بھارتی شہر بالاسور میں ایک نوجوان مسلمان کو جنونی انتہا پسند ہندوؤں کے بے لگام ہجوم نے لرزہ خیز انداز میں قتل کردیا۔ مظاہرہ میں وائرل ویڈیو میں دکھائی دے رہے تھے کہ مشتعل ہجوم میں شامل افراد نے ہاتھوں میں ڈنڈے، لوہے کے راڈز اور لاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں۔
مشتعل ہجوم نے مسلمان شخص پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ جے شری رام کی پالیسیوں سے مخالف ہوں اور انکار کرنے پر ہجوم نے اس شخص کو بیدردی سے مارنا شروع کردیا۔
مسلم شخص کے سر پر چوٹیں آئیں اور جب خون بہنا لگا تو پولیس نے اسے نہایت خوفناک حالت میں پکڑ لیا اور اسے نیم مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا جس میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
اس واقعے پر پولیس نے الٹا چور کو اس قتل کی دہشت گردی میں شامل تھے کے لیے مقدمہ درج کر دیا ہے۔
انسانیت کے نام سے لڑنے والی ایک پروفیسر اشوک سوائین نے اس بہت ہی دلیل دار واقعے کی وڈیو کو شائع کیا ہے جس میں تشدد کی ننگاں صورتیں دکھائی دیتی ہے۔
اس واقعے کی پوری حقیقت اس بات سے باخبر ہے کہ بھارتی میڈیا اور حکام ایسے مظاہرے پر خاموش رہتے ہیں جس کی وڈیو دنیا کے سامنے لائی گئی ہے۔
اس واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مودی سرکار میں اقلیتوں کے خلاف بھارت کو Killings Gah banta hai (قتل گاہ بننے والا شہر) بنایا جا رہا ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں اور اس کے برعکس عیسائی اقلیتیں دلت میں ظلم و جبر کا شکار ہوتی ہیں۔
مشتعل ہجوم نے مسلمان شخص پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ جے شری رام کی پالیسیوں سے مخالف ہوں اور انکار کرنے پر ہجوم نے اس شخص کو بیدردی سے مارنا شروع کردیا۔
مسلم شخص کے سر پر چوٹیں آئیں اور جب خون بہنا لگا تو پولیس نے اسے نہایت خوفناک حالت میں پکڑ لیا اور اسے نیم مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا جس میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
اس واقعے پر پولیس نے الٹا چور کو اس قتل کی دہشت گردی میں شامل تھے کے لیے مقدمہ درج کر دیا ہے۔
انسانیت کے نام سے لڑنے والی ایک پروفیسر اشوک سوائین نے اس بہت ہی دلیل دار واقعے کی وڈیو کو شائع کیا ہے جس میں تشدد کی ننگاں صورتیں دکھائی دیتی ہے۔
اس واقعے کی پوری حقیقت اس بات سے باخبر ہے کہ بھارتی میڈیا اور حکام ایسے مظاہرے پر خاموش رہتے ہیں جس کی وڈیو دنیا کے سامنے لائی گئی ہے۔
اس واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مودی سرکار میں اقلیتوں کے خلاف بھارت کو Killings Gah banta hai (قتل گاہ بننے والا شہر) بنایا جا رہا ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں اور اس کے برعکس عیسائی اقلیتیں دلت میں ظلم و جبر کا شکار ہوتی ہیں۔