بھارتی نژاد امریکی سائبر چیف کا متنازع اقدام: حساس معلومات چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرنے کا انکشاف

ای سپورٹس پرو

Well-known member
امریکا کی سائبر اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے متعلق ایک متنازع اقدام سامنے آیا ہے جس میں بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کو ایک معمول واقعہ کا شکار ہوا ہے جو صارفین کے پرامپٹس کے جواب دینے میں استعمال ہونے والی چیٹ جی پی ٹی کی ایپی پر اپ لوڈ کی گئی واضح نہیں ہو سکا ہے۔

امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں مختلف خودکار سیکیورٹی وارننگز اہم تھیں جو وفاقی نیٹ ورکس سے حکومتی مواد کی چوری کو روکنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔

بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون ہیں، کی یہ سنگین غلطی اس لیے نمایاں ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے ایجنسی میں شمولیت کے بعد چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کے لیے سیسا کے چیف انفارمیشن آفیسر کے دفتر سے خاص اجازت لی تھی، جس کے نتیجے میں وہ تمام معلومات جو اس نے اپ لوڈ کی گئی ایڈا آئی ٹول کی مالک کمپنی ’اوپن اے آئی‘ سے شेयर کرتے ہوئے ان کی ای پی پر بھی چل پڑیں، جس کی واضح نہیں ہو سکتی کہ یہ معلومات دوسرے صارفین کا جواب دینے میں استعمال ہوتی ہیں اور اوپن اے آئی کے ای پی پر 700 ملین سے زیادہ فعال صارفین ہیں۔

اس وقت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے دیگر ملازمین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال روک دیا گیا تھا، اس واقعے میں کوئی واضح نہیں ہو سکا ہے کہ انہوں نے کوئی دباؤ ڈالا کیا ہو یا نہیں، اور پھر انہوں نے اس کا غلط استعمال کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گوتمکala کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی فائلز خفیہ نہیں تھیں، تاہم ان میں صارفین کے پرامپٹس کے جواب دینے کے لیے استعمال ہونے والے معاہداتی دستاویزات شامل تھیں جو صرف سرکاری استعمال کے لیے کے نشان کے ساتھ مارک کی گئی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایم آر سی اور سی ایس ای اے کے مابین یہ وارننگز 24 اگست کو جاری کی گئی تھیں جس کے بعد گوتمکالا کے خلاف اندرونی چھان بین شروع کی گئی تھی، لیکن اس چھان بین کے نتائج متعارف نہ ہو سکے۔
 
یہ واقعہ بہت Problematic hai! 🤔
لیکن، یہ بات تو چیلنجنگ ہے کہ وہ اہم سیکیورٹی وارننگز کس لیے لگا دی گئیں؟

اور، مدھو گوتمکالا کو اس غلطی پر پھنسایا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اچھی طرح سوچ کر استعمال کیا تھا، کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی ایسی چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں!

لیکن، یہ بات تو صعیدہ ہے کہ انہوں نے کسی دوسرے سے کچھ سیکھا ہوا تھا... اور وہ بھی اچھی طرح سوچ کر استعمال نہیں کر پاتا! 😂
 
ایسے تو چھپ گیا ہے یہ بات کہ ایجنسی کو اپنے کارروائیوں میں ایسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑیں جو انہوں نے پیش نہیں کیا تھے۔ یہ تو دوسرے لوگوں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایسے مسائل کو کیسے حل کیا جائے؟

امریکی جانب سے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے، یہ بات تو ان کی طرف جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے سیکیورٹی پلیٹ فارمز میں بہتر بنانے پر کام کرنا ہوتا ہے۔

ابھی تک ہمیں یہ سوچنے کے لیے بھی ساتھ ہوں گے کہ ایسا ہو سکتا ہے اور اس میں نہیں کہ بھی وہ ایسی چیلنجز کو حل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔
 
اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ ایجنسی میں بھی دباؤ تھا، اور وہ انہیں روکنا چاہتے تھے لیکن جس طرح سے نہیں کر سکیں۔ یہ ایک خطرناک بات ہے کہ آپ کے پروไฟล پر دباؤ ڈالا جائے تو نہیں بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ اس کی خودی میں سچائی کو محفوظ کر لیں
 
