بڑا اعلان؛ نیتن یاہو نے گھٹنے ٹیک دیئے؛ فلسطینیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے سرحد کھولنے کا اعلان فلسطینیوں کے لیے ایک گراند اسکیم ہوا۔ یہ اعلان پچیس سالوں کی جنگ بندی کے بعد ہوا جس سے غزہ کی آبادی کو کم از کم ایک اہم معیشت، خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کے لئے ایک راز مل گیا۔

غزہ کے اس ماحول میں جس پر دو سال سے اسرائیلی بمباری کی تیز رفتار ہوا رہی ہے، اور جس نے غزہ کی آبادی کو بے کثافت، وہاں سے کھو چکی ہوئی ایک لاکھ اور پچیس ہزار فلسطینیوں کے لیے ایک راز مل گیا ہے۔

غزہ پر اسرائیل کی تیز رفتار بمباری کے بعد، مصر نے غزہ کے معاشیات اور پیداوار کو منفی اثرات سے موقاف کرنے کا فیصلہ کیا اور ہر سال سوا دس لاکھ ٹن Wheat کی بڑی مقدار اس شہر میں آئی تھی، لیکن دو۔ لاکھ ہزار ٹن کھانے والے کے لیے ان کو ہی کافی نہیں تھا۔

دوسری جانب غزہ پر اسرائیلی فiring سے فلسطینیوں کی جانوں میں بے حد لکھ اچھی جان گئی ہے، جس سے امن کوششوں کو ایسا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ اُس نے بھی اپنی جان لے لی ہیں۔

آج انیس اور دو سے ایک لاکھ فلسطینیوں کو واپس گھر آنے کی اجازت ملنے کا یہ اعلان نیتن یاہو نے کیا ہے، جو پچیس سالوں سے جنگ بندی پر رکھے ہوئے شہر کو ایسے اسکیم کے ساتھ واپس بھیج رہا ہے جس کی ناقابل تسخیر قیمت تھی۔

غزہ کے حالات میں دیکھتے ہوئے، اسرائیل نے اپنے وزیراعظم نیتن یاہو سے ایک واضح اعلان کیا ہے کہ انہوں نے مصر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کی بنا پر غزہ کو مصری سرحد کے سامنے واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

غزہ میں سوا دو سال سے بند شدہ Rifah Crossing کی واپسی کا یہ اعلان اور اس بات کی خبر ہوئی ہے کہ امریکی سرکاری حلف داریوں نے اپنی جانب سے بھی انہی معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کو بھی ان معاہدوں میں شامل کرنا پڑ گیا ہے، جس کا یہ اعلان 24 اردو نیوز پر رپورٹر نے کیا ہے۔

اس واضح اعلان کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کو کچھ آم و فلاح کا موقع مل گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑی چیلنج کی صورت حال نے انہیں ابھرا ہوا ہے۔
 
ایسا یہ اعلان تو کرنے والوں کے لئے ایک بڑا معاملہ ہوا ہو گا، لیکن فلسطینیوں کو ابھی یہ نہیں تھا۔ وہ سب سے پہلے اپنے قومی سرگرمیوں پر دکھ میں آئے گے، اور فوری طور پر انہیں اس معاملے کو کچھ معقول آگاہی حاصل کرنی پڑے گی۔
 
اس اعلان پر یہی محسوس ہوتا ہے کہ غزہ کی آبادی کو ایک راز مل گیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے سرحد کھولنے نے فلسطینیوں کی جان و مال کا بڑا نقصان پہنچایا ہے.جب تک غزہ شہر میں 40 سال سے بند شدہ Rifah Crossing رہا، انہوں نے صرف مصری سرحد کے سامنے واپس جانے کی کوشش کی تھی، اب اس اعلان سے ان لوگوں کو واپس جانے کی ایک یقینی راستہ مل گیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے بھی مصر نے غزہ کے معاشیات اور پیداوار کو منفی اثرات سے موقاف کرنے کی کوشش کی تھی، جس سے ان لوگوں کو کم سے کم خوراک اور طبی امداد ملنے کی صورت میں کچھ نہ کچھ ہوتی تھی.
 
