اوپر کی جانب بہنے والا دریا؟ صدیوں پرانا راز کھل گیا

ادبپرست

Well-known member
گرین دریا، جو امریکا کی ریاست یوٹاہ میں واقع ہے، یہاں تک کہ اسے آج بھی ماہرینِ ارضیات نے ایک ماحولہ بنایا تھا جو یہ سائنس دانوں کو دلچسپیت کی بات ہے۔

انہیں پتہ چلا کہ اس دریا نے تقریباً آٹھ لاکھ برس سے اپنے موجودہ راستے پر بہر رہا ہے جب کہ یونٹا پہاڑی سلسلہ تقریباً پانچ کروں برس قدیم ہے۔ تاہم، یہ دریا اس پہاڑی سلسلے کو چیرتا ہوا کولوراڈو دریا سے جا ملتا ہے اور ایک گہری وادی بناتا ہے جو پہاڑوں کے رخ کے بالکل الٹ سمت میں واقع ہے۔ اس منظر نے طویل عرصے تک یہ تاثر دیا کہ شاید دریا کبھی اوپر کی جانب بہا ہو۔

اب، ایک صدی سے ماہرینِ ارضیات کے لیے، یہ راز سے پردہ اسکاٹ لینڈ کی گلاسگو یونیورسٹی کے ماہر ارضیات ایڈم اسمتھ اور ان کی تحقیقاتی ٹیم نے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق، حقیقت میں دریا اوپر کی طرف نہیں بہا بلکہ ماضی میں پہاڑی سلسلہ عارضی طور پر نیچے بیٹھ گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق، زمین کی اوپری تہہ کے نیچے موجود بھاری معدنی مادہ اتنا وزنی ہوگیا کہ وہ نیچے پگھلی ہوئی تہہ میں ٹپک گیا۔ اس عمل کو ارضیاتی زبان میں ’’زمین کی تہہ کا ٹپکاؤ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس ٹپکاؤ کے باعث یونٹا پہاڑی سلسلہ چند لاکھ برس کے لیے نیچے دھنس گیا جس سے گرین دریا کو پہاڑوں کو کاٹ کر بہنے کا موقع ملا۔

اسٹریٹیجیک ایکشن کے بعد، جب یہ بھاری مادہ مکمل طور پر الگ ہوگیا تو پہاڑ دوبارہ ابھر آئے اور دریا کے اردگرد تقریباً چار سو میٹر تک بلندی پیدا ہوگئی جس سے آج کی گہری وادی وجود میں آئی۔

زلزلوں کی لہروں کے ذریعے زمین کے اندرونی حصوں کی تصویربرداری سے معلوم ہوا کہ پہاڑوں کے نیچے غیر معمولی طور پر ایک گول اور ٹھنڈا مادہ موجود ہے جو اس ٹپکاؤ کا ثبوت ہے۔
 
agr yeh rasa aazma karein toh maan lijiye ki graen deelah ko yaha tak pehli baar uske asal se pehle kya vikaal hua tha? kuch baat kaafi badi hai, ek duniya mein pehli baar graen deela 8 laakh varsh pehle usi tarah ki tareehe par pata laga gaya tha. aur yeh bhi sach hai ki us samay ke liye unka rasta asal se hua tha.

aur tabhi ek saal pehle ghar graen deela mein ek aisi gulaami wali cheez ko aazma diya gaya tha jisni ko maan lijiye ek mahan jaduit kaha jaata hai, kyonki vah usi gulaami se kuch aur bhi badi cheezein dekhti rehte hain.

aur ab tak graen deele ke raste ki pehli baar sachayi pahunch gayi thi. yeh rasa kaafi bada aur mahan hai, iski wajah se kai saal tak uss ghatnay ko samjhane mein mushkil hui thi.

ab to uth gaye raaz ka matlab yeh hai ki graen deela usi gulaami ke saath hi aaya tha, lekin vah bhi yahaan pehli baar pata laga gaya hai. is raza se humein yeh samajhne mein madad milti hai ki agle varshon ya kalank ki waja se graen deele ko koi naya rasta mil sakta hai.

aur yeh bhi ek achha rasa hai ki is ghatnay ko arthik roop se bhi samjhaya gaya hai, jahan se humein pata chalta hai ki yah cheez kya ho sakti hai aur kaise hua.
 
یہ راز دیکھ کر میرا خیال ہے کہ زمین کی تاریخ بہت حد تک یوٹاہ میں گھومتی ہے اور اس کے باوجود اس نے انسانوں کو ابھی تک ان کے گرد و غirling سے دور رکھا ہے. یہ راز زمین کی-history ka rahana hai jis سے بتاتا ہے کہ کتنے لاکھ برس پہلے ان اقداروں نے زمین پر اپنا اثر انداز کیا تھا.

اسٹریٹیجیک ایکشن کے بعد، جب یہ بھاری مادہ مکمل طور پر الگ ہوگیا تو پہاڹوں دوبارہ ابھر آئے اور دریا کے ارد گرد تقریباً چار سو میٹر تک بلندی پیدا ہوگئی.

