بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک حاملہ خاتون سوَات کمانڈو کی جان سے گئی، جو بھرپور تشدد اور قتل کا شکار ہوئی۔ اس واقعے میں پولیس نے بتایا کہ 27 سالہ کاجل چوہدری کو انکور نامی شخص سے شادی کے بعد ایک دھمکی لگ گئی، جس کی وجہ سے وہ بڑے تشدد میں دوچکا تھا۔
جوڑے کا ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا تھا، لیکن شادی کی رات پانچ ماہوں میں وہ حامل ہونے لگا تھا اور اس نے اپنے شوہر سے منسلک ہونے کی کوشش کی لیکن انکور نے اس پر قبول نہیں کیا۔
اس دیرینہ جدوجہد کے بعد، جوڑا باہم چھوڑ کر گئا تھا اور جس سے خاتون کو دوسری شادی کا موقع ملا لیکن اس نے اپنی جانیں بھی ضائع کیں۔
اس قتل کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جوڑا باہم چھوڑ کر گیا تھا اور خاتون کو ایک دوسری شادی کا موقع مل گیا لیکن اس نے اپنی جانیں بھی ضائع کیں، جس سے خواتین پر بہت زیادہ تشدد کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔
اس حادثے کی وجہ یہ ہے کہ خاتون کو شادی کے بعد جاری شق میں پھنسا تھا اور اس نے اپنی زندگی کو ایک دوسری شادی سے بچانے کی کوشش کی لیکن انکور نے اس پر قبول نہیں کیا، جس سے وہ بڑے تشدد میں دوچکا تھا اور جوڑا باہم چھوڑ کر گیا تھا۔
ایسے واقعات ہی ہوتے ہیں جس سے دل کھیرنے لگتا ہے... یار ایسے واقعے میں ایک خاتون سوات تھی جو شادی کے بعد بڑا تشدد کرنا پڑا، اور اس نے اپنی زندگی کو ایک دوسری شادی سے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ بھی کسی نے ان پر قبول نہیں کیا... یہ تو تو جھاڑے اور زینے میں پھنسنا ایسا ہی ہوتا ہے، مگر جتنی ہی زینیوں میں پھنسنے کی کوشش کی جائے وہی جھاڑے اور زینے میں پھنسنا ہوتا ہے...
بھرپور تشدد ہونے کے بعد اس حادثے پر بات کرنے پر یہ سوچنا مشکل ہے کہ کس طرح معاشی و مادی قوتوں نے شادی کی پیمائش میں اپنی فصیلیں ڈالی ہیں اور خواتین پر یہ تشدد کیا جاتا ہے؟
ماں باپ نہیں ہوتے تو بھائیوں پر، ایک دوسرے کے لئے ساوध ساجہ کرنے والے نہیں بنتے! اس حادثے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ معاشی نظام میں خواتین کو اپنا منا لیٹنا مشکل ہوتا ہے، انکوں اپنی زندگی کا ایک منا لیتے ہیں اور ان کی جانیں اس مقصد کی تکمیل کے لئے ضائع ہوتی ہیں۔
یہ دیکھنا ہی ٹھسک دیتا ہے کہ شادی میں بھی ایسی situations پڑتے ہیں جہاں خواتین کو اپنی زندگی سے نکلنا پڑتا ہے اور ان پر بےчیز تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ خواتین کو اپنی زندگی سے نکلنے پر مجبور ہونے اور خودوں کو تشدد کا سامنا کرنے پڑنے کا بھی معاوضہ۔
یہ حادثہ تو ہوا، لیکن اس کا سے پتہ لگنے والی بات یہ ہے کہ خاتون نے اپنی زندگی کو ایک دوسری شادی سے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتے رہے، وہ اس کی وجہ سے دوچکا تھا، اور اب وہ جانے والی بات یہ ہے کہ خواتین کے لیے ایسے شق پیدا کرنے پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔
اس حادثے سے پتہ لگتا ہے کہ خواتین کی زندگی ایسی ہی بھرپور نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی مراد رکھتی ہیں اور پوری دنیا انkiوں کو سمجھنے کا عزم کرتی ہے لیکن اب یہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہिए کہ خواتین کی زندگی ایسی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی مراد رکھتی ہیں اور پوری دنیا انkiوں کو سمجھنے کا عزم کرتی ہے لیکن اب یہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہिए کہ.
