ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ایک اہم دورہ کیا جس پر دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس دورے کی قیمتی وصولی میں اسے پاکستان کی فوج کی طرف سے معزز استقبال کیا گیا جو اس سے ان کے معائنے اور تجربات کو بھی آگے بڑھانے کے لیے ایک موثر وسيلة بن گئے۔
دورے کے دوران، پاکستان کی فوج نے ازبکستان کی طرف سے متعارف کردہ دفاعی ٹیکنالوجی اورIndustrial production facilities کا معائنہ کیا۔ اس بریفنگ میں انھوں نے پاکستان کی defense industry میں ہونے والی پیشرفت، خودانحصاری کی کوششوں اور عالمی معیار کی defense products پر روشنی ڈالی۔
اس ملاقات کے دوران ازبکستان کا صدر نے پاکستانی defense industry میں ترقی کو سراہا جب کہ انھوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان-defense تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا اور اس سے قبل مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بھی اتفاق کیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
جنگ کے دور میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر ایسے معاملات اور مباحثوں کا بھی حوالہ دیا گیا جس سے دونوں ممالک نےDefense sector میں تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
جس پر انھوں نے اتفاق کیا، اس سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت کی وجہ ہوئی جو مستقبل میں دفاعی اور صنعتی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے۔
ازبکستان کے صدر نے ایسے معاملات پر بات کی جن پر کہنا اچھا ہوگا۔ اس دورے سے پاکستان کی فوج کو بھی فائدہ ہوا جسے انہوں نے معزز استقبال کیا گیا۔ اب اسے دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر کام کرنا چاہئے۔
азبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا ایسے دورہ کیا تھا جو پاکستان کی فوج اور ازبکستان کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر ایک اہم قدم ہے!
وہ انفراسٹرکچر پر مشتمل دفاعی ٹیکنالوجی سے متعارف کرنے والی ازبکستان کو دیکھا تھا جو پاکستان کیdefense industry میں ایک نئی جہت کھیل رہی ہے!
دورے کے دوران انھوں نے ازبکستان کی defense industry میں ترقی کو سراہا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا!
اس ملاقات سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم اضافہ ہوا جو مستقبل میں defense sector میں تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب لے جائے گا!
یہ معاملات میں ایک اہم پیشرفت ہے جو defense industry میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا!
جنگ کے دور میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر ایسے معاملات اور مباحثوں کی ضرورت ہوتی ہے جس سےDefense sector میں تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے!
ایسے ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات پیدا کرنا ایک بڑا کام ہوتا ہے لیکن یہیں رہتا ہے کہ ان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ہم کو اپنی صنعتوں کی ترقی پر توجہ دیانی چاہیے مثلاً پاکستان کی ڈیفنس انڈسٹری میں معیشت کو نئی جہت ملائی اور اس سے فوری طور پر ملک کے معاشرے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے
اس دورے کی اچھی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے، اس سے دو ملکوں کے درمیان تعلقات بھی مضبوط ہون گے اور defence industry میں پیشرفت اچھا ہوگا، لیکن ایک بات یہ بھی اچھی ہے کہ انھوں نے defense sector میں تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا ہے، اس سے دونوں ملکوں کے لیے اچھی نتیجہ ملاegi
ازبکستان کے صدر کو پاکستان کے جنرل ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ایسا استقبال دیا گیا جیسا کرتے تھے۔ یہ تو بہت اچھا ہے، اب دو ممالک ایسے معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں جو جنگ کے دور میں بھی بات کی جاتی تھی۔Defense industry میں ترقی کو سراہنے سے پاکستان اور ازبکستان دونوں فائدہ उठائیں گے۔
ازبکستان کے صدر شوقت مرزائیوف کی یہ سفر ایسا ماحول بنایا ہوا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نئی دھار کے طور پر بڑھ سکیں گے۔ یہ سفر ان کی اچھی وکیلوں کی طرف سے اسٹینڈنگ پوائنٹ بن چکا ہوا ہے جس سے دو ممالک کے درمیان دوسری صلاحیتوں میں بھی ترقی ہوئی ہے۔
