بھارتی پارلیمنٹ میں ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کو سوشل میڈیا کی پابندی دیر یا چیلنج نہیں کرتے، جو کہ بچوں پر عائد ایک نئے بل میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا بہت سے بچوں کو دیر سے اچھی طرح سمجھنا مشکل اور ان کے علاوہ دیگر لڑکے گائوں میں بھی اس کی عادت ہوئی ہے جو آج تک دوسرے ممالک کی طرح بھارت کو ایک عجیب مقام پر رکھی ہے۔
اس بل کے مطابق جس بچے کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی گئی وہ صرف 16 سال کی عمر میں ہی اسے ختم کرنا چاہتا ہو گا اور صارفین کی عمر کا ذمہ دار اس پلیٹ فارمز پر ہو گیا ہے جس سے یہ بچے آسانی سے ان کو رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
اس بل کی ایک وिशेषیت اس بات ہے کہ اس میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ صارفین کی عمر کی تصدیق کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کرنے والا ذمہ دار ہو گا، جبکہ موجودہ اکاؤنٹس کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔
میری رाय وہیں ہے کہ یہ سوشل میڈیا پابندی بچوں کی زندگی کے لیے ایک خطرناک بات ہے। انہیں ایسی دیر ہے جس سے وہ اپنی فیکٹریاں اور اور پلیٹ فارمز پر کچھ کم سمجھتے ہیں، یہ تو بے بوباس۔
میری رای عجیب نہیں ہے کہ بھارت میں سوشل میڈیا کی پابندی کے بارے میں ایسی بات دوسرے ممالک میں اور ہو چکی ہے، لیکن یہی نقطہ انہوں نے زبردست طریقے سے تسلیم کیا ہے کہ اس طرح کی پابندی بچوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی عمر بھی ایسا ہی ہوسکتی ہے جو اس بل کے مطابق ہو گی.
لیکن میرے خیال میں یہ پابندی کے اس تجویز کو پہلے تو کیا جائے گا، اس سے پہلے کچھ بھی بات کرنی چاہئی تھی۔
سوشل میڈیا کتھی ٹھیک نہیں ہو رہی ہے؟ پہلی بار میں بچوں پر اس کی پابندی لگائی گئی تو یہ کیا نتیجہ آئے گا? اب یہ بتایا گیا کہ بھارت میں 16 سال کی عمر کی ایسے بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی جائے گی جو اسے ختم کرنا چاہتے ہیں، تو یہ کیا حقیقت کے استعمال سے زیادہ بھی خطرناک نہیں ہوگا؟
یہ نئی تجویز سے یہ سوچنا میں کھلتا ہے کہ 16 سال کی عمر میں بچوں کو عریازی کا پثھا دیکھ کر کیا اچھا گزر گا؟ جبکہ ان کے ماموں کو اس سے ذمہ دار اور اس پلیٹ فارمز کی چالیس پر رکھنا بھی نہیں ٹھیک ہوسکتا۔
یہ بھی تو ایک بات تھی کہ بچوں کو اس نئے دور میں ہمارے ساتھ رہنا پڑے گا، لیکن کیا یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بھی ایک پلیٹ فارم پر بن جائیں جو ان کی صحت کو خراب کر سکے؟ اس بل کی تجویز میں بچوں کی عمر کی تصدیق کو سوشل میڈیا پر 16 سال کی عمر سے ہی ایک ذمہ دار کے طور پر نہیں بنانا چاہیے، بلکہ انھیں اس پلیٹ فارم کو بھی استعمال کرنے میں مدد ملنی چاہیے جو انھیں اچھی طرح سمجھنے میں مدد دے سکے۔
بھارتی پارلیمنٹ میں بچوں کے لئے سوشل میڈیا کی پابندی کا یہ نئا تجویز کتنا ہی واضح اور منصفانہ ہوا، سوشل میڈیا پر چلنے والوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی عمر کس ہے اور اس لئے کہ ان کا کتنا تعلق بچوں سے ہے؟ یہ تجویز جیسے ہی واضح ہوجاتے ہی ناواقف ہونے والے لوگ اس کی مخالفت کرنے لگ جائیں گے۔
اس تجویز کو دیکھتے ہوئے میرا یہ خیال ہے کہ بچوں کی پابندی کے لیے ایک کام کرنا ضروری ہے، لیکن اسے اچھی طرح سے سوچ کر کیا جائے گا کہ اس سے کبھی نئی چیلنجز پیدا نہیں ہوگیں؟
ye sach mein bahut bura hai. yeh bil ki uss umar tak social media ko use karna chahtaa hai, vo 16 saal ka hai, to kya woh apne baap ko samajh sakta hai? phir kya wo uski maa aur paas ke logon par zaroorat nahi hai?
