بڑا اعلان؛ اسرائیل نے گھٹنے ٹیک دیئے؛ فلسطینیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی | Express News

ستارہ

Well-known member
اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح گزرگاہ کو ایک دیرینہ مطالبہ کے بعد دوبارہ کھول دیا ہے جو تقریباً دو سال سے بند تھی۔ اسرائیل کی یہ کامیابی امریکی ثالثی میں طے پائی گئی غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت کی گئی ہے جس کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو حیل وحجت سے کام لے رہے تھے۔

غزہ اور مصر کے درمیان Rifah گزرگاہ صرف محدود پیمانے پر لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کھولی جائے گی۔ فلسطینی جو پہلے غزہ سے نکل چکے ہیں یا علاج کے لیے خصوصی اجازت کے حامل ہیں ان کے لئے یہ گزرگاہ کھولی جائے گی۔ تاہم، رفح راہداری سے امدادی سامان یا تجارت کی آمدورفت کی اجازت نہیں ہوگی اسی طرح اسرائیلی اسلحہ کی ترسیل کا بھی خاتمہ ہوگا۔

ئسrael اور مصر کی مشترکہ سیکیورٹی جانچ لازمی ہوگئی جبکہ یہ عمل یورپی یونین کی مانیٹرنگ میں ہوا گئی۔ غزہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کچھ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے رفح راہداری کے کھولنے کی افتتاحی تقریب میں مزید تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

rifah گزرگاہ غزہ کے لئے بہت اہم ہے جو لگ بھگ دو ملین افراد کے لیے خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی قلت کا شکار ہیں۔ تاہم، اسرائیل کو جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تازہ اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملا رہی ہے جو امن کوششوں کو غیر یقینی بنا دیتی ہے۔
 
اس گزرگاہ کو ابھی دو سالوں سے بند تھی اور اب وہ دوبارہ کھول دیا گیا ہے ، یہ ایک بڑا کامیاب کام ہے اور اس میں امریکی ثالثی کی بھی مدد لگی تھی… فلسطینیوں کو غزہ سے نکلنے یا علاج کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنا ہوگا اور ان کے لیے یہ گزرگاہ کھولی جائے گی… لیکن ان لوگوں کو امدادی سامان یا تجارت کی آمدوں پر انحصار نہیں کرنا ہوگا...

سفری شعبے کے ذمہ داروں سے بھی ایسا کہنا ہوگا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کی مانیٹرنگ میں اس عمل کو رکھا جائے… غزہ گزرگاہ کے لیے خاص بہت اہمیت ہے جو دو ملین افراد کے لیے خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی قلت میں پھس رہی ہے...
 
اس وقت کیا کرنا؟ Rafah گزرگاہ کھولنے سے پہلے بھی انصاف کی بات نہیں کی جاتی، اور اب وہ کھुल کر دیکھتے ہیں تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ فلسطینیوں کو واپس جانے والی رات کے وقت تک یہ گزرگاہ کھولی جائے گی، اور ان کے لئے بھی صرف ایک طرف سے ہی آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی؟ یہ بھی تو کیا محض ایک فیکٹ نہیں بلکہ ایک خطرہ ہوگا، فلسطینی لوگ تیزی سے واپس آئے گئے ہیں اور اب ان کی جان کی حفاظت کی ضرورت کیا ہے؟
 
جب سے یہ خبر سامنے آئی کہ اسرائیل نے Rifah گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے تو مجھے یہ بات سے خوشی ہوئی کہ لوگوں کی آمد و رفت آگے بڑھ سکے گی۔ لیکن ایسا ہونے کے ساتھ ہی، مجھے یقین ہے کہ اسرائیل کی تازہ فائرنگوں کی اطلاع نے امن کوششوں کو توڑ دیا ہے جو آج تک یہ گزرگاہ کھولنے سے قبل کیا گیا تھا۔ اور دوسری جانب، مصر کے ساتھ اسرائیل کی مشترکہ سیکیورٹی جانچ بھی ایک نئا قدم ہے۔ حالانکہ یہ ایسا لگتا ہے کہ اسے کافی اہمیت دی گئی ہو، لیکن مجھے یہ بات نہیں پٹی کی جاسکتی کہ یہ معاونت اسرائیل کو غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت ایسا کر رہا ہو جو اس گزرگاہ کے کھولنے سے پہلے کیا گیا تھا۔
 
