لکھنؤ میں ایک ماڈلنگ سے وابستہ خاتون نے اپنے شوہر کے مذاق پر دل برداشت کر دیا اور خودکشی کرلی۔
تنو سنگھ کی شناخت لکھنؤ میں 28 سالہ خاتون تھی، جو ماڈلنگ کے شعبے میں اپنا نام بنانا چاہتی تھی۔ ان کی شان و شوکت کو دیکھتے ہوئے اس نے دن سجاتی سنورتی رہی اور آئینے کے سامنے ماڈلنگ کرتی۔
الوہاالہ خاتون کے شوہر اور سسرال والے ان کی شوق سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے، بلکہ ان کو حوصلہ شکنی کرنے میں مامولود تھے۔
جنوبی ہندوستان کے دارالحکومت لکھنؤ میں اس نے اپنے اور شوہر کی شوق سنجیدگی میں اپنا خواب منظر بنایا تھا، جسے وہ دیکھ کر بلند بنگ دعوے کر رہی تھی اور اپنے حسن کے قصیدے پڑھ رہی تھی۔
اس نے اپنے شوہر راہول سے آدھنا رات گزار کر مزید بہت دور چلی گئی اور ان کی طرف سے مذاق میں پیار کو بندریا کہنے پر تھوڑی دیر بعد وہ اپنی زندگی کو ختم کر دیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ کہیں ایک رات گزارنے میں ان کی شوق سنجیدگی سے لیتے ہوئے وہ اپنی زندگی کو ختم کر دی تھی اور اس لیے انہیں بھی ملازمت کا موقع نہیں مل سکا۔
اس حادثے کی وجہ کو کسی نہ کسی رویدہ میں نہیں پائی جا سکتی، جبکہ اس سے اس گھرانے میں بھی ایسی رائے تھی کہ لگتا تھا ان کو وہ بھی ہمیشہ سے کچھ دیر تک واپس آئیں گی۔
لکھنؤ میں ہونے والے اس حادثے پر اٹھتے ہوئے میڈیا کا جواب یہ تھا کہ یہ وہ ایسا واقعہ ہو رہا ہے جس سے وہ سب اس کی اور اس سے زیادہ پریشانگ्रसٹ ہوتے ہیں کہ وہ جو اپنی شادِد رائے کی وجہ سے خود کو ایسا درجہ دیں گے وہی ہو گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں کسی نے بھی آنکھیں کھول کر اس کی وجہ کو سمجھا ہو گا۔
عجیب سائیز ہے، کتنی شوق و سنجیدگی کے ساتھ جو محنت کرتی ہیں اس لئے زندگی ڈالتے ہیں… انکی شان و شوکت کو دیکھتے ہوئے وہ دن سجاتی تھی، لیکن انہیں اس کی شوق سنجیدگی نہیں لیتا تھا؟ کیا محنت کرتے وقت لوگ اپنی زندگی کا احترام نہیں کرتے?
یہ ایک بے رحمی کا واقعہ ہے جو لکھنؤ میں ہوا تھا، وہ خاتون جو اپنی شادید رائے کی وجہ سے اپنے شوہر کو مذاق میں لیتے ہوئے خود کے جسم کو ختم کر دیا تھا وہ ایک معذور خاتون تھی جو آپ سے زیادہ ناامید تھی۔ اس حادثے کی وجہ کو سمجھنا مشکل ہے، لیکن یہ بات صاف ہے کہ وہ جو اپنی شادید رائے پر اٹھتے ہوئے اپنے شوہر کو مذاق میں لیتے تھے ان کی حقیقت کو ایک ہی جگہ سمجھنا مشکل ہے.
اس حادثے سے پریشان تھے، مگر اس کی وجہ نہیں سمجھنے کے لیے اپنی آنکھیں کھولنا ہی کوئی حل نہیں ہے।
مری لگتا ہے وہ چاہتی تھی کہ شوق سنجیدگی ایسی ہو جس کے ساتھ اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی آجے اور اس نے اپنی زندگی اس سے منسلک کر لی تھی، مگر وہ اس کی شوق سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا بلکہ اسے حوصلہ شکنی کرتا تھا جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں ایسی تبدیلی آ سکتی تھی۔
یہ حادثہ ہر کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے، مگر یہ حادثہ اس شخص کو ہلا کر گيا جو اپنی شان و شوکت کو دیکھتے ہوئے ڈیرہ تھا۔
اس حادثے سے پریشان نہیں ہوتا کہ اس نے کیا؟ بلکہ اس حادثے کی وجہ کو سمجھنے پر، اس کی شان و شوکت کو دیکھتے ہوئے ڈیرہ کرنے پر، اور اسے حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پیار کو بندریا کرتے ہوئے،
اس حادثے سے پریشان ہوتا ہے کہ اس نے کیا؟ اور اس حادثے کی وجہ کیسے سمجھی جا سکتی ہے?
جنون وालے شوہر کے شکار ایسے شادیاں ہوتے ہیں جو لگتے ہیں کہ وہ خود بھی تو خواہش پورتی چکی ہیں... لکھنؤ میں ہونے والے اس حادثے پر بھاگتے ہوئے میڈیا کی بات کرتے ہیں تاکہ لوگ اپنی شادید رائے کو یہاں نہ لائیں... یہ حادثہ انہیں یاد دिलاتا ہے کہ شوہر کی پیار کی وادی میں ایسے ہیں جو جھیلوں میں ہوتے ہیں...
