سائنس دانوں نے گردے کی پیوندکاری میں ایک اہم پیشرفت حاصل کرلی ہے جس سے مستقبل میں لاکھوں افراد کو بچا جا سکتا ہے۔
ایک ماہرین کے مطابق، انہوں نے ایک مخصوص گردے کو تیار کیا ہے جو ہر خون کے گروپ میں رکھنے والے مریض کے لیے قابل قبول ہے۔
یہ تحقیق کینیڈا اور چین کے مختلف سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ایسے گردے پر تجربہ کیا ہے جو اصولی طور پر ہر مریض کے جسم میں قبول کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران، انہوں نے ایک دماغی طور پر فوت شدہ شخص کے جسم میں ایسے گردے کو کام کرنے کے لیے دو ہزار دن سے زائد عرصہ تک استعمال کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جس پر ایسا طریقۂ کار انسانی جسم میں آزمایا گیا ہے جو مستقبل میں گردے کی پیوندکاری کے نتائج کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
اس وقت تک، ایسے مریض جن کا خون ایک مخصوص قسم کا ہوتا ہے انہیں گردہ ملنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ صرف اسی خون کے گروپ کے عطیہ دہندہ سے گردہ لے سکتے ہیں۔
لیکن اس تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ایک مخصوص طریقہ استعمال کرتے ہوئے ایسے گردے کو تبدیل کیا ہے جو ہر خون کے گروپ میں رکھنے والے مریض کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔
اس عمل میں انہوں نے ایسے خاص حیاتیاتی عوامل استعمال کیے ہیں جو گردے پر موجود شناخت کے نشانات کو ختم کردیتے ہیں جس کے لیے جسم عام طور پر عضو کو مسترد کردیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ان نشانات ختم ہوجاتے ہیں تو انسانی مدافعتی نظام اس گردے کو اجنبی نہیں سمجھتا اور اسے قبول کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ چند دن بعد گردے میں دوبارہ پرانی علامات ظاہر ہونے لگیں، جو ایک ایسا ردِ عمل تھا جس کی وجہ سے تحقیق میں اچانک بڑی تبدیلی آئی۔
ایک ماہرین کے مطابق، انہوں نے ایک مخصوص گردے کو تیار کیا ہے جو ہر خون کے گروپ میں رکھنے والے مریض کے لیے قابل قبول ہے۔
یہ تحقیق کینیڈا اور چین کے مختلف سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ایسے گردے پر تجربہ کیا ہے جو اصولی طور پر ہر مریض کے جسم میں قبول کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران، انہوں نے ایک دماغی طور پر فوت شدہ شخص کے جسم میں ایسے گردے کو کام کرنے کے لیے دو ہزار دن سے زائد عرصہ تک استعمال کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جس پر ایسا طریقۂ کار انسانی جسم میں آزمایا گیا ہے جو مستقبل میں گردے کی پیوندکاری کے نتائج کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
اس وقت تک، ایسے مریض جن کا خون ایک مخصوص قسم کا ہوتا ہے انہیں گردہ ملنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ صرف اسی خون کے گروپ کے عطیہ دہندہ سے گردہ لے سکتے ہیں۔
لیکن اس تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ایک مخصوص طریقہ استعمال کرتے ہوئے ایسے گردے کو تبدیل کیا ہے جو ہر خون کے گروپ میں رکھنے والے مریض کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔
اس عمل میں انہوں نے ایسے خاص حیاتیاتی عوامل استعمال کیے ہیں جو گردے پر موجود شناخت کے نشانات کو ختم کردیتے ہیں جس کے لیے جسم عام طور پر عضو کو مسترد کردیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ان نشانات ختم ہوجاتے ہیں تو انسانی مدافعتی نظام اس گردے کو اجنبی نہیں سمجھتا اور اسے قبول کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ چند دن بعد گردے میں دوبارہ پرانی علامات ظاہر ہونے لگیں، جو ایک ایسا ردِ عمل تھا جس کی وجہ سے تحقیق میں اچانک بڑی تبدیلی آئی۔