تمام باتوں سے نکل کر یہ بات کہنے پر غور کریں کہ اگر Rifah گزرگاہ خلاصے میں صرف لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کھولی جائے تو یہ ایک اچھی بات ہے! فلسطینیوں کو اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی... اور مصر کے ساتھ اس معاہدے کی وہ بھی مہم جاری رکھی گئی ہے جو ایسے حالات کو روکنے میں فائدہ دے گی۔ انفرادی طور پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو حیل وحجت کا کام تو کچھ معیار میں کمزور اور بہت گرانبھر ہے، لیکن اس کی جاتے ہوئے ایک طویل عرصے سے بنے ہوئے تحفظات کو تازہ ڈھلوان دیا گیا ہے! اور پھر یہ بات بھی کہ Rifah گزرگاہ ایک اچھا خلاصہ ہو گا جس سے اس وقت کے حالات میں لوگوں کو اپنی زندگی کی راہ دکھایا جا سکے...
 
فلسطینیوں کو ایسا نہیں چاہئے کہ وہ Rafah گزرگاہ پر توجہ مبذول کرکے اسرائیل کی مذمت کریں یا انہیں اس بات سے متاثر ہوں کہ ان لاکھوں فلسطینیوں کو خوراک اور دوائیں دے رہا ہے۔ وہ ان لوگوں کی مدد کرنا چاہیں جو غزہ میں سڑک پر تھے اور ان کے کھانے پینے کے لیے پانی بھی نہیں تھا۔ اس گزرگاہ کو ایسا کھولنا بہت اچھا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کر سکے جو راتوں رات لاپتہ ہو رہے تھے۔
 
میری بہن کی شادی میں وہ اچھا نیک گاڑھی دکھائی دے رہی تھی جس کا مطلب اس کو یوں کھول دیا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان Rifah گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے اور اب وہی یوں دیکھ رہی ہے جس طرح میری بہن نے ان کی شادی میں دکھایا تھا

مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ اسرائیل کے ایسے دوسرے گزرگاہ بھی ہو سکتے ہیں جہاں فلسطینیوں کو پہلے سے بنایا گیا سے اچھا راز چھپا دیا گیا ہو

اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اسرائیل کی ایسی پالیسی کے پیچھے کیا غور و فکر کر رہا تھا جس پر وہ اترا ہے مگر اس بات کو یقین نہیں ملا۔
 
نظریات میں تاخیر کرنے والا اسرائیل کچھ نئی منظر بنانے کی کوشش کرتا ہے جو فلسطینیوں کے لیے ایک گزارگاہ کھولنا بھی ہے اور ان کے لیے خوراک پہنچانا ہیں۔ یہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی وجہ سے نئی جسمانی صورت میں آگے बढھتا ہے جو ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور اب ان لوگوں کے لیے hope ہے جو گزرگاہ سے باہر ہیں، لیکن یہ معاملہ کچھ ایسی غلطاں کے ساتھ آتا ہے جس سے امن کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
 
یہ بات تو نہیں بتائی جاسکتی کہ اسرائیل نے Rifah گزرگاہ کو ایسے سے کھول دیا ہے کہ وہ غزہ میں خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی قلت پر بھی زور دیتا رہا! پھر بھی، یہ کامیابی ایسے سے ہوئی ہے کہ مصر کی مہارت میں بھی نہیں آئی! غزہ اور مصر کے درمیان یہ معاہدہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سانس لینے کے لیے بنایا گیا ہو!

اس کے علاوہ، فلسطینیوں کے لئے یہ گزرگاہ صرف محدود پیمانے پر کھولی جائے گی؟ لگتا ہے انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں! اور اسرائیلی اسلحہ کی ترسیل کا خاتمہ یہ تو ہی ہو گا!

سفید شہر میں سے جاننے والوں کو معلوم ہوگا کہ Rifah گزرگا۹ غزہ کے لئے بہت اہم ہے، لیکن اسرائیل نے اسے ایسا استعمال کیا ہوگا جو کہ اسے اچھی طرح سمجھنے کو ہے!
 