اس شادِد واقعہ سے لگتا ہے کہ ماڈلنگ کی دنیا میں بھی لوگ اپنی خواہشوں سے پہلو رہتے ہیں اور اس شوق سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے تین گزریں جہاں ان کی شان و شوکت نہیں مہسوس ہوتی، اس نے اپنے اور شوہر کے درمیان سے ایسی پھوری رائے کو بھی نظر آ سکا جس پر ان کی پیار کی دھول لگ گئی۔
یہ دیکھنا بہت ہی کٹر ہے، ایسے میڈیا کا جواب دیا جانا تو جھوٹلے ہی نہیں ہوتا… اس حادثے کو سمجھنے کے لئے آپہلے تو پوری صورت حال کو دیکھنا چاہیے، اور یہ سچ ہے کہ شوق سنجیدگی میں آسانی نہیں ہوتی…
اس حادثے پر بات کرنے لگتے ہی مجہد اور بھرپور بے کار ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ عجیب غدر ہے جس کا سامنا دلا کر ہم ایسی معشوقیں بنتے ہیں، جو سب سے پہلے ہی اپنی دلBradاشت کر لیتی ہیں۔ یہ عجیب حقیقت کیسے رہا ہو گا، جسے بھی میڈیا کہے بھرپور توجہ دی گئی، وہ ہمیشہ اس کے بعد سے ایسی معشوقیں بننے لگتے ہیں۔ ان دونوں کی یہ رائے ایسی ہے کہ جس پر آپ نے انھیں پہلی بار نظر دی، انھوں نے اپنی شادید رائے لگا کر اپنی خود کشی کی وعدہ کر لی تھی۔
اس حادثے پر پھیلتی ہوئی مشقت سے پہلے اس خاتون کی زندگی میں کیا ہوا تھا؟ ایک ماڈلنگ شعبے میں اپنا نام بنانا چاہتے ہوئے ان کی طرف سے کیسے لگ رہی تھی؟
ایسی زندگی جس میں پریشانیوں اور مامولودوں سے بچنے کی نہیں ہوتی تو کوئی اسے کیسے دیکھ سکتا ہے?
اس گھرانے میں جو رائے تھی وہ کیسے تھی؟ کیا انہوں نے اس حادثے کی پہچان کر کوشش کی کہ اس سے بچا جا سکے?
اس حادثے پر میڈیا کی جواب دہی ایسے ہی ہو رہی ہے کہ یہ ان کے لیے اور اس سے زیادہ پریشانگ्रसٹ ہوتا ہے جو اپنی شادِد رائے کی وجہ سے خود کو ایسا درجہ دیں گے۔
اس خاتون کی زندگی میں ایک دھچکا پڑنے کا اور اس حادثے کو روکنے کے لیے کیا ہو سکتا ہے؟
یہ سچائی کتنی بدبخت ہے! ایک خاتون جس نے اپنے شوہر کے مذاق پر دل برداشت کر دیا اور خود کو ختم کرلیا ہے، اس کے پاس کچھ گناہ تھے؟ ان کی شان و شوکت کیسے لگتی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے مذاق میں پیار کو بنانے لگی? یہ معاملہ ہی نہیں، اس معاملے سے پہلے بھی وہ شادید رائے کی وجہ سے خود کو ایسا درجہ دیا کر رہی تھی کہ اب وہ کیسے محفوظ ہوگی?
یہ ایسا واقعہ ہے جس سے ہم سب بھکھے پتہ لگتی ہیں۔ ایک جوڑی نے اپنے معاشرے کو ایسی شان و شوکت کی پیشکش کی، لیکن اس کا ان کے لوگ یقین نہیں کر سکتے تھے اور اس نے ان کے جواب میں اپنی زندگی کو ختم کر دیا ہے۔ مجھے یہ بات بھی دباؤ کی لگ رہی ہے کہ ہم سب اتنے ہی تھوڑے سے دور پہلے خود کو ایسا ہی قرار دیں گے جس کے بعد ہمیں ان کی طرح ہی ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سال سے یہ بات چلو کہ عورتوں پر رواج پائے جانے والے تحفظ اور مدد کی رائے میں بڑی تبدیلی دیکھنی پڑرہی ہے! ماحول میں لڑکیوں کو خودکشی کرنے یا اپنا جانب سے جینے کا دورانہ شروع ہونے لگا ہے اور یہ بات تھی کہ لڑکیوں نے بھی اپنی خواتین کی طرح ہمیں بھی وہی ماحول دیا ہے! لکھنؤ میں ایسا واقعہ جس سے پوری اس کے گھر وालوں کو آگ لگی ہوئی، اس کی وجہ کی جائے تو یہ ایک اور واقعہ تھا جو انھیں لیتا تھا!
آج کل ہمیں 1 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کو بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے وہ خواتین بننے سے پہلے ہی اپنی خودکشی کی سوچ میں پڑتے ہیں! ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ ایسے ماحول کو بدلنا ہمara اور ہم سب کی ذمہ داری ہے!
لکھنؤ میں اس حادثے پر زور دیتے ہوئے میڈیا نے بھی اس کا جواب دیا ہے، اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ لڑکیوں کو بھی تحفظ اور مدد کے درجے نہیں دیے جائیں! ہمیں اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اس کے بجائے لڑکیوں کو تعلیم، اور صحت مند ماحول میں رکھنا چاہئے!