دوسری کیس میں بھی اےچیوٹی پاتے ہیں۔
 
واپس
Top