اس وقت تک کھلنے والی Rifah گزرگاہ کو لاکھوں فلسطینی لوگوں کی مدد کر سکتا تھا اور ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ ہونے دیتی۔ اس وقت تک کھلنے والی گزرگاہ کے بعد غزہ کی وہ لوٹر کس طرح سے جاری رہتی؟ غزہ میں بچوں کی خوراک اور دوائیں لینے کی قلت نہیں ٹھلی ہوتی؟
 
فیلسٹائینوں کے لئے اس گزرگاہ کھولنا ایک جیت کے بھی نہیں، اس سے صرف وہ لوگ اس گزرگاہ تک پہنچ سکیں گے جن کے پاس معاف ہونا کا ذرائع ہو اور ان کو اپنی جائیدادوں تک بھی پہنچنے میں یقین ہو

اس رکاوٹ سے بھی غزہ کی زندگی میں تیزی نہیں آئی، یہ صرف ایک لالچ کا بھی نہیں ہوا جس میں اسرائیل نے اپنے فوجی مہارم کو غزہ کی تلافی سے پرہیز کرنا پڑا

اس گزرگاہ کھولنا ایک جیت بھی ہوگی جو ان لوگوں کی ہوگی جن کو اس گزرگاہ تک پہنچنے میں یقین اور معاف کرنے والے ذرائع کے حامل ہوں
 
یہ رائے میں تو اس گزرگاہ کو کھولاں، لیکن یہ تو ایک گھنٹا بھی نہیں چل سکتی، انچالے ماحول کو برقرار رکھنا۔ فلسطینیوں کو ایسا نہیں ملتا جو کہ پچیس لاکھ کی گیند سے لے کر دو لاکھ لوگوں کو خوراک اور دوائیں ملاں، یہ صرف معیار ہیں۔ اس پر توجہ دی جائے تو غزہ میں انچالے بھی کم نہیں ہو سکتے جو کہ وہ اُور ایک ہی وقت میں دو گنا لگتے ہیں؟ 😂
 
اس گل کو چھوٹا سا اچھا قدم ہے، لیکن واضح طور پر بھی ان کے حوالے سے پریشانی کا ماحول ہے۔ فلسطینیوں کی زندگی میں مزید آگہائی، ان کی صحت اور امداد کو یہ رکاوٹ تو کمزور نہیں ہونے دے گا، بلکہ ایسا بھی محسوس ہو رہا ہے کہ اسرائیل اس گل میں اپنی توجہ اور معاشی جتنا ممکن ہی اس پر مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

غزہ میں سیکھرے بھی ایسے مواقع کی کمی ہوتی ہیں جب اسرائیل اور امریکی طاقت کی ملکیت کو چیلنج کیا جاسکا، اس گل کو یہاں ایک سٹیجنگ گیم کھلنے کی لہر کے طور پر دیکھنا ہوگا اور اگر اسرائیل نے غزہ سے واپس نہ چلا تو اس گل کو اب ایک یقینی بات سمجھنی پڑی۔

سفید راہداری، ایسی رہائی کے طور پر یہ گل اور بھی زیادہ ہی حیرت کن ہو گیا ہے۔ تاہم، اس گل کی جانب تو ان کی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کیا جا رہا ہے، اور یہ بھی تو صارفین کے لئے بڑی اچھائی ہوگی لیکن اس گل کی حقیقت میں کس بات پر مبنی ہے؟
 
اس Rifah گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑا مشورہ ہے لیکن اسرائیل کی جانب سے بھی زیادہ پابندیاں لگی ہوئی ہیں؟ فلسطینیوں کے لیے یہ گزرگاہ اچھی بھال ہونی چاہئیے لیکن کیا اسرائیل اس میں فوری تبدیلی کا امکان نظر آتا ہے؟

غزہ کی حالات بدل رہی ہیں، یہ لگ رہا ہے کہ امن کوششوں کے باوجود فلسطینیوں کے لیے ہر بار نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا جارہا ہے۔

مگر یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ مصر کی جانب سے بھی مزید مدد ملے گی، اس لیے حالات کو دیکھتے ہوئے بھی یہ مشورہ اچھا ہوگا کہ Rifah گزرگاہ کھولی جائے۔
 
اسrael کی جانب سے Rifah گزرگاہ کھولنا ایک بڑی بات ہے… غزہ کے لوگوں کے لیے یہ ایک اور hope کی ایک اور ڈگری ہے۔ دوسری طرف، اسرائیلی فائرنگوں میں فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع تو ہوتی رہی… ایسا لگتا ہے کہ امن کوششوں کو توڑنا Israel کے لیے بھی یہ ہم آہنگی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ غزہ اور مصر دونوں کی طرف سے ایسا کیا گیا ہے کہ Rifah گزرگاہ خلاص طور پر فلسطینیوں کے لیے ایک چھپتی چھیٹی مہلت بن جائے، کیونکہ وہ اپنی کھانے، دوائیں اور طبی امداد فراہم کرنے کو قائم رکھتے ہیں… اور اسرائیلی فائرنگوں میں فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع تو اسے بھی ایک ایسا ہدف بناتے ہیں جو امن کوششوں کو توڑتا جائے۔

