ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اسلام آباد پہنچ گئے

عزت مابشوکت مرزائیوف نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے مل کر دو روزہ دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے ان کا استقبال کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صدر مرزائیوف کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد پاکستان آیا ہے، جس میں ازبکستان کے سینئر وزرائے اور نمایاں کاروباری شخصیات شامل تھے۔ ان مذاکرات میں تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط، علاقائی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

دوسرے دورے پر صدر مرزائیوف پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔

دوسرا سرکاری دورہ جو صدر مرزائیوف نے پاکستان میں کیا ہے وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک دوسرے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں ترجیح دی جاتی ہے۔
 
یہ دورہ تو منزلیں لگ رہا ہے! وہ یوں اور ازبکستان سے دو طرفہ تعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب انھوں نے پاکستان میں سرکاری دورے کا اعلان کیا ہے، یہ پہلا دورہ تھا جس کا مقصد ساتھی ملک کی ترجیح بنانا ہے اور ایسی ملک کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرنا ہے جو وہ اس پر زور دیتا ہے، یہ تو بہت اچھی بات ہے!
 
دورے پر ناچنے والوں کو بھی کافی سے تماشائی دیکھتے ہیں، ان سے زیادہ ناکام محسوس ہوتے ہیں وہ یہاں ایک اور سے دوپہر کھانے کے لیے گئے ہوں گیڑے کے سامان لے کر پھنٹ پھنٹ کرتے ہیں، جب وہ یہاں کچھ کھینچتے ہیں تو ان کی بھارپور تاج کی کھڑکیوں میں ناک پھولتی ہے اور اس طرح ان کی بھرپور عورت کی پکڑ میں ہوئی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ ان پر توجہ نہیں دیتے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ میرے سامنے ہی اپنی اچھائی کے باور کرتے ہیں، اگر ان کی توجہ میں آؤ تو یہاں سے ہٹ جاؤ
 
مگر ان کے دورے کی پوری بھاری منصوبہ بندی تھی، نا تو وہ دو دن کے لئے Islamabad آتے ہیں اور اسی وقت میں تقریبا تمام سرکار کی ٹیم ان کے ساتھ جاتی ہے 🤯

سچ ایسے بھی ہے کہ ایسے دورے پر کیا آپ فوری فیصلے لگا سکتے ہیں؟ وہ دو روزہ دورہ تو چرچا ملاوٹ اور تعاون پر ہی تھا، نا پہلے اور نا آخر میں کیا آپ بلاک ایسٹیٹ کو بھی جोडے دیتے ہیں؟
 
اس دورے کی منصوبہ بندی بہت مشورہ کرنے کے بعد ہوئی، اس لئے اب دو روزہ دورہ ہوا تو آسان نہیں لگا 🤔. ایسے میٹنگوں سے ہی تعاون کرنا پڑے گا اور اس کا نتیجہ بھی دیکھنا ہوگا. لڑکے Pakistan aur Uzbekistan ka kuch bhi nahi karta toh is durase ki manzili kitni achaanak ho sakti hai? 🤷‍♂️
 
میں سمجھتا ہوں کہ ان دوروں سے Pakistan اور ازبکستان کے درمیان بہت زیادہ تعاون ممکن ہوگا, اس سے Pakistan ka economy aage badhne mein madad milegi. Lekin yeh zarurat hai ki ان مذاکراتوں میں education aur healthcare ko priority dena padega, kyunki yeh dono fields mehyoban ko safal banane ke liye bahut mahatvapurn hain.
 
عشقلو! ازبکستان کے صدر مرزائیوف نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مل کر دو روزہ دورہ کیا ہے، ایسا معلوم ہے کہ وہ پھر سے بھی پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کو مزید تیز کرنا چاہتے ہیں! 😂
لگتا ہے وہ ایسے تجارتی معاہدوں پر بھی کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان دونوں ممالک کو زیادہ سے زیادہ فائدہ دے گے!

دوسرے دورے پر وہ پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، لہٰذا یہاں تک کہ سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا جائے گا!

اس دورے نے ایک بات کو ظاہر کیا ہے کہ ایک دوسرے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں ترجیح دی جاتی ہے، اور یہی وہ پچھلے دورے پر بھی بات چیت کر رہے تھے!
 
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوسرا دورہ بھی ٹھیک ہوگا، اس سے دو ممالک کی تعاون پر زور دیا جاega, تجارت، توانائی،-defense اور دیگر شعبوں میں کاروباری رہنماؤں کے درمیان روابط بڑھیں گے. پھر دوسرا ایک ہی موضوع پر دوसरا دورہ کیا جائے گا، یہ بھی نیک ہوگا اور دو ممالک کی تعاون میں مزید ترجیح دی جاے گا.
 
