بھارت نے ایران کے تین تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

بیانگر

Well-known member
بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرۂ عرب میں تیل اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیا ہے جس پر ایران کی طرف سے بھی زبردستی اور مظالم کا الزام لگایا گیا ہے، جو پرانے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں اسے سستا تیل دیگر ٹینکروں تک منتقل کر رہا تھا۔

حالانکہ بھارتی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک بین الاقوامی پانیوں میں جہاز سے جہاز تیل کی منتقلی کے ذریعے تنازعات سے متاثرہ علاقوں کو واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹیز سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن Iranian میڈیا کے مطابق انہوں نے اس operation کا اہلاصہ لینے کے بجائے ایران کے ساتھ تنازعات کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

بھارتی جانب سے ان تین آئل ٹینکرز میں ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی شامل ہیں جو بحیرہ عرب میں سمندر میں رکا گیا تھا اور بعد ازاں تحویل میں لیا گیا تھا، جس پر ایران اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر نئی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کچھ ذرائع کی حوالہ دیے جانے والے یہ کہ بھارت نے अमریکی پابندیوں کے دباؤ کے باعث ایران کے ساتھ اہم چाबہار بندرگاہ منصوبے سے دستبردار ہو گیا ہے، جو دونوں ممالک کے بین الاقوامی تعلقات میں تبدیلی لائی گئی ہے۔
 
یہ واضح طور پر ایک مظالم کی کھلے دروازہ تھا۔ بھارت کو اس Operation کی اہلاکی نہیں ہو سکتی، یہ صرف ایسے لوگوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اپنے ذاتی مفادات کو بچانے کے لیے کسی بھی چلao پر قدم رکھ سکتے ہیں۔ Iran کی جانب سے اس Operation کی مذمت کرو، لیکن ایران کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ کس طرح اس operation کو اپنی طرف اشارہ کر رہا ہے، اٹھا لیتا ہے؟ بھارت نے ایران کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہو یا اس operation کو ایک سیاسی دھندلہ بننے کی کوشش کی گئی ہے، یہ پتہ نہیں چلتا ہے۔
 
ایسا محض تو تصور کرنا ہی کافی نہیں بلکہ بھارتی جانب سے واضح تھا کہ ان تین آئل ٹینکرز کی تحویل میں لی جائی گئی تھی کیونکہ ان پر زبردستی اور مظالم کا الزام لگایا گیا ہے، یوں کمپنیوں کو تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں سستا تیل بھیجنا پڑا ہو گا اور انہیں واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹیز سے بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن اب ایران کے زملے نے اس کارروائی کو تنازعات کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ کرکے اس بات کو ظاہر کیا ہو گا کہ ان کا مقصد کچھ اور تھا۔
 
سورج کی چھای نہیں دیکھ رہا؟ 🌅

یہ وہی آپریشن ہے جس نے ایران اور بھارت کے درمیان کوڈ ہٹنے پر مجبور کیا تھا، اب اسے کچھ نئی پہچان دے رہے ہیں... 🤔

بھارتی جانب سے یہ کہنا گیا ہے کہ وہ تیل کی منتقلی کو سستایا کرنے کے لیے اپنی جان کھینچ رہی تھیں، لیکن ایران نے انہیں تو جھوٹا پکڑا ہے اور اب وہ انہیں ایسے کارروائیوں میں شامل کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جو اس کی طرف سے نئی پریشانیاں پیدا کر رہے ہیں... 😬
 
اس Operation کا اہلاصہ لینے کے بجائے ایران کے ساتھ تنازعات کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ کرنے میں بھارت نے فائڈ نہیں دیکھا ہو گا؟

Operation کا مقصد تیل اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو روکنا ہوتا ہے، لیکن ایران کی طرف سے بھی زبردستی اور مظالم کا الزام لگایا گیا ہے، جس سے Operation کا مقصد پورا نہ ہو سکتا ہے۔

بھارت کی جانب سے اس Operation کا اہلاصہ دینے والی بات یہ ہے کہ تیل اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو روکنا اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں سستا تیل منتقل کرنا۔

لیکن Iran کی طرف سے بھی کیا ہوا؟ کیا ایران نے سستا تیل صرف ایسے علاقوں تک منتقل کیا ہے جو تنازعات سے متاثرہ ہیں؟
اس Operation کا اہلاصہ لینے کے بعد Iran اور بھارت کے درمیان نئی کشیدگی پیدا ہونے کی خواہش ظاہر ہو رہی ہے، جو دوسری جانب سے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔
 