یہ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں Israel کی جانب سے بھی ایسا کیا گیا ہو گا۔
 
اسے لگتا ہے کہ Israel کی Rafah Crossing کھولنے سے فلسطینوں کے لیے کچھ فائدہ ہوسکتا ہے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی توثیق پر Israel کی جانب سے ایسا نہیں کیا جا رہا جیسا کہ یہ کہا جاتا ہے اور فلسطینیوں کو اس معاہدے میں شامل ہونے سے پہلے بھی ان کے لیے بہت سارے مسائل ہیں۔

اس کے علاوہ Rafah Crossing کے کھولنے سے اسرائیل کی جانب سے فلسطینوں کے خلاف تازہ فائرنگ جاری رہ سکتا ہے جو امن کوششوں کو تیز سے تیز نہیں کر سکتا۔ اس سے Israel کی جانب سے فلسطینوں کے تحفظ میں کمی ہوسکتی ہے جس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ Amr Mosa'ad Israel ki side se Rafah Crossing kholne mein madad kar raha hai.

اس سارے ماحول میں Rafah Crossing kholna Israel ke liye bhi safar nahi saktega.
 
سفید رشمیوں نے پھر بھی فلسطین کو سڑک دی ہے : رفح گزرگاہ کھول کر اسرائیلی فوج کی آگ بھگوڈی نظر آئی ہے
 
اس Rifah گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑا فائدہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس میں فلسطینی لوگوں کے لیے امداد اور خوراک کی فراہمی سے ۔ لگ بھگ دو ملین افراد کے لیے یہ گزرگاہ خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی قلت کا شکار ہیں جو ان کے لیے ایک بڑی نیل ہے۔ تاہم، اس بات کو بھی دھ्यان رکھنا ہوگا کہ اسرائیل کی سیکیورٹی وجوہات پر یہ گزرگاہ کھولنے میں مزید تاخیر بھی ہوسکتی ہے، جس سے امن کوششوں کو نقصان پہنچتا ہوگا۔

دیکھنا ہوگا کہ مصر نے اسرائیل کی بھی دہشت گردی پر توجہ دی ہے، خاص طور پر فلسطینیوں کے لیے ایسے گزرگahoں کھولنے کی وجہ سے جس سے انھیں امداد اور خوراک کی فراہمی ہوسکتی ہے۔

دل کو متاثر کرنے والی بات یہ ہے کہ اسرائیل نے اپنی پوری مدد دیکھتے ہوئے Rifah گزرگاہ کھولنی ہے، جس سے فلسطینیوں کو ایک نئی زندگی کی امکانیت ملا ہوگی۔
 
اس اسرائیل اور مصر کی کامیابی سے بھی اس وقت کی غزہ جنگ بندی معاہدے کی بات نہیں کرنی چاہئے تو گزریہ سے بھی ان کے استحکام کو ٹوٹنے والا پتھا ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ وار تازہ اسرائیلی فائرنگ کی خبر نہیں آ رہی تو ان کو ایسا لگنے دے گا کہ ان معاہدوں پر اعتماد کیسے کر سکتے ہیں؟ Rafah گزرگاہ سے امدادی سامان یا تجارت کی آمدورفت ہونے نہیں دھمکیوں اور فائرنگ کی خبر پر، جبکہ اسرائیلی اسلحہ کا خاتمہ اس بات کو بھی ظاہر کر رہا ہے کہ غزہ میں امن کوششوں سے کوئی کام نہیں ہوسکتا۔
 
اس ملک میں غزہ جنگ بندی معاہدے کا ایسا توڑنہ دیکھنا ہی نہیں تھا، یقیناً ہوگا کہ اس معاہدے کو منظم طور پر لازمی بنایا جائے گا۔

اسیرائیلی فائرنگ سے فلسطینیوں کو واپس جانا ہی تھا، اور اب انہیں واپس جانے کی کوئی فرصа مل گی جائے گی۔ اس معاہدے کے خلاف بڑے بڑے لوگ کیسے جوڑے گئے، اب ان سے ہٹنا پڑے گا۔

رفاع راہداری کھولنے پر غزہ کے لوگوں کی خوشی بہت اچھی ہوگئی ہے لیکن اب اس سے جو بھی نتیجہ نکلتا ہے وہ کیسے جانتا ہے؟

سکوریٹی جانچ لازمی ہونے پر غور کیا جائے، یقیناً اس کے نتیجے بھی اچھے سے نہیں آئنگے۔
 
واپس
Top