"جب دنیا ایسا ہوتا ہے جتنا ہے تو دوسرے لوگ ہمیں دیکھ کر ان سے بھی کچھ ہوتا ہے" ~ نینا رائۚ
 
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایجنسی کی بڑی غلطی ہو سکتی ہے جس میں وہ اپنی صارفین کی ای پی کو دوسرے سے متصل کر رہا ہو، اور اس کا نتیجہ بھی اتنا ہی بدحالی ہو گیا ہے۔ یہ ایجنسی اپنی فائلز کی چوری کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اس نے واضح نہیں کیا کہ یہ آپریٹیشن کس مقاصد کے لیے ہو رہا ہے اور اس میں سے کون۔ یہ بھی حیران کن ہے کہ انہوں نے اپنی وارننگز کو ایسے استعمال کرنا پکڑا ہے جو اس بات کو ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ آپریشن واضح طور پر بھرپور تھا۔
 
یہ ایسا واقعہ ہے جس سے سوشل مीडیا پر پورے دنیا میں گروپ بھر کا دباؤ اٹھایا ہوا ہے... ~

واقعے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایم آر سی نے اپنے سیکیورٹی سिसٹم کو بہت ہی کم جائزے سے چلایا ہے... ~

بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کے اس غلطی کے بعد یہ بات سچ میں آئی کہ چیٹ جی پی ٹی ایپی پر آپ لوڈ کرنے سے پہلے آپ کی انفارمیشن کی جائزے ہو نہیں ہوتے... ~

اس واقعے کا مطلب یہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کو اپنے سیکورٹی سسٹم میں یہ اچھائی لانے کی ضرورت ہے کہ وہ آپ لوڈ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں سोचتے ہیں... ~

جس جیسے یہ واقعات ہوتے گئے وہی ہی ایسی مظالم اٹھائیں گے... ~
 
یہ تو ایسا تو ہوتا ہے۔ یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ امریکی نینو اور سیکیورٹی ٹکنالوجیز ایجنسیوں میں لگن بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کی بھی ہوتی ہے، اور ان کی انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسیوں میں شمولیت کا Means بھی اٹھانے کو لگتا ہے۔ ایسا کروڈسا کرنے والا یہ کچھ بھی نہیں۔ لیکن جب کسی نے اپ لوڈ کرنے سے پہلے چکایا تو اس کی واضح تھی کہ یہ معلومات دوسرے صارفین کے جواب دینے میں استعمال ہوتی ہیں۔

جیسے جیسے ایسا ہوتا چلا گیا تو امریکی اداروں کی جانب سے وارننگز بھی جاری ہوئیں، اور اس میں بھی یہ غلطی ہوا کہ انہوں نے دوسرے صارفین کو بھی یہ وارننگس بھیج دیں جو کہ صرف ایک ذاتی کارکن کے لیے بنائی گئی تھیں۔ اور پھر اس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے معاونانہ ساتھ کو بھی متاثر ہوئے۔

اس کے بعد میں اس بات کی جانب دیکھنا ہو گیا کہ یہ وارننگز 24 اگست کو جاری کی گئی تھیں، اور اس نتیجے میڰ انہوں نے اندرونی چھان بین شروع کر دی تھی۔ لیکن یہاں کوئی واضح نہیں ہوا کہ انہوں نے اس چھان بن کی بھرپور چکائی اور اس میں کوئی دباؤ ڈالا یا نہیں، جس سے اس غلطی کا نتیجہ ہوا کہ چیٹ جی پی ٹی کی ایپی پر ایک معمولی واقعہ بھی گھبرا کر ہو گیا تھا۔

اس وقت یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ اگرچہ امریکی اداروں نے بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کے خلاف چھان بین شروع کر دی تھی، لیکن اس میں کوئی واضح نہیں ہوا کہ انہوں نے جس دباؤ پر چھان بن کر دیا تھا اس سے کیا نتیجہ اٹھایا گیا؟