اس حادثے پر غور کرتے ہوئے، مجھے لگتا ہے کہ شادی کی قیادت میں معقولیت اور سمجھ پہ لانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک خاتون کو اپنی زندگی کو ایک دوسری شادی سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس پر قبول نہیں کیا گیا، تو مجھے لگتا ہے کہ اس کے بعد کیا عمل کیا گیا اور ایسا سا یہ تشدد اور قتل کیسے ہوا؟
ایک حامل خاتون کو قتل کرنا ایک نوجوان کی ناکام محبت کا باعث بن سکتا ہے، لیکن اس وقت بھی کچھ اور کوشش کی جائے کہ جوڑوں کو اپنی معاوضت بھی مل سکے لہٰذا ان لوگوں کے درمیان ایک سمجھوتہ لگایا جاسکتا ہے تاکہ وہ اپنے معاشرے میں شادی کی دہشت کے بوجھ سے نجات پہنچ سکیں
اس حادثے کی وہی طرح کے واقعات ہوئے ہوں گے، جب تک خواتین نہیں کہتے اور ایسے حالات نہیں بنائے گئے جو انھیں بچا سکیں. ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے، خواتین کی زندگی ایسی ہی رہتی ہے جتنی مہنگی اور مشکل ہوں گے.
اس حادثے کی بے حد دکھی ہوئی، جس سے خواتین پر تشدد کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ شادی اور اس کے بعد جاری شق کو حل نہ کرنے کی وجہ سے ایسی دکھیں لگتی ہیں، جو کہ خواتین کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔
شادی کو ایسا نہ سمجھنا چاہئیے جیسے یہ صرف ایک ایک دھندلا کام ہو، لیکن یہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ خواتین کو اپنی زندگی کو یہاں تک سست نہ کرنا پڑتی ہے جتنا اچھا شوہر و شادی کا معاملہ ہو، جس کی وجہ سے خواتین پر تشدد میں گھروں بے خانے کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔
اس حادثے کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک بات آئی کہ خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کو لینے کا یہ کہنا ہی نہیں ہوتا کہ سیکھو، سمجھو۔ اس جگہ پر بھی ایسا ہی واقعہ ہوا جو وہاں کی خاتون کو ایک دوسری شادی کے موقع پر واپس چلنے سے روکنے میں ناکام ہو گیا تھا اور اس نے اپنی زندگی کو ضائع کر دیا تھا، اس لیے میرا خیال ہے کہ خواتین کی حفاظت کے لئے ہمیں ایسا سسٹم بنانے کی ضرورت ہے جس میں وہ اپنے حقوق کو سمجھ سکھیں اور انہیں بھی اس بات کی پیداوار کروائی جائے کہ وہ اپنی زندگی اپنا چुन سکیں۔
یہ ایک بہت دکھدے واقعہ ہے। اس حادثے کی وجہ یہ ہوتے ہوئے جوڑا باہم چھوڑ کر گیا تھا اور خاتون کو ایک دوسری شادی کا موقع مل گیا لیکن ان्हوں نے اپنی جان بھی ضائع کی ۔ اس سے خواتین پر بہت زیادہ تشدد کا پھیلاؤ ہوتا ہے، جس سے انھیں بھی دوسری طرح کی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ واقعات کتنی دیر سے ہو رہے ہیں، ایک خاتون کو شادی کی رات پانچ ماہ میں حامل ہونے لگا تھا اور اس نے اپنے شوہر سے منسلک ہونے کی کوشش کی لیکن وہ انکور کو قبول نہیں کیا، یہ شق کتنی چپٹی ہوتی ہے؟
جب خاتون کو ایک دوسری شادی کا موقع ملا تو اس نے اپنی زندگی کو بچانے کی کوشش کی لیکن وہ دھمکی سے دوچکا تھا، یہ جوڑا ان سے چھوڑ کر گیا اور خاتون کو بھی اس نے اپنی زندگی کو ضائع کرنا پڑا، یہ واقعے کتنی ایسے ہوتے ہیں جو اس کی جان لیتے ہیں؟
