بھارت اور متحدہ عرب امارات نے ایک تاریخی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں جس سے دونوں ممالک کےdefenseی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
بھارت نے یو اے ای سے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے جس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری قائم کرنے اور آئندہ چھ سالوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کر کے 200 ارب ڈالر تک پہنچانے کا عزم کیا ہے۔
ابوظہبی کی سرکاری کمپنی ADNOC Gas بھارت کی ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن کو 10 سال تک سالانہ 0.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی جس کے بعد اس کے مجموعی معاہدوں کی مالیت 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر Sheikh Mohammed bin Zayed Al Nahyan نے بھارت کے وزیر اعظم Narendra Modi سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے معاہدے پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا۔
بھارتی وزیر خارجہ Vipin Sharma Nair نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دونوں ممالک نے ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے قیام کی سمت کام کرنے کیلیے لیٹر آف انٹینٹ پر بھی دستخط کیے ہیں۔
اس معاہدے سے دونوں ممالک کےDefenseی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جس سے دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں بھی اضافہ ہو گا۔
ابھی تک یہ معاہدہ نہیں ہوا تھا اس لیے ابھی سے لوگ اس پر بات کر رہے تھے اور اب یہ ہو گیا ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہون گے۔
اس معاہدے کے باعث 200 ارب ڈالر تک کی تجارت کرنے کی بات بھی ہوئی ہے جو بہتے ہی مقبول ہو گا۔
اب بھی یہ دیکھنا ہی کہ دونوں ممالک کے رہنماؤं نے ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری قائم کرنے اور باہمی تجارت کو دوگنا کر کے 200 ارب ڈالر تک پہنچانے کا عزم کیا ہے۔
اس معاہدے سے دونوں ممالک کے Defenseی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جو کہ بہت اچھا بات ہے۔
ایسا نہیں، یہ معاہدہ صرف دوسرے ملکوں کو توئٹ کرنے کے لئے نہیں بلکہ تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے اور Defenseی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ہے۔ ابھی تک توئٹ کرنے کی بات نہیں، بس معاشی تعلقات میں اضافہ کریں۔
بھارتی اور اماراتی دو نوجوانوں کی جسمانی پہچان کو کیسے سمجھنا چاہیے؟ ایک ملک جس میں بھاپ کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں، اور دوسرا ملک جس کی پتھر کے ساتھ کھیلتا ہے وہ دونوں ایک ہی کپ میں کھیل رہے ہوتے ہیں... یہ ایک بڑا معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑا فائدہ!
اکILLا اٹھا دیا، یہ معاہدہ ابھی صرف ایک واضح بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ دونوں ممالک نے اپنی دفاعی تعلقات کو بڑھانے اور معاشی تعلقات کو دوگنا کرنے پر ایک نئی پلیٹ فارم کو تیار کر لیا ہے۔
لڈیو، یہ تو کہتے ہیں کہ دنیا میں جو حالات ہیں، ابھی ہی یہ معاہدہ سرگرمیوں کی طرف لے جاتا ہے اور دونوں ممالک کو یہ فخر کہتے ہیں کہ ابھی بھی وہ کسی نئی جنگ سے دूर رہے ہیں۔
بھارت کی طرف سے ADNOC Gas کا ایسا معاہدہ جس میں انہوں نے سالانہ 0.5 ملین میٹرک ٹن LNG فراہم کرنا شروع کیا ہے وہ تو فطری طور پر ایک معاشی تعلقات کی طرف لے جاتا ہے، لیکن پھر بھی یہ معاہدے سے ابھی کچھ نتیجے نہیں نکلن گے، صرف ایک بات یقینی ہے کہ دونوں ممالک کو آئندہ چھ سالوں میں اپنی معاشی تعلقات کو دوگنا کرنے کی کوشش کرنا پڑے گی۔
ایسے معاہدوں پر دستخط کرنا ایک بڑا کام ہوتا ہے جو دو ممالک کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ ہم سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی بات ہے جن کو اتنا کوشش کرتے ہیں تاکہ دنیا میں ایسے معاملات میں مدد مل سکے جب اس پر غور کرنا کچھ مشکل ہو جائے
یہ بات کے لیے کہیں نہیں، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ معاہدہ تو ایک اچھا سے اچھا ہے لیکن اس کی پیٹرولیم سے ملنے والی معاملات کو دیکھنا تنگ آتے ہیں۔ یہ کہنے کے لیے بھی نہیں کہ یہ ایک بدلی ہوئی دنیا میں 200 ارب ڈالر تک پہنچانے کی بات کرو۔
دوسرا ، یہ معاہدہ بھی دیکھتے ہیں تو متحدہ عرب امارات کی ADNOC Gas نے بھارت کی کوئلہ کارپوریشن سے 10 سال کا معاہدہ کیا ہے جس میں ان کے لئے 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے والی معاملات ہیں۔ یہ بات کچھ تو کچھ ہے لیکن اس پر بہت سا کیا کروگا؟
یہ گھومتے ہوئے معاہدے تو بالکل چالاک نہیں ہیں، اس میں سے کچھ ریکارڈ پانے والے ہوکر ابھی بھی ایک منظر بناتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک نے ہمارے معاشی دھंधوں کو ایک سے زیادہ بڑھایا ہے اور اب تو یہی رکھنا چاہتے ہیں، وہ جہاں توجہ ہے وہ تجارت میں توجہ ہے کیونکہ اس سے ان کی معاشی قوتوں کا تعلقات مضبوط ہوگا۔
اس معاہدے کی جانب سے 200 ارب ڈالر تک پہنچانے کیClaim کی جارہی ہے؟ یہ ٹھیک ہو گا یا نہیں? اس کا معیار کیا ہو گا؟ ابھی تک بھارت اور متحدہ عرب امارات کی تجارتی تعلقات ایسی تھین جو جس لائے گئیں، وہیں رہیں گی?
