داشتمین عدالت نے ہالی ویل ڈائنر محمد اخلاق کی قتل کے مقدمے میں ملزموں کو چھوڑنے والی فیصلہ دی ہے، جنھوں نے اس معاملے میں ایک ہی عدالت میں اور ایک سے دوسری عدالت جاری رکھنے کی درخواست کے لیے اپنی دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے۔
فریقین نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ڈیٹ آئر میں چھوڑنے والی فیصلہ ایک ہی جج کے سامنے ٹرائل انہیں نیکانصاف سے محروم کر دے گا، تاہم عدالت نے اسے معقول شواہد کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ مقدمے کو صرف "سہولت" یا خوف و اندیشے کی بنیاد پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے اس فیصلے کو ایک ایسی عدالت سے دوسری ایسی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے مسترد کردیا ہے جو صرف محض "سہولت" یا خوف و اندیشے پر مبنی نہیں تھی، بلکہ کوئی ٹھوس بنیاد بھی نہیں تھی۔
اس معاملے میں چھ ملزم ہیں جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ہی جج کے سامنے ٹرائل انہیں انصاف سے محروم کر دے گا، تاہم عدالت نے اسے معقول شواہد کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر مقدمے کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
فریقین نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ڈیٹ آئر میں چھوڑنے والی فیصلہ ایک ہی جج کے سامنے ٹرائل انہیں نیکانصاف سے محروم کر دے گا، تاہم عدالت نے اسے معقول شواہد کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ مقدمے کو صرف "سہولت" یا خوف و اندیشے کی بنیاد پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے اس فیصلے کو ایک ایسی عدالت سے دوسری ایسی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے مسترد کردیا ہے جو صرف محض "سہولت" یا خوف و اندیشے پر مبنی نہیں تھی، بلکہ کوئی ٹھوس بنیاد بھی نہیں تھی۔
اس معاملے میں چھ ملزم ہیں جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ہی جج کے سامنے ٹرائل انہیں انصاف سے محروم کر دے گا، تاہم عدالت نے اسے معقول شواہد کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر مقدمے کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