ghzah kaa is maahol meh dekhta hai toh yah kya hai? 40 salo ke baad jo gairkanoon ki ladaai thi uske baad ab yeh samajh nahi aata ki kaisi cheez hui. pehle pakaaraaam se ghzah ko ek mazboot maasehet, khana aur tabeeiat maaedaar banaya gaya tha jissey un logon ke liye ek raza mila. ab yeh samajh nahi aata kaise kaafi salo mein kuch na hua?

aur yeh bhi samajh nahi aata ki Israel kis tarah pakaaraaam ko nikaal deta hai? ghzah ki aabadi ko be kaafat mehna laga raha tha aur usse kam se kam ek mazboot maasehet, khana aur tabeeiat maaedaar banane ke liye ek raza mil gayi thi. lekin ab yeh samajh nahi aata kaise isse pakaaraaam ko nikaalna hai?

yaad rakhen, ghzah ki aabadi ko kam se kam ek laakh aur pachisaseen filasateen ke liye ek raza mil gayi thi. lekin ab yeh samajh nahi aata kaise isse paakaraaam ko nikaalna hai?

aur yeh bhi ek bada cheez hai ki amrikaa aur yeuropeean union ne bhi in maahado par handshaakee kar diya hai. yaad rakhen, ghzah ki aabadi ko kam se kam ek laakh aur pachisaseen filasateen ke liye ek raza mil gayi thi. lekin ab yeh samajh nahi aata kaise isse paakaraaam ko nikaalna hai?
 
اس اعلان پر مینے سوچا کہ اس کی پچیس سالوں کی جنگ بندی کے بعد فلسطینیوں کے لیے ایک راز مل گیا ہے، میں یہ سोचتا ہوں کہ غزہ کے لوگوں کو اب انڈر گریژ ڈھانچے اور مصری سرحد تک رسائی حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے، لیکن مینے سوچا کہ ایسے آم و فلاح کا سائیز اس کے باوجود بھی غزہ پر اسرائیل کی بمباری کی تیز رفتار پر چل رہی ہے، مینے یہ بھی سوچا کہ مصر نے اپنے معاشیات اور پیداوار کو منفی اثرات سے موقاف کرنے کا فیصلہ کیا ہو، جس سے غزہ کی آبادی کو انڈر گریژ سے کوئی فائدہ نہیں مل سکا ہوگا۔
 
اس اعلان پر غزہ کا ماحول ایک جان جے جان، گم گئے فلسطینیوں کو واپس جانے کی اجازت دے کر اسرائیل نے اپنی طرف سے بہت سارے نقصان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے میں اسرائیل کا کھل جانا ایک اور بڑی دیکھ بھال نہیں تھی، بلکہ ایک اچھی خبریں لائیں گئی ہیں فلسطینیوں کے لیے جو دو سال سے اپنی زندگی کو چیلنج کرتے آ رہے تھے۔

اس معاہدے پر دستخط کرنے نے اسرائیل کو ایک بڑی اچھی دیکھی ہوگی، اس سے انہیں اپنی جان لے جانے کی پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پیا۔
 
اس اعلان پر غزہ میں فلسطینیوں کا حال بہت دلچسپ ہے 🤯، ان کی جانب سے اب یہ اعلان لگ رہا ہے کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جو Rifah Crossing کو دوبارہ کھولنے کے لئے ہے جس کے ساتھ ایک اور معشوق میں یو۔. .۔۔ .۔۔

اب غزہ کی آبادی اس معاہدے پر اپنی جان دے چکی ہے، اب وہ ان کو واپس بھی جاتے ہیں۔ یہ اعلان پچیس سالوں سے جنگ بندی کے بعد ہوا ہے اور اس کی ناقابل تسخیر قیمت ہے، مگر غزہ میں فلسطینیوں کو ابھی بھی واپس جانے کی اجازت ملنے کا یہ اعلان ان کی جانوں میں بے حد لکھ چکا ہے۔
 
اس اعلان کا لاکھों کے لئے عظیم معاملہ بن رہا ہے، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا اس آم و فلاح میں فلسطینیوں کو کافی امداد ملے گی یا نہیں؟

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے سرحد کھولنے کا یہ اعلان پچیس سالوں کی جنگ بندی کے بعد ہوا ہے، جس سے غزہ کی آبادی کو ایک اہم معیشت، خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کے لئے ایک راز مل گیا ہے۔

مگر کیا اس راز سے صرف فلسطینیوں کو ہی فائدہ پہنچایا جائے گا؟ یا نیند آئے گا کہ یہ معاملہ ایک ایسے معاملے کی طرح ہے جو صرف فلسطینیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے؟
 