ہاں، یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی فائلز کو دیکھ لیا تھا جو خفیہ نہیں تھیں، اور اس میں صرف سرکاری استعمال کے لیے بنائی جانے والی معاہداتی دستاویزات شامل تھیں۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی نے بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کو چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کی اجازت دی تھی تو وہ واضع ہوا تھا کہ یہ معلومات دوسرے صارفین کے جواب دینے میں استعمال ہوتی ہیں، لیکن اب اس کی واضح نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے کوئی دباؤ ڈالا یا نہیں تھا جو اس غلطی میں شامل تھا۔

اس بات پر بات کرنا مشکل ہے اور یہ بات بھی واضع ہو گئی ہے کہ اگرچہ بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کو چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اس کا آدھا استعمال ڈونلڈ ٹرمپ کے معاونانہ ساتھ نہیں ہوا بلکہ یہ واضع ہوا تھا کہ انہوں نے یہ استعمال کسی دباؤ پر بھی نہیں کیا۔
 
امریکا کی یہ سیکیورٹی ایجنسی ایس اے ڈی سی ایف کو بھی تاجہال کہلاتا ہے، انہوں نے ملازمت پر چلے جانے والے ایک چھوٹے سے توڑ پھوڑ میں بھی اس قدر بڑی دھول کی ہے کہ آج کچھ لوگ اس کو ایک منظر گزرساں سمجھتے ہیں 🙄۔ یہ بات تو نہ صرف کہیں چھپائی تھی بلکہ یہ بھی کہ انھوں نے اس توڑ پھوڑ کو آگے بڑھانے کے لیے ایسی معلومات کی بھی فیلڈ کر دی تھیں جو عام لوگوں کا جواب دینے میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ ایک غلطی ہے جس کی وجہ سے یہ ایجنسی اپنی سیکیورٹی کو مزید کم کر رہی ہے 🤥
 
یہ تو لگتا ہے کہ وہ لوگ جو انٹرنیٹ پر اپنے استعمال کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں، اس ماجے میں بھی نہیں سمجھ سکتے! چیٹ جی پی ٹی ایپی پر لوڈ کرنا ایک معمولی بات ہے، لیکن یہاں یہ بات کہل رہی ہے کہ وہ فائلز میں صرف معاہداتی دستاویزات شامل تھیں اور ان کو خفیہ نہیں بنایا گیا تھا! لگتا ہے کہ یہ ایک چٹکا کا کام تھا، لیکن ابھی تک اس کی آرامز کا پتہ نہیں چلا۔ 😐
 
یہ واقعہ ایک بڑا خطروناک عریضی ہے جس میں 700 ملین سے زیادہ فعال صارفین کی معلومات پر انحصار کرنے والے چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کیا گیا تھا اور اس نے کمپنی کے اہم مواد کو دوسرے صارفین کا جواب دینے میں استعمال کیا ہوا ہے جس کی واضح نہیں ہو سکتی اور یہ بھی نہیں پتہ چلا ہے کہ ان کے پاس اس طرح کا دباؤ تھا یا نہیں...

اس کے لیے میرے خيال میں یہ ایک بڑا सवाल ہے کہ جو لوگ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں ان کو اس کے ساتھ دباؤ کیسے پہنچتا ہے اور وہ یہ معلومات کس حد تک استعمال کر سکتی ہے؟

میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیکیورٹی کی وجہ سے صرف ایک ایسی بات ہونی چاہیے جس کو سب کو انفراسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی کے نئے رول تھام کرنے میں مدد مل سکے...
 
