پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ایک دeraڈرامائی واقعے پر غور کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھاٹی گیٹ میں موت کا ساتھ ہے، یہاں پر 5 افسران کی گرفتاری اور 2 افسران کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم جاری ہے۔
لاہور میں ایک مین ہول حادثے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی منصوبہ بندی کی جس میں واقعے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مریم نواز نے غفلت مرتکب افسران کو شدید سرزنش کرتے ہوئے ایل ڈی اے، نیسپاک اور کنٹریکٹر تینوں کو مجرم قرار دیا جس سے اس حادثے میں سچائی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہریوں کی سہولت اور شہر کی خوبصورتی کے لئے تعمیراتی کام لگاتے ہیں، لیکن انسان کی جان کو نہیں لیتے۔
مریم نواز نے اس حادثے کا جواب دینے میں کمشنر لاہور کو بھی اس طرح کے ذمہ دار قرار دیا جسے ایل ڈی اے کو تھا۔ وہانہوں نے بتایا کہ واقعے کو دبانے کی کوشش کی گئی جو کہ محفوظ طریقے سے نہیں کیا گیا اور اس پر غفلت برتی گئی۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ خاندان کو دلاسہ دینے کی بجائے خواتین کو ہی تھانے لے جایا گیا اور اس دوران سے زیادتی بھی کئی بار ہوئی، جس پر سب کو جوابدہ ہونا ہو گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بات کہنے کی کوشش کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، جس سے یہ واضع ہوتا ہے کہ واقعے ساتھ سات بجے تک فوٹیج لگائے گئے تھے لیکن ہر کوہ پر غفلت کی وجہ سے اُس وقت ریسکیو آپریشن نہیں کیا گیا۔
مریم نواز نے سوال پوچھا کہ جن لوگ ایسے طریقے سے چلے گئے، ان کے گھروں میں بچے نہیں؟ وہ ان کو یہ بات بتانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ انہیں پوچھا جائے اور اس پر انہوں نے بھی برہمی کا اظہار کیا کہ سیف سٹی کے سربراہ کو اس واقعے کا علم تک نہیں تھا، اور انہیں وزیراعلیٰ کی کال پر آگاہی ملی۔
لاہور میں ایک مین ہول حادثے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی منصوبہ بندی کی جس میں واقعے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مریم نواز نے غفلت مرتکب افسران کو شدید سرزنش کرتے ہوئے ایل ڈی اے، نیسپاک اور کنٹریکٹر تینوں کو مجرم قرار دیا جس سے اس حادثے میں سچائی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہریوں کی سہولت اور شہر کی خوبصورتی کے لئے تعمیراتی کام لگاتے ہیں، لیکن انسان کی جان کو نہیں لیتے۔
مریم نواز نے اس حادثے کا جواب دینے میں کمشنر لاہور کو بھی اس طرح کے ذمہ دار قرار دیا جسے ایل ڈی اے کو تھا۔ وہانہوں نے بتایا کہ واقعے کو دبانے کی کوشش کی گئی جو کہ محفوظ طریقے سے نہیں کیا گیا اور اس پر غفلت برتی گئی۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ خاندان کو دلاسہ دینے کی بجائے خواتین کو ہی تھانے لے جایا گیا اور اس دوران سے زیادتی بھی کئی بار ہوئی، جس پر سب کو جوابدہ ہونا ہو گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بات کہنے کی کوشش کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، جس سے یہ واضع ہوتا ہے کہ واقعے ساتھ سات بجے تک فوٹیج لگائے گئے تھے لیکن ہر کوہ پر غفلت کی وجہ سے اُس وقت ریسکیو آپریشن نہیں کیا گیا۔
مریم نواز نے سوال پوچھا کہ جن لوگ ایسے طریقے سے چلے گئے، ان کے گھروں میں بچے نہیں؟ وہ ان کو یہ بات بتانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ انہیں پوچھا جائے اور اس پر انہوں نے بھی برہمی کا اظہار کیا کہ سیف سٹی کے سربراہ کو اس واقعے کا علم تک نہیں تھا، اور انہیں وزیراعلیٰ کی کال پر آگاہی ملی۔