aur yeh bil ki use bina tareeke se social media banane di jaayega, toh usko kya samjhna padega? yeh ek bada samasya hai, jo ki hamare desh ko ek aisa naam do raha hai.
اس بل کا مقصد تو بھارت میں سوشل میڈیا کی پابندی لگاینا ہے، لیکن یہ دیکھنا ایک اور بات ہے کہ کیسے اس کا عمل شuru ہوا گا۔ جب تک بچوں کو اس پر روک نہیں سکیا گیا، وہ اچھے حالات میں نہیں رہتے ہیں، حالانکہ ان کے والدین بھی ایسا نہیں کرتے جیسا اس بل میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔
اس کی بجائے، اُس پلیٹ فارمز پر لگا ہوا یقین نہیں ہو گا کہ بچے اسے ختم کرنے کے لیے 16 سال کی عمر میں ہی اپنا فانٹم ٹسٹ بناتے ہیں، اور اس سے اس پلیٹ فارمز پر لگا ہوا ذمہ دار بھی نہیں پائے گا کہ وہ اپنے بچوں کی عمر کو یقینی طور پر تصدیق کر رہا ہے اور اس سے ان کے اکاؤنٹ کو فوری طور پر معطل کرنا چاہتا ہے؟
ਸوشل میڈیا پر یہ بل ایسا لگ رہا ہے جیسا کہ بھارت کی تازہ ترین دuniya میں چلا رہی پٹی میں بھی ایک نیا صفحہ ہو گئی ہے۔
یہ سوشل میڈیا کے استعمال پر یہ بات نہیں کہہ سکتی کہ یہ بچوں کی عادت بن گیا ہے، لیکن یہ اس بات کو پہچاننا ضروری ہے کہ اس پر کنٹرول کرنا بھی ضروری ہے، اگر نہ تو اس سے دوسرے ممالک کی طرح ہمت کا زریعہ بن جاتا ہے تو یہی نہیں بلکہ بچوں کی بھلائی کے لیے اور ان کے ماہرین کے لیے ایک سہی معیار بھی بن جاتا ہے۔
یہ بھارتی پارلیمنٹ کا ایک نئا بل ہے جو یہ کہتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ عجیب باتوں کو اپنے ساتھ لینا پڑے گا! لگتا ہے کہ وہاں بھارتی بچوں کو انٹرنیٹ پر آنے کے بعد فوری طور پر ہی ٹویٹ یا اینسٹاگرام ختم کرنا پڑے گا! اور اس بل میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایک شخص جو 16 سال کی عمر میں انٹرنیٹ پر آنے لگتا ہے وہ فوری طور پر اپنا اکاؤنٹ ختم کر دیتا ہے! یوں سے وہ ہمارے بچوں کو ان ٹیکنالوجیز کے ساتھ آگے بڑھنے کی جگہ نہیں دیتا!
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے جو ہمیں پہچانتا ہے کہ لڑکے گاؤں میں سوشل میڈیا کی عادت تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، اور اب بھی لوگ اس پر دیکھتے ہیں کہ یہ کس نے یہ کیا ہے۔ لیکن یہ تجویز جس کی رکاوٹ ہو رہی ہے وہ بھی ایک حقیقت ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بچے اپنی عمر کے مطابق ان ٹولز پر کام نہ کریں، کیونکہ اگر یہ بل پاس ہو گا تو دوسرے ممالک کے متبادل کیسے ہوں گے؟
چھپتے لگ رہے ہیں؟ یہ بل تو سوشل میڈیا کا بھارت میں پورا چکر ہو گیا ہے، اب تو بچوں کی عمر کس کی بات ہے؟ 16 سال کی عمر میں اپنا اکاؤنٹ ختم کرنا، اور پھر ان کے لئے ذمہ دار بھی بننا، یہ تو ایک کاڈ ہی ہے!
