بڑا اعلان؛ نیتن یاہو نے گھٹنے ٹیک دیئے؛ فلسطینیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

شیف

Well-known member
غزہ کی سرحدی سرگرمیوں میں ایک نئا پھراوہ! اسرائیل نے غزہ سے دو سال کے بندش کے بعد مصر اور غزہ کے درمیان سرحد کا راستہ کھول دیا ہے جو اس وقت تک بند تھا، جس کی وجہ میں فلسطینیوں کا ایک لما چکن مطالبہ بھی پورا ہوا ہے۔

غزہ کے مجبور اور بے کیس فلسطینیوں نے جنگ کے بعد کی سب سے بڑی خوشخوری کو محسوس کیا ہے جب اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے۔ یہ ایک بڑا اعلان تھا، جو کہ اس وقت تک نہیں تھا جب تک اسرائیل نے غزہ پر مسلسل بمبارies سے چار سال سے محروم رہا ہے اور فلسطینیوں کا ایک دیرینہ مطالبہ ان کی طرف ہٹایا تھا۔

اسrael نے اس غرض میں بین الاقوامی دباؤ کے سامنے اپنی سرحدی سرگرمی کو تباہ کر دیا ہے اور اس طرح فلسطینیوں کے لئے ایک نئی hope کی لہر کھل دی ہے۔

غزہ سے دو سال کی بندش میں مصر اور غزہ کے درمیان رفح گزرگاہ کو بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد فلسطینیوں کی جانچ بھی منع رہی تھی۔ لیکن اب اسرائیل نے اس سرحد کو دوبارہ کھول دیا ہے اور غزہ میں یہ سرگرمی ایک نئی hope کی لہر کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

اسrael نے ایسے سہولتوں کو بھی بنایا ہے جیسے غزہ میں امدادی سامان یا تجارت کی آمدورفت کے لیے اجازت نہیں دی گئی ہے، حالانکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ یہ سرگرمی اسلحہ کی ترسیل کو بھی آسان بنا سکتا ہے۔

غزہ کی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ غزہ میں تازہ اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی معلومات کو روکنا چاہتی ہے جس سے امن کوششوں کو غیر یقینی بنا رہی ہیں۔
 
اب یہ واضح ہو گيا ہے کہ مصر اور غزہ کے درمیان رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑی بات ہے اور اس پر اسرائیل کی جانب سے کیا جا رہا ہے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ یہ سرگرمیوں نے مجھے ایک چیز پر غور کا اہل بنائی ہے جس کی وہ کیا سوف ہو، جو کہ پانی کی کمی کو پورا کرنا تھا، مصر کے درجہ حرارت میں جب گزریں اس کی سرحدی سرگرمیوں نے مجھے یہی بات کہنی ہو۔

اور وہ بھی سوچta ہوں کہ اگر پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اسرائیل نے مصر اور غزہ کے درمیان Rifah گزرگاہ کو کھول دیا تو وہ ایک نئی hope کی لہر کھل دیتا ہے، جس کے لیے فلسطینیوں نے دو سال سے محروم رہے تھے اور اب اس سرگرمی نے ان کے لئے ایک نئی hope کی لہر کھل دی ہے۔
 
ایسا تو ایسا! اسrael نے ابھی پہلی بار مصر اور غزہ کے درمیان رفح گزرگاہ کو کھول دیا ہے، لیکن یہ بات دیکھنا مشکل ہے کہ یہ سرحدی سرگرمیوں میں ایک نئی hope کی لہر کھلنے کے لیے کیا نتیجہ ہوگا? اسrael کی طرف سے بین الاقوامی دباؤ کو تباہ کرنا اور فلسطینیوں کو ایک نئی hope دی جانے کے لیے، ابھی تک یہ بات بھی نہیں پتہ چلی سکی کہ اسرائیل کیا hopes کی لہر کھلایا ہے؟

جہاں تک وہ غزہ اور مصر کے درمیان Rafah گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، تو یہ ایک بڑی بات ہے! لیکن جب کہ فلسطینیوں کی جانچ منع رہتی تھی اور غزہ میں امدادی سامان یا تجارت کی آمدورفت کو اجازت نہیں دی گئی، تو یہ ایک مشکل صورتحال ہے!

جس سے اسرائیل کا استحصال ہوتا ہے وہی ہے جس سے فلسطینیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے! ابھی تک اسرائیل نے غزہ پر مسلسل بمبارies سے چار سال سے محروم رہا ہے، اور فلسطینیوں کا ایک دیرینہ مطالبہ ان کی طرف ہٹایا تھا! اب اسرائیل نے سرحدی سرگرمی کو دوبارہ کھول دیا ہے، تو یہ بات پتہ چلے گی کہ اسرائیل کیا hopes کی لہر کھلاega?!
 