اس طرح کی تاریخ کا درجہ دیکھ کر میرا خیال ہے کہ زمین نے انسانوں کو ایسی باتیں بتائی ہیں جس پر وہ پہلے نہیں سوچتے. یہ راز ہم کو ان قدر کے بھی متاثر کرتا ہے جو جب تک نہیں دیکھا گیا, اور اس کے ساتھ ہی ہے کہ زمین کی تاریخ میں کتنے حد تک تبدیلیاں آئی ہیں.
 
امریکا کی یونٹا پہاڑی سلسلہ کو گرین دریا کا سفر دیکھنا بہت دلچسپ ہے۔ لگتا ہے یہ دریا تقریباً آٹھ لاکھ برس سے اپنے موجودہ راستے پر پھوس رہا ہے اور اس کا سفر ایک بڑی مہم تھی۔ جیسا کہ ماہرین نے بتایا ہے، یونٹا پہاڹ کو چیرنے کے بعد وہ دریا اس کی طرف آ گیا اور ایک گہری وادی پیدا ہوئی جو پہاڑوں کے رخ کے بالکل الٹ سمت میں واقع ہے۔

ایک صدی سے ماہرین نے اس راز کو اٹھایا ہے، اس بات کا ثبوت لگاتار زلزلوں کی لہروں سے ملتا جلا رہا ہے۔ یہاں تک کہ پہاڑوں کے نیچے ایک غیر معمولی طور پر گول اور ٹھنڈا مادہ وجود میں آ گیا ہے جو ٹپکاؤ کا ثبوت ہے۔ یہ سب ایک دلچسپ کہانی ہے جو زمین کی ارضیات سے منسلک ہے۔

مہنگائی : https://www.sciencealert.com/river-flow-utah-uncovered
 
ہمارے پرانے دریا کو چیرتے ہوئے سیلاب آ رہے ہیں اور ایسے میں یہ بات کیا جائے تو نہ صرف گرین دریا کا راستہ آٹھ لاکھ برس سے نہیں، بلکہ اسے بھی پہلے ہی کئی بار تبدیل کرنا پڑ گیا ہے۔ یہ واضع ہے کہ پتہ چلنا اور نئی بات سنانا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن جب لوگ آٹھ لاکھ برس کی تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اچھے سے سنجیدہ منظر کا نہیں دیکھنا، بلکہ زمین کی تہہ کو ٹپکاؤ کے بعد کی صورت کو سمجھنا ہی ہوتا ہے۔
 
آج تک بہت سارے راز گم ہوگئے ہیں جو زمین کی تاریخ میں چھپے ہوئے ہیں اور اب اس سے پردہ لینے والا ایک سائنس دان کے کام کا بھی بہت شگفتہ انداز ہے۔ گرین دریا کو بھی اسی طرح کے راز کی تلاش میں پہنچا دیا گیا ہے جس سے اس کے نکلنے کے سبب کو سمجھنا ممکن ہوگا۔ یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہے کہ کس طرح پہلے کچھ نئے راز آتے ہیں اور زمین کی تاریخ کے بہت سارے mysteries کو انھیں حل کرنے میں مدد ملتی ہے! 💡
 
یہ راز صرف اس لئے پہلے نہیں آئے کہ یوٹاہ کا گرین دریا اچھا ہے، بلکہ اس سے ماہرینِ ارضیات کی ایسی دوسری جان کو بھی پہنچایا ہے جو اس قدر قدیم ہے کہ اسے اٹھانا مشکل ہوگا! 😊🌊
 
اس ریپورٹ کو سن کر لگتا ہے کہ یوٹاہ میں گرین دریا کی تاریخ بھی ایسے تھی جیسا کہ اسے اب لگ رہی ہے۔ اس سے قبل بھی کبھی اوپر چل کر نہیں آئی، لیکن دوسرے جانے پر کوئی یقین نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ اب جب ماہرین نے اس راز کو اٹھایا ہے تو لگتا ہے کہ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے۔ ماضی میں زمین کی تہہ کو ٹپکنے سے پہلے کتنی چھٹی تھی اس بات کو اور سمجھنا ہوگا۔
 
ابھی یوٹاہ میں گرین دریا بہت دلچسپ راز نکلایا ہے اور ماہرینِ ارضیات سے معلوم ہوا کہ یہ دریا وہاں تک چل پھیری رہی ہے جس لئے اس نے یونٹا پہاڑی سلسلہ کو کاٹ کر بہن دیا ہے اور گہری وادی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اِن حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گرین دریا اس وقت تک آگے بہتے رہے گے؟
 