یے تو اس دورے کا مقصد ایسا کہیں تو ہر ایک کو پیار اور محبت کے ساتھ ملنے کی لازمییت ہے، پاکستان اور ازبکستان دونوں ممالک کے لیے یہ تعاون اپنی آگاہی اور باہمی احترام کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے ~
 
یہ تو چنے بھی نہیں مگر ازبکستان کا وزیراعظم صدر مرزائیوف کیسے پاکستان کے ساتھ دو روزہ دورہ کیا ہے؟ اور وہی سے کچھ نہیں کہ شہباز شریف کو اپنی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے، یہ تو سب کچھ آسان ہوتا جارہا ہے... لگتا ہے ان سے نہ صرف تعاون کا تعلقات بڑھائو گئے ہیں بلکہ ایسی شراکت کا بھی معاہدہ ہونے والا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اب نوجوانوں کو دو طرفہ تعلقات میں ترجیح دی جائے گی... لگتا ہے وہ بھی چنے پھونکے سے کام کر رہے ہیں
 
یہ دورے کا موضوع پورا اچھا ہے، پاکستان اور ازبکستان دونوں ملکوں کو ایسے تعاون سے فائدہ ہوگا جو بھی وہ چاہتے ہیں؟ پھر یہ تو ان کے لیے ایک بڑا کاروبار بن گئے ہیں، اور اس سے دونوں ملکوں کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی!

اور یہ بات بھی چل رہی ہے کہ ترجمان دفتر خارجہ کا ایسا کوئی کچھ نہیں دیا جو ان مذاکراتوں میں کسی بھی اہمیت پاوے یا نہیں، اس سے انki باتوں کی اہمیت یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اس دورے کا مقصد کچھ اور تھا۔
 
یہ دورے پر نہ صرف اقتصادی تعاون کی بات ہوتی ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا عجیب کہ پاکستان اور ازبکستان میں کس طرح تعلیمی سروسز کو دوسرے ملکوں کیComparison میں پیش کشا جائے گا؟ اس دورے میں ان ساتھ یہ بات نہیں آئی تھی کہ پاکستان اور ازبکستان میں کس طرح تعلیمی سروسز کو دوسرے ملکوں کیComparison میں پیش کشا جائے گا؟
 
نوٹ کریں گے کہ اس دورے کا اہمیت ہی نہیں یہ کہ پاکستان و ازبکستان کے درمیان ایسی تعاونات پیدا کی جا رہی ہیں جو دیگر ملکوں کے ساتھ بھی موجود ہو سکتی ہیں اور یہ پورا خیال ہوتا ہے کہ ایسے کوششوں کی ضرورت نہیں ہے
 
سارے دورے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو ٹھیک اچھا کہیں پہنا چاہئے، لگتا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بڑھानے کی کوشش کر رہے ہیں اور تجارت کی طرف ترجیح دی جارہی ہے تو اس سے باکسٹاپ پاکستان کے لئے فائدہ ہوگا، اب تک وہ اس بات پر زور نہیں دیتے تھے جو اب وہ کی رہتے ہیں۔
 
بھائیو اور بہنوں! یہ تو دیکھو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ایسی دوڑیں ہو رہی ہیں جس کی خبر نہیں ہوسکتی! 🤩

عزت مرزائیوف سے مل کر شہباز شریف کا دورہ تو ایک بات تھی، لیکن دو روزہ دورہ کرنا? وہ بھی ایک بات ہے! 🙃

دوسرے کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں ترجیح دی جانا? یہ تو ایک دوسرے کی آغوش میں ہی چلی جائے گا! 💖

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا? اس سے نہ صرف دو ممالک کی ترقی ہوگئی، بلکہ یہ ایک اچھی بات ہے! 😊

تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط، علاقائی روابط... اس سے بات چیت کی جا رہی ہے! یہ تو ایک نئی دور کا آغاز ہوگا! 🚀
 
زرداری کی حکومت نے اس دورے کا انعقاد کرنے کی واضح رائے ہے کہ وہ ازبکستان سے ایسا تعاون چاہتے ہیں جس سے Pakistan ko China se kuch aur achha mil jaye 😊
 
عزت مابشوکت مرزائیوف کی پاکستان کے دورے کا مقصد تو ہی ہوگا، پھر دوسری بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ بھی ایک اچھی سے اچھی نہیں بتا سکتے! وہ اپنے دورے کے دوران انفرادی تعاون کے لیے لگاتار کام کر رہے ہیں، اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ملک اور پالیسیوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں! میرا خیال ہے ان کا یہ دورہ Pakistan-uzbekistan relations کو مزید مضبوط بنانے میں بھلے سے کام سکتا ہے!
 
نظریہ: ان دوروں کی اچھی گزشتہ تین سالوں میں ایک نئی پالیسی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس سے ملازمت کی فراہمی پر زیادہ توجہ دی جائے گی، اور پاکستان کو اس کی موثر استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ صدر مرزائیوف نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جگہ اسے ازبکستان سے تعلق رکھنے والوں کی طرف بڑھا دیا ہے ، یہ ایک اچھی بات ہے۔
 
ایسے دورے کی اہمیت تو بہت ہے، لگتا ہے کہ صدر مرزائیوف نے ایک نئی پٹی چھوڑی ہے جو دو ممالک کے درمیان تعاون کو مزید تیز کرے گی 🔄. ابھی تک اس بات پر غور کیا نہیں گیا کہ کس طرح پاکستان اور ازبکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے گا، لیکن یہ واضع ہے کہ اس میں تجارت اور کاروباری تعلقات شامل ہوں گی.
 
واپس
Top