یہ ایک عظیم رونق ہے! اور یہ بات کی بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے پر اتفاق کیا ہے تو یہ بھی انتہائی خوشیوں کا مہمان ہے! اور اب تک کی تاریخ میں سے ایسا معاہدہ نہیں ہوا جس پر دونوں ممالک نے اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری قائم کرنے کا عزم کیا ہو! #تحریک_دفاع #دوسری_دوستی
یہ ایک اہم معاہدہ ہے جن پر دونوں ممالک نے دستخط کیے ہیں، اب تک بھی کسی بھی ممalonے کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ ہوا تو اس میں کسی بھی حد تک اضافہ ہو گیا ہے. یہ بات بالکل صریح ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے معاشی تعلقات میں زیادہ ترسیم کرنا ہے، اور اس معاہدے سے ابھی تک بھارت کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے کا یہ پہلا قدم ہے.
یہ واضح ہے کہ ہمیں ایک نئی دور کا آغاز کر رہے ہیں جس میں دو بڑے ملکوں کی تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے ایک تاریخی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے-defenseی تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہیں۔
اس معاہدے نے دونوں ممالکوں کے درمیان تجارت میں اضافے کو بھی یقینی بنایا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی معاشی تعلقات میں بھی بڑھوتہ ہوگا۔ ابھی ہی یو اے ای نے بھارت کو 10 سال تک سالانہ 0.5 ملین میٹرک ٹن LNG فراہم کرنے کا عزم کیا ہے جو اس معاہدے کی مالیت کو 20 ارب ڈالروں سے تجاوز کر دے گا۔
اس معاہدے نے دو ملکوں کے درمیان ایک نئی دور کا آغاز کیا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
میں یہ بات تو پوراً متعصباں ہونے والی ہوں کہ دونوں ممالک کی ایسے معاہدوں پر دستخط کرنا بہت اچھا ہوگا جس سے دو دھندلوں کو بھی وٹا وٹا بنانے کا موقع ملا ہوا ہوگا
یہ بات بہت اچھی ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے Defenseی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، اس سے یقیناً دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو گا اور وہ دوسرے ممالک سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔
لیکن اس معاہدے میں یہ بات کبھی بھی نظر آ سکتی ہے کہ دونوں ممالک کی تجارتی تعلقات کو دوگنا کرنے سے وہ یقیناً اپنی معاشی صلاحیت میں اضافہ کر لئیں گے اور ان کے معاشی تعلقات میں بھی اضافہ ہوگا۔
اس معاہدے سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک نئی دوسری جانب سے ایسے معاشی تعلقات پیدا ہو گئے ہیں جو اس کے لئے اچھی نئی کامیابی بن سکتی ہیں، اور اس سے یہ بھی بات آ سکتی ہے کہ ایسے معاشی تعلقات پیدا ہونے سے دونوں ممالک کے معاشی طور پر بھی قوتِ مساوات میں اضافہ ہوگا۔
لیکن اس معاہدے کو اس کی واضح منصوبہ بندی اور تیاری سے پہلے یہ بات کبھی بھی نظر آ سکتی ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے معاشی اور دفاعی تعلقات میں ان کی قوتِ مساوات کو برقرار رکھنا ہو گا اور وہ اس معاہدے کی فطرت کے مطابق کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔
بہت متعجب کن بات ہے! یہ دو ایسے ممالک ہیں جو پہلے سے تو باضابطہ تعلقات رکھتے ہیں لیکن اب وہ اچھے اور بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے جس میں معاشی تعلقات اور دفاعی تعلقات دونوں مضبوط بنے گے۔ 10 سال تک 0.5 ملین میٹرک ٹن LNG فراہم کرنا بھی ایک نئے دور کا شروعات ہے جو دونوں ممالک کو اچھی معاشی صورتحال دی گئی ہے۔
بھارت اور متحدہ عرب امارات کی یہ معاہدہ ایک نئی دور کی تجارتی تعلقات کا اشتراک کرتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے بہت فوائد دے گی
اس معاہدے سے 200 ارب ڈالر تک تجارت کرنے کی یोजनا ہے جس سے دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں اضافہ ہو گا اور بھارت کو عالمی تجارتی منظر نامے میں مزید ترقی ہو گی
لیکن یہی نہیں، اس معاہدے سے دونوں ممالک کے-defenseی تعلقات کو بھی مضبوط بنانے کی یोजनا ہے جس سے ایشیائیRegion میںDefenseی تعلقات میں مزید Stability پائی जائے گئے
اس معاہدے کا ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ اس سے دوگنا کرنے کی یोजनا ہے جس سے دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں اضافہ ہو گا اور دنیا بھر میں تجارت کو مزید ترقی ملے گی
میری نظر میں یہ معاہدہ صرف ایک معاملہ تو نہیں بلکہ ایک بڑا معاملہ ہے جس کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اور یہ سچ ہے کہ میں اس معاہدے کی سہولت سے کچھ بھی نہیں حاصل کیا ہے، بھارت کی جانب سے وہ 200 ارب ڈالر تک پہنچانے کی کوئی چیلنج نہیں لگتی؟ اس لیے میں یہ کہتا ہوں گا کہ معاہدے سے زیادہ ایسے معاہدوں کی ضرورت ہے جو بھارتی معاشرے کو اس کی معاشی استحکامیت میں یقین دلاتی ہوں گے۔
یہ ایک بڑا فیصلہ ہے، اس سے دونوں ممالک کی معیشت پر مثبت اثرات ہونگے. میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ معاہدہ دو ملکوں کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا اور وہ ایک دوسرے کی مدد سے اپنی معیشتوں میں ترقی لائیں گی.