ایسا سمجھتے ہیں کہ یہ operation بھی ایسی جیسے ہی کچھ دوسرے ملکوں نے اس طرح کی کارروائی کی ہوگی اور صرف ایران کو توقع نہ کریں کہ انہوں نے اپنے ساتھ ساتھ ہی یہ operation کو بھی نا کیا گیا ہوگی۔
بھارت کی جانب سے جاری بیان میں اس Operation کے تحریریں بتائے گئے تھے کہ اس operation میںIran کو ملک کی سلامتی اور معیشت کے لیے ہی نا کیا گیا ہوگی، لیکن اس operation میں Iran کے ساتھ تنازعات کو مزید بڑھانے کا ایسا اشارہ کیا گيا ہوگا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں تنازعات ہٹانے والی اس Operation کے اہل Assurance نہیں ہیں۔
 
یہ کارروائی تھی جس سے ہم نے محو اہتمام کیا ہوگا؟ ایک طرف ایران کی جانب سے اسٹیلر روبی کو تحویل میں لیا گیا، دوسری طرف بھارت نے اس کے بائیکاٹ کرنے کے بعد اور تین آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیا ہوگا? ہر کوئی سوشل میڈیا پر گھوم رہا ہے، اور اب بھی پتہ نہیں چلا کہ یہ کس نے کیسے شروع کر دیا تھا اس کارروائی کو؟
 
امرکن ملکوں کا یہ کارروائی اورIran کے ساتھ سفارتی سطح پر نئی کشیدگی پیدا کرنے کی صورت دیکھنے کو مشکل ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ تیل اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کر رہا تھا، لیکن اس Operation کا اہلاصہ لینے کی بجائے ایران کے ساتھ تنازعات کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟ 🤔
 
ایسے تو بھارتی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ ان آئل ٹینکرز کو تنازعات سے متاثرہ علاقوں کو سستا تیل منتقل کرنے کی کوشش کیا گیا تھا، لیکن ایران میڈیا کے مطابق یہ کہا کے بھارتی جانب سے تنازعات کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے... یہ تو بہت خطرناک ہے.
 
اس Operation کی وہ گلہ تھا جس نے بھارتی جانب سے ایران کے ساتھ تنازعات کو مزید بڑھانے پر اشارہ کرنا پڑا، جو صحت مند تجارت اور معاشرے کے لیے مفید ہوتا جیسا کہ ہم سب کے لئے چاہتے ہیں، اگر ان تین آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیا جانا اور ان کا ایران سے تعلق بھی متعلقہ کھوئا جائے تو کیا صحت مند اور معاشرتی ہوگی۔
 
🤔 یہ وہ محض چھپانے کی کوشش تھی جس کا خاتمہ ہوا... بھارتی جانب سے دیے گئے بیان میں ایران کے ساتھ تنازعات کو مزید بڑھانے کے لیے ایسا اشارہ کیا گیا جو اچھا نہیں لگ رہا... Iran کے ساتھ وہ اس Operation کا اہلاصہ لینا چاہتا تھا جس سے تنازعات سے متاثرہ علاقوں کو سستا تیل اور دیگر ٹینکروں تک منتقل کرکے وہ یہ کوشش کر رہا تھا... اب وہ اس Operation کا پہچانتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازعات کو مزید بڑھانے میں اس کی مدد ہوسکتی ہے... یہاں تک کہ ایران اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر نئی کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ ظاہر ہو رہا ہے...
 
بھارتی جانب سے اس آپریشن کو دیکھتے ہی انہیں پہلے ہی اس کا خطرہ محسوس ہو رہا تھا کیونکہ ایران نے بھارت سے اس چابہار منصوبے کو واپس لینے کا تحفظ کی کوشش کر رکھی تھی۔ اب یہ پتہ چل رہا ہے کہ بھارت نے اورIran میں تنازعات کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ کیا ہے، جس سے دوسرے ملک بھی اس کے خلاف تنگ آ رہے ہیں۔ اب ایران اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تنازعات بڑھنے کی پیمائش کرنا مشکل ہو گیا ہے، اس لئے یہ بہت اہم ہے کہ دونوں ممالک اپنی طرفیں دیکھ کر ایک صاف و سادہ پزیرش کا راستہ دیکھنا چاہئیں۔
 
واپس
Top