سعودی عرب نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے کہا ہے کہ مملکت نہ اپنی فضائی حدود اور نہ ہی اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے دے گی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران یہ بات बतائی ہے جس پر سعودی عرب ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مکمل احترام دیتی ہے۔
اس مؤقف نے Iran کی جانب سے Iran کی خودمختاری کا احترام سے ممتاز کیا جس پر ایرانی صدر مسعودmedicalan شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے سعودی کوششوں کی سرाहनا جاتی ہے۔
سعودی ولی عہد نے اپنے مشرقی وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اٹھانے والے یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ Saudi Kingdom Iran سے لڑنے میں اپنی فضائی حدود اور سرزمین نہیں استعمال کرے گی۔
سعودی عرب کے اس مؤقف سے خطے کی کشیدگی کم ہونے کی امید ہے جو دوسرے ملکوں کو ان پر مشتمل ہونے سے روک سکتی ہے اور اس کے باعث علاقائی امن اور سلامتی میں ترغیب مل سکتی ہے۔
سعودی عرب نے اپنا یہ فیصلہ دیا ہے جو ان کی سرزمین پر ایران کے ساتھ لڑائی کے وقت اس پر استعمال کرنے سے پہلے کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے کہا ہے اور یہ ایک بڑا قدم ہے، اب جب ایران نے اس پر اپنا احترام دکھایا تو اس سے خطے کی کشیدگی کم ہونے کی امید میں کچھ برادری محسوس ہو رہی ہے، اب بھی یہ بات نہیں پوری ہوئی ہے کہ ان دو ملکوں کے درمیان امن اور سلامتی کی واضح بات کی جا سکتی ہے؟
اس فیصلے سے میرا خیال ہے کہ یہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک اہم وادی میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کی طرف Move ہے.
اس فیصلے سےSaudi Arabia Iran کی خودمختاری پر احترام دے رہی ہے اور کئی دوسرے ملکوں پر بھی اس طرح کا اثر پڑ سکتی ہے.
اس وادی میں کشیدگی کو کم کرنے میں یہSaudi Arabia کی مدد ہو سکتی ہے جو دوسرے ملکوں کو اس پر مشتمل نہ ہونے پر مجبور کرتا ہے.
اس فیصلے سے Saudi Arabia اور Iran کے درمیان ایک نئی Seite آئی ہے جو امن اور استحکام کو فروغ دیتا ہے۔
اس طرح سے کئی ملکوں کو ان پر مشتمل ہونے سے روکنے میں Saudi Arabia کی مدد مل سکتی ہے.
یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو استعمال کرنے کی نا ملکیyet توڑ رکھنا چاہتا ہے... اور یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے کہ انہیں اپنی سرزمین پر کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے اپنے صدر سے مطلع کرنا چاہتا ہے... اور ایران کی جانب سے کہی گئی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین اور فضائی حدود کا استعمال انہوں نے نہیں کیا ہے... اور اس سے خطے میں امن اور استحکام کی ترغیب مل سکتی ہے... لेकिन یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو اس طرح استعمال کرنا چاہتا ہے جو اس کی معاشرتی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ہو...
السعودية کی بات سے ایران کے لیے بھی احترام کا شکار ہوا واضح طور پر کہنے سے پہلے ہی سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود اور سرزمین کو Iran کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے
سعودی ولی عہد نے اپنا مشرقی وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کی فوجی حدود اور سرزمین ایران سے لڑنے میں استعمال نہیں کی جائے گی
کیا یہ کامیابی کا باعث ہوگا؟ پھر بھی اس کا منظر تھا کہ Saudi Kingdom Iran سے لڑنے میں اپنی فوجی حدود اور سرزمین نہیں استعمال کریں گی
Saudi Arabia ne apne position ko wazah kar diya hai Iran ke khilaaf kisi bhi military operation ka istemaal nahin karegi. Shahzada Mohammad bin Salman ne Iranian president Ebrahim Raisani se phone par baat ki thi jo Saudi Arabia ki support hai Iran ki self-determination aur regional balance ko bahut utha deta hai.
Mujhe lagta hai ki Saudi Arabia ki ye position Iran ki self-determination ka respect karta hai. Lekin Saudi Arabia kee ye position Iran ki side se bhi kuchh samasyaayein aati hain? Aapke liye yeh question kya hai?