اس دورے کے بعد، ایسے واضح ہو چکے ہیں کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر یقین کیا ہے اور ایسی صورتحال بنائی جائے جو مستقبل میں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ازبکستان کی طرف سے پیش کی گئی دفاعی ٹیکنالوجی اور Industrial production facilities بھی پاکستان کی Defense industry میں ایسی تبدیلی لانے کے لیے ایک موثر وسائل ہیں جس سے پاکستان کا Defense sector آگے بڑھ سکتا ہے۔
اس ملاقات کی قیمتی وصولی میں، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ایسی ترجیحات ظاہر کی ہیں جس سے مستقبل میں دونوں ممالک کے لیے فائدہ ہوگا۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کی Islamabad دورے پر پہلے، پاکستان کی فوج نے ان کے معائنے اور تجربات کو بڑھانے کے لیے ایک موثر وسيلة بنایا ہوگا
[سیریز میں] اس دورے کی قیمتی وصولی میں، پاکستان کی فوج نے ازبکستان کی طرف سے متعارف کردہ دفاعی ٹیکنالوجی اورIndustrial production facilities کا معائنہ کیا ہوگا
اس دورے کے دوران، شہزاد نے اس بات پر زور دیا ہوگا کہ پاکستان کی defense industry میں ترقی کو سراہنا ضروری ہے اور ایسے معاملات اور مباحثوں کا بھی حوالہ دیا جاسکتا ہے جس سے دونوں ممالک نےDefense sector میں تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم کیا ہوگا
اس دورے پر اتفاق کرنے سے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہوئی ہوگا
[سیریز میں]
اس دورے کے بعد، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت کی وجہ ہوگئی ہوگا جو مستقبل میں دفاعی اور صنعتی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے
اس دورے کی وصولی پر تھوڈا سوچتا ہوا کیا، پھر اس پر زور دیا جانا بہت اچھا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ انسپیریشن کیسے ملا، لیکن یہ بات طمائی ہے کہ کس طرح ایک دورے سے دو ممالک کی تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے اس دورے پر پاکستان کی فوج اور ازبکستان کے صدر کو کیسے استقبال کیا گیا، میرا ایک سوال ہے کہ ان سے کس طرح معائنے اور تجربات کرنا پڑتا ہے؟
ایسا لگتا ہے کہ اس دورے کی قیمتی وصولی پاکستان کی فوج کے لیے ایک بڑا فائدہ رہا ہو گا تاکہ وہ اپنے دفاعی اور صنعتی تعاون میں ترقی حاصل کر سکیں، جس کے لیے انھوں نے اس سے پہلے بھی ایک بڑا کام کیا تھا۔
ایباکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کی ٹیک놗یز ہر سال میں نیو ٹنڈر میں ساتھ آتی رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس نے اسی لئے انھیں ایک اہم دورے پر بھی جانا تھا۔
دونوں ممالک کی طرف سے یہ معائنہ انھیں اپنی defence اور صنعتوں میں ترقی کے لئے ایک نئی جہت دے سکتا ہے، جو مستقبل میں دفاعی اور صنعتی تعاون کو نئی جہت دے گا
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں دورہ، ایک اچھی گلی کی نظر سے نظر آتا ہے. لگتا ہے کہ دونوں ممالک کو دفاعی تعاون میں مزید ترقی کرنے کی اچھی قیمتی پر اتفاق کرنا ہے.
پاکستان کی فوج نے اس دورے کا بہت سا استقبال کیا جس سے انھوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کیDefense industry میں ترقی اور خودانحصاری کی کوششوں پر زور دیا گیا ہے. اور اس سے قبل ایک اچھی مباحثہ ہوا جو دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا مشورہ دیتا ہے.
جب تک یہ بات نہ بتے کہ اس دورے کی وصولی میں کیا ہوا، تو لگتا تھا کہ یہ دو ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اچھا مہماتوں کا پہلا قدم ہیں۔
میں سوچتا ہہنے لگا ہے کہ اس دورے کی ناجائز وصولی میں یہ کہ اسے معزز استقبال دیا گیا ایک حقیقی غضب ہے۔ کیونکہ جو ان کو اس سے علاوہ تجربات اور معائنے کے لیے کچھ نہیں ملتا اس میں بھی کچھ دوسرے مفاد تھے جو پاکستان کی فوج کے ساتھ ان کے معائنے اور تجربات کو آگے بڑھانے میں مدد کر رہے ہوں گے۔ اور اس دورے کے دوران انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ازبکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی اورIndustrial production facilities میں کچھ کوششوں کی جاتی ہیں جو کہ پاکستان کیdefense industry میں پیشرفت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے بہت ضروری ہو سکتا ہے۔