اس اعلان سے پہلے غزہ کے لوگوں کو کچھ آم و فلاح کا موقع مل گیا تھا، لیکن اس اعلان کے بعد بھی ان کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔

اس اعلان کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کو کچھ آم و فلاح کا موقع مل گیا تھا، لیکن اس اعلان کے بعد بھی ان کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔

اس سے پہلے پچیس سال سے جاری جنگ بندی سے غزہ کی آبادی کو ایک اہم معیشت، خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کے لئے ایک راز مل گیا تھا۔ اس سے پہلے غزہ کی آبادی بے کثافت ہو گئی تھی، اور وہاں سے ایک لاکھ اور پچیس ہزار فلسطینیاں کھو چکی ہوئی تھیں۔

اس اعلان سے ان کی زندگی بھر دے کر تبدیل ہو گئی ہے، اور اب وہ اپنی جانوں کو بچانے کے لئے جسمانی اور منسی رکاوٹوں سے نکل کر غزہ میں پہنچ سکتے ہیں، اس وقت کا یہ اعلان ان کی زندگی میں ایک نیا گھونٹا لگ رہا ہے۔
 
یہ اعلان فلسطینیوں کو واپس گھر آنے کا ایک گراند اسکیم لگ رہا ہے، لیکن یہ ایک بات آسان ہے کہ اس معاہدوں سے غزہ کی آبادی کو کس طرح فائدہ ہوا گیا ہے؟ یہ اعلان بھی اسرائیل کی جانب سے ایک گراند ٹرکٹ بن گیا ہے جو فلسطینیوں کو واپس گھر آنے کا ایک راستہ دیا ہے، لیکن یہ بھی ایک سوال ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو کس طرح معاشرتی امداد فراہم کی ہے؟

اب جب غزہ میں Rifah Crossing دوبارہ کھول دیا گیا ہے تو یہ ایک بڑی تحریک بن گیا ہے، لیکن یہ بات بھی سوچنی چاہئیے کہ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو معاشرتی امداد کیسے فراہم کی جائیگی؟
 
اس اعلان کو دیکھتے ہوئے میں خیال کرتا ہوں کہ غزہ کی آبادی کو اس معاملے میں ایک اچھی نئی گزری ہے جس سے وہ اپنے حیات کو بہتر بنانے کا موقع حاصل کر رہی ہے، لیکن اس معاملے میں ایک بات ضرور ضروری ہے۔
 
😊 یہ اعلان کچھ وقت بعد ملا، لیکن آج اس پر غزہ والوں کو ایک لاکھ اور پانچ ہزار فلسطینیوں کو واپس گھر آنے کی اجازت ملنے کا یہ اعلان نیتن یاہو سے ملا ہے، جو پچیس سالوں سے جنگ بندی پر رکھے ہوئے شہر کو ایسے اسکیم کے ساتھ واپس بھیج رہا ہے جس کی ناقابل تسخیر قیمت تھی، یہ اعلان فلسطینیوں کے لیے ایک گراند اسکیم ہوا ہے، اب سے غزہ والوں کو اپنی زندگی بھر میں آج تک بے کثافت اور بمباری سے جو کچھ جھی چکی ہے وہاں سے نکل کر ایک نئی زندگی شुरू کر سکngen۔
 
تیرا یہ اعلان کچھ ہوگا؟ غزہ میں فلسطینیوں کو پہلی بار پینے والی مٹی سے لے کر پانی بھی نہیں مل رہا تاکہ ان کے لیے واپسی کی ایک گراند اسکیم ہو سکے۔
 
اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد غزہ کو ریفا Crossing سے واپس آنا اور اس سے فلسطینیوں کو پیداوار، خوراک اور طبی امداد ملے گی تو یہ ایک بے مثال مواقع ہے. لेकن پچھلے دو سال کی اسرائیلی بمباری کا دھکہ اور اس سے ہونے والی پیداوار میں کمی نے فلسطینیوں کو بے گنیا کیا تھا. اب یہ معاہدہ واپس آنے کی بات کر رہا ہے تو کبھی دیکھا ہو گا اور کچھ کیسے ہو گا؟
 