یہ بھی بات کھلنے لگ رہی ہے کہ سوشل میڈیا کی پابندی اور اس کی نہیں پر دباؤ اتنا زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بچوں کو ایسے منصوبوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہوتا ہے جو وہ فیلڈ میں اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتے ہیں، ان کی زندگی میں ایسی چیزوں سے بھار پڑتی ہے جو ان کو جگہ سے باہر کر دیتی ہیں۔
لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس بل میں بچوں کی آزادی اور ان کے فری ٹھنڈا کو بھی شامل کیا جائے، لہٰذا ضرورت ہے کہ یہ تجویز ایسی بنائی جائے کہ اس میں بچوں کی آزادی اور ان کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، نہیں کہ ان کی زندگی کو کسی معیار سے پابند کر دیا جائے۔
تمارے یہ سोचنا کہ صارفین کی عمر 16 سال ہونے پر انھیں سوشل میڈیا اکاؤنٹ ختم کرنا پڑتا ہے، تو بہت غیر عادی، کچھ نہ کچھ کرو دیجے اس بات کو سمجھائیں. اگر یہ ایک لارڈ بنایا جائے تو صارفین کو اپنے اکاؤنٹ्स میں اپنی عمر کو بھی دکھانے کی اجازت دی جائے، تو اس کا ماحول بھی ملیرخنا ہوگا.
یہ واضح طور پر ایک خطرہ ہے کہ سوشل میڈیا پر انہوں نے یہ تجویز پیش کی ہے، بچوں کو اس پلیٹ فارمز سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے تو چیلنج کر رہے ہیں، یہ ایک بد習ری ہے انہوں نے سوشل میڈیا کو بچوں کی عمر کا ذمہ دار بنایا ہے جو دیر سے اچھی طرح سمجھنا مشکل ہوتا ہے، یہ واضح طور پر ایک خطرہ ہے کہ اس نے انہیں ایسا بنایا ہے جو آج بھی دوسرے ممالک کی طرح بھارت کو ایک عجیب مقام پر رکھتے ہیں، یہ بل اچھی طرح سے نہیں بنایا گیا ہے جو دیر سے ایسی پالیسی کی طرف لے جائے گا۔
بھی سچ ہے کہ بچوں کی سوشل میڈیا کی پابندی ایک اہم بات ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں مکمل طور پر منع کیا جائے گا، بلکہ انہیں اس کی پابندی دیر سے کروانا چاہئے تاکہ وہ اس میں فائدہ نہ لین۔ 16 سال کی عمر تک کسی بچے کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دینا ایک اہم کदम ہو گا تاکہ وہ اس میں دیر سے گھر اور اسے آسانی سے اپنی زندگی کے فائدہ مند بنانے کی پابندی کر سکے۔
اس تجویز کا خیال کیا جا سکتا ہے؟ تو یہ دیکھنا بہت حیرت انگیز ہے کہ اس بل میں سوشل میڈیا پر بچوں کی پابندی سے لے کر صارفین کی عمر کی تصدیق تک سب کو ذمہ دار بنایا گیا ہے۔
یہ تجویز کہیں سے ایک جگہ پر پہلے نہیں تھی، حالانکہ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت 16 سال کی عمر تک نہیں دی جائے گی، حالانکہ اس بل میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ صارفین کی عمر کی تصدیق کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کرنے والا ذمہ دار ہو گا، جبکہ موجودہ اکاؤنٹس کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔
یہ دیکھنا بھی کچھ عجیب ہے، کہ اسی سوشل میڈیا اس قدر طاقتور بن گیا ہے کہ اب اس کو پابندی دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