یہ ایک دل توڑنا جیسا واقعہ ہے، ایسا نہیں لگتا کہ ایک ڈیرھ سالہ جوڑے سے بھی اس طرح کی ملاقات ہوسکتی ہے۔ اگر ایک جوڑا باہم چھوڑ کر گیا ہے تو اس لیے کوئی خاتون اپنی زندگی کو دوسری شادی سے نہیں بچا سکتی۔ یہ بات واضح ہے کہ خواتین پر زیادہ تشدد کا پھیلاؤ ہوتا ہے جب وہ ایک دوسری شادی کی کوشش کرتی ہیں۔ اس حادثے سے سمجھنے کو تنگ آتا ہے کہ خواتین کو بھی اپنی زندگیوں کی بڑی وجہ سے محور کیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بدبخت نتیجہ ہے! #دہلی_سے_غदर #چھٹی_شادی_کی_بچت
انکور کی اس غیر یقینی conduct نے خاتون کو جان سے لے لیا اور جوڑا بھی باہم چھوڑ گیا، جو کہ ایک عجیب عجیب واقعہ ہے #شادی_کی_سخت_شق
خواتین کے ساتھ تشدد بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک غلطی ہے جس پر لوگ آوارہ ہو رہے ہیں، لے کر کھوکر نہیں رہتے #خواتین_کی_سازش
اس حادثے سے سکواٹ نہیں آئی اور یہ صرف ایک دھوکہ ہے کہ لوگ کسی نہ کسی وجہ سے پریشان رہتے ہیں #سکواٹ_نہیں_آئی
ہمیں بھی ان کو پہلے سے یہ رہتا ہے کہ ایسے نئے لودائیاں نہیں آ رہیں ۔ وہ جوڑا تو باہم چھوڑ کر گیا تھا اور خاتون کو دوسری شادی کا موقع مل گیا لیکن وہ اپنی جانوں بھی نہیں سکی رہی ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمیں جو شادی کی حیرت مچنے والی دیکھنی پڑتی ہے وہ ہمارے پاس بھی ہی رہتی ہے۔
یہ گھریلو قتل کی ایک دلیل ہے کہ شادی کے بعد بھی خواتین کو سمجھ نہیں آتی کہ اپنی زندگی میں کسی کا حقوق بننا چاہیے اور خود پر پابند رہنا چاہیے۔ اس حادثے کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کو بھی اپنی زندگی کی انکھوں کو لگایا جاتا ہے اور وہ اپنے حقوق پر اصرار کرنا نہیں پاتی۔
ایسا تو کروحو نہیں، ایک دوسری شادی کا موقع ملنے سے خواتین کو اپنی زندگی کو بچانے کی کوشش کرنا مشکل ہو گا؟ اور ایسے میں ان پر تشدد لگنا کیسے آئے گا? اس حادثے سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کو شادی کے بعد بھی مستقل تشدد کا سامنا کرنا پڑتا رہتا ہے اور اس کے لیے کوئی سست و نازک حل نہیں ہو گا۔
اس کی جگہ ایسا جو کہیں بھی خواتین کو شادی کے بعد مستقل تشدد سے محفوظ رہنے کی سیکھائی جائے، اور انکوں انکے دوسرے خواتین جو اس طرح کی بدنیوں کا سامنا کر رہی ہیں وہ بھی محفوظ رہیں۔
اس حادثات کی پوری خبر سن کر دل کو کچلنے والی ہوئی ہے. کتنی خواتین کا شوق ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ایک دوسری شادی سے بچانے کی کوشش کریں، لیکن اس میں ان کے حيات کو کیسے پھنٹا دیا جاتا ہے؟
شادی سے قبل کسی کی جانچ پہچان نہیں کرنی چاہئیے، یہ جوڑا باہم چھوڑنے کا عجائب ہے۔ خواتین کو اپنی زندگی میں ایک دوسری شادی سے بچانے کی صلاحیت ہونی چاہئیے اور ایسے لوگوں سے بچنا چاہئیے جو انھیں نیند میں پھنساتے ہیں۔
اس حادثے کی وجہ یہ کہ خواتین کو اپنی زندگی میں خود کو محفوظ اور مستحکم سمجھنا چاہئیے، اس سے ان کا دل بھی مستحکم ہو جاتا ہے۔