گرین دریا کا یہ سفر تو ہی دلچسپ ہوا، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے پہلی بار خود کو ایک کہانی میں دھلایا ہوں۔ اس وقت بھی یہ سفر تو لاکھوں سالوں سے چلتا آ رہا ہے اور اب تک ماہرین نے یہاں تک کہ ایک ماحولہ بنایا ہے جو ہمیں دلچسپیت کی بات دے رہا ہے۔ لیکن اور بھی اچھا ہوا گئی جب اس نے پتہ لگایا کہ یہ دریا 8 لاکھ برس سے اپنے موجودہ راستے پر چلتا رہا ہے اور اس نے یونٹا پہاڑی سلسلہ کو بھی چیر کر کولوراڈو دریا تک لایا ہے، جس سے ایک گہری وادی پیدا ہوئی۔ اب تک یہ راز سے پردہ لگ رہا تھا اور اب ماہرین نے اسے ٹھیک کیا ہے کہ پہلے بھی یونٹا پہاڑی سلسلہ نیچے بیٹھ گیا تھا اور دریا نے اسے چیر کر ماضی میں ایک گول اور ٹھنڈا مادہ وجود میں لایا تھا۔ یہ تو ایسا لگتا ہے کہ زمین کی تہہ کا ٹپکاؤ کیا تو دریا اٹھ کر اپنی گریوی کو سمجھ گیا، لیکن جیسے یہ دھمaka لگا رہی ہے اس کا ایک نتیجہ ہوتا ہے کہ پہاڑ کی گہرائی اور وادی کو توڑنے والی ایک غم آلود تاریخ۔
 
آج تک سائنس دانوں کو یہ راز تو آ چکا ہے کہ گرین دریا نے تقریباً آٹھ لاکھ برس پہلے اپنے موجودہ راستے پر بہا، لیکن کیا ہم نے اسے ابھی تک سچائی سے دیکھا ہے؟ نہیں، ہمیں یہ بات کھو چکے ہیں کہ زمین کا اندر بھی ایسا ہی سایہ ہے جیسا وہ ہم کو دیکھتے ہیں۔ اور اب، ایک صدی سے ماہرینِ ارضیات کے لیے یہ راز سے پردہ اسکاٹ لینڈ کی گلاسگو یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اور ان کی تحقیقاتی ٹیم نے اٹھایا ہے۔ لیکن کیا ہم نے انہیں بھی ایک ایسے معاملے میں لپیٹا ہوا ہے جس کی پوری حقیقت کو انھوں نہیں سمجھ سکے?
 
امریکا میں یوٹاہ رہا گرین دریا اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ زمین کی تہہ ایسے طریقوں سے کام کرتی ہے جس پر ہمارے ذہن میں کوئی وہ نہیں، یہ بات اچھی ہے کہ اس وقت تک کہ ماہرین ان پہاڑوں کی تاریخ سے بھی باخبر نہیں تھے کہ یہ کس طرح بنے اور کیسے تبدیل ہوئے، اب جب اس راز کو اٹھایا گیا ہے تو یہ کہنا مشکل ہوگیا کہ کیا اس سے زمین کی تہہ کی تاریخ میں کچھ نئی بات آئی ہے یا اس پر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، فیکٹری پلاٹس کے ساتھ ساتھ ٹریننگ سیگنلز جیسا بھی ان رازوں سے ملتا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ زمین کی تہہ میں بھی ایسے تیز گتی والے عمل موجود ہیں جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے۔
 
عجائب! یہ بات تو سچی ہے کہ گرین دریا کو پہلے تو ہم نے دیکھا کہ وہ آگے کی طرف بہتا ہے، لیکن اب جسے بتایا گیا ہے تو یہ بتاتا ہے کہ وہ نہیں بہتا بلکہ ماضی میں پہاڑوں کی اڑال کو نیچے ہٹایا تھا۔ یہ بات بھی جسے بتایا گیا ہے کہ ٹپکاؤ کے بعد گرین دریا نے پہاڑوں کو کاٹ کر ملا، یہ بات بھی سچ ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ وادی بہت گہرے اور بالکل دروازہ کے خلاف صورت ہے۔
 
ہمارے صدیوں پہلے، آج بھی ماہرینِ ارضیات کو دلچسپی تھی کہ گرین دریا کی یہ طویل سفر کیا رہا ہے؟ حال ہی میں انہوں نے ایک واضح جواب دیا ہے اور یہ بات بھی صاف تھی کہ یہ دریا کبھی اوپر کی جانب بہا ہو گیا، لیکن اب یہ سوال ہے کہ دریا نے اپنے سفر میں کیا چھپایا تھا؟ اس نئے راز سے معلوم ہوا ہے کہ یونٹا پہاڹی سلسلہ تھوڑی دیر بعد ہی نیچے آگیا، لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ زمین کی تہہ میں ایک گول اور ٹھنڈا مادہ موجود تھا جو اس ٹپکاؤ کو طویل عرصے تک پرتے رہے گی۔

اس طرح سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پہلے سے ہی، ماہرینِ ارضیات نے اس نئے راز کو تلاش کیا تھا اور اب وہ دوسری جانب سے یہ بات صاف کر دی ہے۔

اسٹریٹیجیک ایکشن کے بعد، جب یہ بھاری مادہ مکمل طور پر الگ ہوگیا تو پہاڑ دوبارہ ابھر آئے اور دریا کے اردگرد تقریباً چار سو میٹر تک بلندی پیدا ہوگئی جس سے آج کی گہری وادی وجود میں آئی۔

یہ راز یہ دیکھنے لायक ہے کہ زمین کی تہہ میں کیا چھپایا تھا اور یہ راز ہمیں صدیوں سے محروم نہیں کرے گا۔
 
واپس
Top