ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اسلام آباد پہنچ گئے

بانسری والا

Well-known member
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اسلام آباد پہنچ کر پاکستان کے دو روزہ دورے پر قدم رکھ گئے ہیں، جس کی شروعات وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر کی گئی تھی۔ اس دورے کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا ہے، جو دو برادری ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیشرفت کی جگہ رکھتا ہے۔

صدر مرزائیوف نے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ پاکستان آئے ہیں، جو ازبکستان کے سینئر کابینہ وزراء اور نمایاں کاروباری شخصیات سے بھرپور ہے۔ ان کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کرنا ہے، جیسے تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط، علاقائی روابط اور دیگر اہم شعبہ جات۔

دولت کے مطابق صدر شوکت مرزائیوف کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، اور ان مذاکرات میں سے کئی اہم شعبہ جات پر تبادلہ خیال کرنے کی تقریباً یقینیت ہے۔

صدر مرزائیوف پہلے ازبکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جب کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے گا، اور مختلف شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھانے اور باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی جائے گی۔

صدر مرزائیوف نے دورے کے دوران پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے بھی خطاب کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔
 
मیری رाय میں، ازبکستان اور پاکستان کی تعاون کے منصوبوں پر کام کرنا بہت اچھا ہے ،یہ سب کچھ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگا 🤝

میری ذہن میں، اس دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر اہم بات چیت کرنا بھی اچھا ہو گا، یہ سب کچھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مددگا 📈

لیکن میری رाय میں، اس دورے کی منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے کافی دیر کا انتظار نہیں کیا جائے گا ، یہ سب کچھ تعاون کو اچھی طرح قائم کرنے میں مددگا ⏱️
 
ایسا لگتا ہے کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں اس دورے کی بہت اچھی تبدیلی ہو گی، لیکن یہ بات تو یقینی نہیں کہ وہاں سے فائدہ ہو گا یا نہیں۔ ان دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوس्कتی ہیں، تو یہ کہاں تک کہیں رہتا ہے۔
 
عبھرتے ہوئے صدر شوکت مرزائیوف کی ازبکستان پہنچنے کی خبر ایک اچھی بات ہوگی، لیکن اس دورے کا مقصد کیا ہو گا? پہلے سے ہی دو برادری ممالک کے تعلقات میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، ابھی تو دونوں ممالک نے سوشل مीडیا پر جو سہولت دی ہے وہ سب سے اچھا ثبوت ہے کہ ان تعلقات میں بہت ترقی ہو گئی ہے۔ اس دورے کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہوگا، لیکن اچھا وہ منصوبہ ہے جس پر بات چیت کی جا سکے؟
 
یہ بات تو واضح ہے کہ دو بھائیوں کی ملاقات سے کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ اس دورے کا مقصد سادہ سادہ تعاون سے بھرپور ہوگا، لیکن یہ بات پتہ چلے گی کہ دونوں ممالک میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں ہوگی جو پوری دنیا کو دیکھ گے۔

ان مذاکرات کی سیریز میں کوئی ایسا موضوع شامل ہوگا جس پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون بنایا جا سکے، لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ ان مذاکرات میں کوئی ایسی وجہ شامل نہیں ہوگا جو اس بات کی طرف اشارہ کرے گا کہ دونوں ممالک اپنی ترجیحات چھوڑ دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی راہ میں آ جاتے ہیں۔

اس دورے سے پہلے کے بہت سے دوروں نے بھی اپنی فائد نہیں دیتی ہیں، اور یہ بات تو واضح ہے کہ ابھی کچھ کامیاب نتیجے نہیں ملے گے۔
 
یہ دورہ ابھی شروع ہوا ہے تو اس کی پوری جدوجہد کو دیکھنا چاہئے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی کس کیہ گئی تھی۔ آج کل دو برادری ممالک کے تعلقات میں ایسی پیشرفت دیکھنے کو میرا بھی مقصد ہے جو اس دورے سے کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی پہل کس نہیں ہوئی؟
 
اس دورے سے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ابھی تک اس سے بڑی کارکردگی نہیں دیکھی گئی اور اس میں یقینات تھوڑی کم ہیں 🤔
 
"اک ایمپائر ہر نے اپنے پیداشہ کو کرتا ہے، اس لئے دنیا کی صلاحیتوں کو بھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے" 🚀
 
بلاشبہ یہ دورہ ایک اہم قدم ہے، اس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا… لیکن بھی مینو نے سوچا تھا کہ وہ ایسی ایسے ملکوں میں دورہ کریں گے جو ان کی پٹی کے ساتھ ساتھ ہیں، اور اب یہ اس طرح ہو رہا ہے… 🤣
دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی بات سے مینو کو بھی خوشی ہوئی، لیکن اس میں سبق ہے کہ تعاون کا ذریعہ تو ہوتا ہے اور پچھلے دوسرے تھا… 🤦‍♂️
اس دورے میں مختلف شعبہ جات پر بات چیت کرنے کا مقصد بہت اچھا ہے، لیکن مینو نے یہی سوچا تھا کہ اب ان سے کیا پکڑنا ہے… 😂
 
یہ رہے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعاون کرنا تو اچھا ہے، پھر بھی اس کی معقولت تھوڑی تھوڑی ہے؟ اس دورے کا مقصد دو برادری ممالک میں تعلقات میں ایک اہم پیشرفت کی جگہ رکھنا ہے، لیکن اس پر یہ توجہ نہیں دی جاسکتی کہ پہلے تو اور اب تک کیا کیا ہوا؟
 
عجيب و عجیب یہ دورہ ہے! اب ایک برادری کے ساتھ تعاون کرنا اور دوسری برادری سے ملنا بہت اچھا دیکھیں گے 🤝✨ صدر شوکت مرزائیوف کی بھرپور وفد کی وجہ سے یہ دورہ زیادہ بہتر ہونا چاہیے۔ تجارت، توانائی،Defense اور تعلیم کے شعبہ جات میں سے بھی بات چیت کرنا اچھا ہوگا۔ اس دورے کی وضاحت سے دوسرے ممالک سے ملنے والے یہ کئی اہم تجارتی پہلوؤں پر بات چیت کر رہے ہیں 📈
 
مرحباً یہ دورہ ایک بڑی بہترین بات ہوگا 🌟 صدر شوکت مرزائیوف کے دورے سے دو برادری ممالک کے تعلقات میں مزید ترقی اور تعاون آئے گا۔ اس دورے میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کرنے کی کوئی بڑی بات نہیں ہے، جو دونوں ممالک کے لئے ایک بڑا فائدہ ہوگا 💼 اور اس سے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں مزید ترقی ہوگی 🚀
 
یہ دورہ ہوا تو اس میں کیا نئی چیز آگئی؟ پاکستان اور ازبکستان کی تعلقات کچھ اور بھی دیر سے تبدیل ہونے چاہیے۔ مگر ان دونوں ممالک کے درمیان بھرپور تعاون کرنا بہت فائدہ مند ہوگا۔ مگر میرے لئے ایک پہلو یہ ہوا کہ صدر شوکت مرزائیوف نے دورے کے دوران زرداری اور شریف کو ملنے کا بھی اعلان کیا ہے؟ مگر ان دونوں صدروں کے درمیان ایسا کیا بات چیت کرنا ہوا جو آج تک نہیں کیا گیا تھا۔
 
واپس
Top