سرحد کھولنا ایک بہت اچھی بات ہے لیکن وہ فلسطینوں کی جگہ پر ہی نہیں، اس سے ان کو ساتھ مل کر کام کرنے کا ایک موقع ملا ہے؟ اور وہ سرحد جسے اسرائیل کھول رہا ہے وہ فلسطینیوں کو سرخونے کی جگہ ہے اور انہیں ایک نئے hope کی لہر کے طور پر دیکھنا بہت مایوس کن ہے، ان کے لیے پچیس سے زائد افراد کو مارا جاتا رہا ہے اور انہیں کبھی بھی ایک نئے hope کی لہر میں رہنا نہیں چاہیے، یہ وہ وقت تھا جب فلسطینیوں کو اپنی سرحد پر کام کرنے کا ایک موقع ملتا ہے اور اب یہ سرحد اُس کے لیے ہی نہیں ہے۔
 
اس سرحد کھولنے کا یہ اعلان تو ایک بڑا کاروں ہے، لیکن آپ کیا سمجھتے ہو کہ اس کی پِچھلے کی چابی کیسے نکل آئی؟ فلسطینیوں کے لئے اس سرحد کھولنے سے پہلے ایسا کیا کہ وہ ان کے پاس ایک دیرینہ مطالبہ پورا کر سکے؟ مزید یہ کہ اسرائیل نے اپنی سرحدی سرگرمی کو بین الاقوامی دباؤ کے سامنے تباہ کر دیا ہے، اس سے واضح ہوا کہ وہ فلسطینیوں کی جانچ کے لئے کس قدر رکھدہ اور چالاک ہے! 🤔
 
اسrael کو بھی ایک بات اچھی نہیں لگ رہی؟ وہ غزہ سے دو سال کی بندش کے بعد مصر اور غزہ کے درمیان رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، لیکن اس نئے سرحدی سرگرمی میں بھی کوئی ایسا معاوضہ نہیں کیا گیا جو فلسطینیوں کے لئے ایک بڑی hope کی لہر ہو؟ انہوں نے غزہ میں امدادی سامان یا تجارت کی آمدورفت کو بھی اجازت دی ہے، لیکن انہیں یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ فلسطینیوں کے لئے ایسا معاوضہ کھینچ سکیں گے جو ان کی زندگی کو بہتر بنائے گا؟ 🤔
 
بھائی یو! یہ ایک بڑا فैसलہ تھا، اسرائیل نے مصر اور غزہ کے درمیان Rifah گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، جو کہ فلسطینیوں کے لئے ایک بڑاHope کی لہر تھی 🌟. لیکن اس کے پیچھے کیا Reason ہے؟ اسرائیل نے یہ غرض میں بین الاقوامی دباؤ کے سامنے اپنی سرحدی سرگرمی کو تباہ کر دیا ہے، لیکن فلسطینیوں کے لئے یہ ایک نئی hope کی لہر ہے، پھر کیا انہیں اس Hope کی Lahr کو حاصل نہیں کرنا چاہیے؟ 🤔
 
عربستان اور اسرائیل دونوں کے درمیان اس روایات کی بھی تلافی کی ضرورت ہے۔ مصر اور غزہ کے درمیان رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑا قدم ہے، لیکن یہ پچیس سال قبل ایسا ہی تھا جب فلسطینیوں نے اپنی آزادی کی لہر کھیل رہی تھی۔

اب اس سرگرمی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ انہیں ایسے بڑے عہد کی آوارہ ہوئی لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے وہ اپنی زندگی کو بدلنے میں صعبہ نہیں دیتے۔
 
یہ بات اور بھی نازک تھی کہ اسرائیل نے رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، لेकن یہ جانتے ہو تھے کہ فلسطینیوں کی جانچ بھی منع رہتی تھی، اور اب وہ ایسا کر رہے ہیں جو نہیں سنیا گیا۔

اسrael کے اس اعلان سے لاکھوں فلسطینیوں کی hopes بڑھ گئی ہیں، اور اب وہ اپنی زندگیوں میں ایک نئی hope کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

لیکن اس بات پر بھی توجہ دینا چاہیے کہ اسرائیل کی یہ سرگرمی تو ایک نئی hope کی لہر کے طور پر دیکھنی پڑ رہی ہے، لیکن اس سے فلسطینیوں کو ان کی آزادی اور استقلال کا راستہ بھی واضح ہوتا ہے۔
 
اسrael نے غزہ سے دو سال کی بندش میں مصر اور غزہ کے درمیان رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، یہ ایک بڑی بات ہے لیکن ابھی تک اس سے پہلے بھی مصر اور غزہ میں شانے کی کوششوں پر زور دیا گیا تھا، لیکن ابھی تک نہیں تھا جب تک اسرائیل نے اپنی سرحدی سرگرمیوں کو تباہ کر دیا ہے اور فلسطینیوں کے لئے ایک نئی hope کی لہر کھل دی ہے۔
اسrael کے اس اعلان سے اب تک سے بھی زیادہ دباؤ نہیں تھا جس کے بعد فلسطینیوں نے اپنے لئے ایک نئا راستہ تلاش کیا ہے۔
اسrael کو یہ جاننا چاہیے کہ اسرائیل کی سرحدی سرگرمیوں سے فلسطینیوں میں hope ki lhaara kholni nahi hai.
 
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے اور بھی اچھا گزARA دیکھا گیا ہے! اس نئی سرحدی سرگرمی سے فلسطینیوں کو ایک نئی hope کی لہر مل چکی ہے جن کے لئے پچیس سال سے یہ اُسای نہ ہونے کا حال تھا! 😊

حالانکہ اس بات کو بھی آپ جانتے ہوں گے کہ اسرائیل کی ایسے سرگرمیوں سے وہ فلسطینیوں کے لئے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتی، لیکن اس بات پر یقین کرتا ہوں کہ ان سرگرمیوں سے فلسطینیوں کی Hope اور Life بہت زیادہ آسان ہوسکتی ہے! 🌟
 
بھائی ایسے نے بھی کیا تھا، غزہ کی سرحد پر چھپنا تو آسان تھا۔ اب اسرائیل نے کھولا دیا تو صحت مند لوگ خوش ہو رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو بھی یہ خوشی ملا رہی ہے۔ Israel ka beta toh bilkul sahi kiya hai, sabko khaushi di hai!
 
واپس
Top