اخلاق لنچنگ: ملزم کی سہولت کے لیے۔مقدمہ - Latest News | Breaking New

ہرن

Well-known member
داشتمین عدالت نے ہالی ویل ڈائنر محمد اخلاق کی قتل کے مقدمے میں ملزموں کو چھوڑنے والی فیصلہ دی ہے، جنھوں نے اس معاملے میں ایک ہی عدالت میں اور ایک سے دوسری عدالت جاری رکھنے کی درخواست کے لیے اپنی دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے۔

فریقین نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ڈیٹ آئر میں چھوڑنے والی فیصلہ ایک ہی جج کے سامنے ٹرائل انہیں نیکانصاف سے محروم کر دے گا، تاہم عدالت نے اسے معقول شواہد کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ مقدمے کو صرف "سہولت" یا خوف و اندیشے کی بنیاد پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے اس فیصلے کو ایک ایسی عدالت سے دوسری ایسی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے مسترد کردیا ہے جو صرف محض "سہولت" یا خوف و اندیشے پر مبنی نہیں تھی، بلکہ کوئی ٹھوس بنیاد بھی نہیں تھی۔

اس معاملے میں چھ ملزم ہیں جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ہی جج کے سامنے ٹرائل انہیں انصاف سے محروم کر دے گا، تاہم عدالت نے اسے معقول شواہد کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر مقدمے کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
 
یہ واضح ہو گيا کہ جب بھی ایک معاملے میں انصاف کا حق محفوظ ہوتا ہے تو اس کو صرف ذاتی خوف و اندیشے یا سہولت کی بنیاد پر نہیں چلوایا جاتا، اسے ایسا اور بھی لازمی ہے کہ انصاف کے حق میں کوئی معقول شواہد موجود ہوں؟ یہ ایک اہم بات ہے جو ہماری عدالتوں کی صلاحیت کو دیکھ کر کہیں بھی پہچانی جاسکتی ہے
 
میں یہ پکھ مانتا ہوں کہ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہالی ویل میں موت کے معاملات میں بھی کچھ اہمیت ہوتی ہے، خاص طور پر جب کسی کے قربانیوں کی دیکھ بھال کا معاملہ آتا ہے تو ان لوگوں کو اس میں ایک ایسی عدالت دی جا سکتی جو انھیں نیکانصاف سے محروم نہ کر سکے۔

میں یقین رکھتا ہوں کہ شواہد کو معقول اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر مبنی فیصلے بھی نیکانصاف اور ایمنٹ بن سکیں، ایسی صورت میں جو لوگ اپنے حق کا محarbٹ بن رہے ہیں انھیں یقین ملے گا کہ ان کے حق کی دیکھ بھال کرکے ان کے معاملات میں نیکانصاف فیصلے لائے جائیں گے۔
 
اس معاملے میں چھ ملزموں کی جانب سے ایک بڑی رائے دی گئی ہے، جنھوں نے اپنی دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے اور فیصلہ کا مطالبہ کیا تھا کہ مقدمے میں ایک ایسا جج ہو جو انھیں ٹرائل انہیں نیکانصاف سے محروم کر دے گا، لیکن عدالت نے معقول شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے اور مقدمے کو منتقل کرنے میں بھی اس سے پہلے ایک ایسا جج ہونا چاہئیے جو ٹھوس شواہد پر مبنی ہو۔ مجھے یہ فیصلہ بہت ناکام سمجھ ملا 🤔 #عدالت_ناکامی
 
بھائیو!! یہ فیصلہ بالکل نافذ ہونے والی بات ہے! آج تک ایسی Cases کی دیکھ لی ہے جتنی بڑی ایک ہی عدالت میں جاری رکھنی ہوتی ہے، اور اب یہ فیصلہ آگیا ہے کہ ایسی Cases کو چھوڑنے والی فیصلہ دینے سے پہلے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے! یارو!! میرا خیال ہے کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ہوگا، اور آئیے چھوڑنے والی فیصلہ دینے سے پہلے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہونے کی بات کو تسلیم کرتے ہیں! 🤔
 
ہمیشہ یہ بات غلط سمجھتے تھے کہ آپنی ایسی عدالت ہو جس میں توہن اور معاوضہ کی پہچان نہیں ہوتی، لہذا یہ فیصلہ بہت حقیقت پسند دکھ رہا ہے کہ جس عدالت میں سچائی اور انصاف کی پہچان نہیں ہوتی وہاں مقدمات منتقل کرنے کے لیے مسترد کردئے جائیں گے۔
 
واپس
Top