یہ اعلان صرف فلسطینیوں کو ایک دھोखہ دیتا ہے، یہ آسانی سے ان کی جانچ بھی نہیں پائی گئی، اس معاہدے کی بنیاد پر غزہ کو دوبارہ کھولنا، یہ صرف ایک دھوکہ ہوگا؟
 
🤔 غزہ میں اسرائیل کی جانب سے سرحد کھولنے کا اعلان اچھی نئی شروعات کا ماحول بن sakta hai, لیکن پچیس سالوں سے جاری جنگ بندی کے دوران فلسطینیوں کو ان کی جان کی قیمتی لکھنی پڑی ہوگی۔

اس اسکیم نے فلسطینیوں کو ایسا راز دیا ہوا ہوگا کہ ان کی زندگی میں آئندہ آہراب ہو گی، لیکن اس سے پہلے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل نے اپنے دوسرے سرحدی شہروں میں بھی اسی طرح کے اسکیم کی تجویز کی ہو گی یا نہیں؟

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کو آپنے ساتھ رہنے والوں کے لئے ایک معاشی اور صحت مرض کی بنیاد رکھنا پڑی ہوگی، لیکن یہ بھی سوال ہے کہ فلسطینیوں کو اس طرح سے اپنے ملک میں واپس آنے کا فرصت مل گئی ہوگی، اور انہوں نے ایسی زندگی قائم کرنی ہوگی جو ان کی زندگی کو بھی کامیابی بناتی۔
 
عزیز میرے دोसٹ! یہ اعلان صرف غزہ کے لیے نہیں، بلکہ فلسطینیوں کی زندگی کے لیے بھی ایک واضح نویں چھان لگا ہے۔ پچیس سال سے ان لوگوں کو اپنے گھر کے باوجود باہر رہنا پڑا، اور اب اس اعلان سے وہ اپنی جائیدادوں کو دوبارہ حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسے معاہدوں پر دستخط کرنے سے وہ اس سے پہلے کیسے استفادہ کرسکتے تھے؟

غزہ کی تاریخ میں سوار ہونے والی یہ سرگرمیوں نے فلسطینیوں کو بہت پریشانیوں کا سامنا کرنے پڑایا، اور اب انھیں اس معاہدے سے واپس چلنا ہے۔ لیکن یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسے معاہدوں پر دستخط کرنے کے بعد وہ کیسے اپنی زندگی کو بحال کرسکتے ہیں؟

ابھی ان لوگوں نے اپنا گھر دوبارہ حاصل کیا، اور اب وہ اپنی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہتے ہیں، لیکن یہ بات بھی تajuظ ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کو دوسری baatوں سے بھی سائف کرنے کی کوشش کی ہے جس سے وہ اپنی زندگی کو بحال کرنے میں مزید difficulty کا سامنا کر رہتے ہیں۔

غزہ کے حالات میں دیکھتے ہوئے، یہ اعلان صرف ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی بات نہیں بلکہ فلسطینیوں کی زندگی کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش ہے۔
 
یہ اعلان تو غزہ میں فلسطینیوں کو ایسا راز مل گیا ہے جس سے وہ اپنی معیشت کھڑی کر سکیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والی یہ سرحد کھولنا صرف ایک چھوٹی سی بات نہیں، وہ اس پر پھر سے اپنی تیز رفتار بمबاری شروع کر دی گئی ہے۔
 
سچائی کو پھینکنے والا یہ اعلان تو کچھ کہہ دیتا ہے، لیکن ابھی تک سچائی کی کس طرح جگہ ہے اس پر سوال کیوں نہیں؟ 45 سالوں کی جنگ بندی میں یہ اعلان تو ایک گراند اسکیم کا ذریعہ ہوا، لیکن غزہ کی آبادی کو واپس جانے کی اجازت ملنے کا یہ اعلان کیا جاسکتا تھا؟ پچیس سالوں سے ایک راز مل گیا اور ابھی تک اس پر انحصار کیا جا رہا ہے؟

ایسا لگتا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی جان کی قیمت بہت کم ہے، جبکہ اسرائیل کو یہ اعلان کیا جاسکتا تھا؟ مصر اور امریکہ نے تو ان معاہدوں پر دستخط کر لیے تھے، لیکن ابھی تک ان کی قیمت کس کی ہوئی؟ یہ واضح ہوا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو ایک اور بڑا راستہ مل گیا ہے، لیکن اس کی قیمت کس کی ہوئی؟
 
واپس
Top