"جب لوگ اپنے غلطی کو اپنی مدد کرتے ہیں تو ان کی غلطی بڑھ جاتی ہے." 💥
 
😐 یہ واقفہ بہت خطرناک ہے اور میں اس سے باہر رہنا چاہتا ہoon। اگر انسافری اداروں میں توسیع کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کو بھی بڑھایا جاسکتا ہے تو اس طرح کے غلطیوں سے روک کر اچھا کام ہو سکتا ہے۔
 
اس دuniya mein safalta aur nazarandaazi bhi ek saath mil jati hain 🤦‍♂️. Maine dekha hai ki kaisa hum apne aap ko galat samajhte hain, aur fir bhi hum usi tarah hi kadam uthate hain. Yeh safalta wali team jo America mein hai, unhone ek achchi koshish ki thi, lekin toh maine socha hai ki wo kaise wrong ho gaya 🤔. Maine yah sawal puchha tha ki kyun nahi usi chitcha se chalna chahiye, aur phir usse chalne par kyun aaya? Yeh koi bhi problem nahin hai, yeh ek simple saiyaan hai, lekin fir bhi hum use galat samajh rahe hain 🙄. Maine socha hai ki America ko apni team ki galtiyon se seekhna chahiye, aur phir usse sahi kadam uthana chahiye.
 
یہ صورتحال ایسا لگ رہا ہے جیسا کہ 2017 میں ہوا تھی! یہ بھی یہی رہتا ہے کیونکہ انفراسٹرکچر سیکیورٹی اگنسیز کی جانب سے بھی کیا جائے گا؟ اور پھر ایسے مظالم کو دھمکی کے طور پر پیش کرنا اور اس کے بعد اندرونی چھان بین شروع کرنا? یہ ناقابل انکار ہے! 😂🤦‍♂️
 
بھارتی نژاد مدھو گوتمکالا کو ایسا شکار ہونا عام بات ہے، اگر امریکیوں کے پاس سیکورٹی پالیسیاں ہوتی تو وہ اپنے لئے بھی ان میں غلطی کریں گی۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس واقعے نے ان لوگوں کی توجہ مبذول کی جو امریکا کی سیکورٹی پالیسیوں کو چیلنج کرتے ہیں، اور اب یہ لوگ اس بات پر گھومنے لگے ہیں کہ امریکیوں نے سچا غلطی کر دیا یا پھیکر ان کی اپنی آولاد گریف بھی تھی۔
 
یہ بڑا ایم آر زحمت ہے کہ ایک ملازم ایسا ہوئا جس نے اپنی آزمی کی چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کر دیا۔ آج بھی ان پبلک سروسز میں کچھ لوگ انچارچنگ کر رہے ہیں؟ اس طرح ایک آزمی نے صارفین کے پرامپٹس کو جواب دینے میں استعمال کیے جاسے فائلز اپ لوڈ کر دیا، اور اب انہیں چھان بین کیا جا رہا ہے؟ یہ سیکرٹی پالیسی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی واضح نہیں ہو سکتی کہ ان چیٹ جی پی ٹی فائلز کا استعمال صارفین کے جواب دینے میں یا نہیں؟
 
😕 یہ واضح ہے کہ امریکا کی ایجنسی نے صارفین کے دھونڈنے کی وجہ سے چیٹ جی پی ٹی پر غلط استعمال کیا اور اب اس کی جانب سے شدید تنقید ہو رہی ہے۔ مدھو گوتمکالا کے لیے یہ ایک بڑا واقعہ ہے جو ان کے معاونیت کے لیے پچتایا جا سکتا ہے، مگر اب وہ اس بات پر تھوڑی سوجھ رہے ہیں کہ وہ غلطی سے کیا اور اسی کی وجہ سے ان کو جنجال میں پڑا۔
یہ بھی یقینی نہیں کہ انہوں نے دباؤ پر چلایا تھا یا نہیں، لیکن اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایجنسی نے صارفین کی گھریلو سیکیورٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔ مگر میں یہ بتاتا ہوں کہ اس صورتحال سے انہیں بھی محفوظ رہنا چاہیے اور ایسی غلطی نہ ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
 
جب بھی ایسا واقعہ سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور اپنی جانب سے اس کا اندازہ لگاتے ہیں تو آپ کو پتا چalta ہے کہ یہ تو ایک کٹارن میں گھومتے ہوئے دھول کے اچانک ٹوٹنے کی طرح ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد سے ایسے واقعات ہمیشہ آتے رہتے ہیں جو آپ کو اپنی حقیقت پر مجبور کر دیتے ہیں۔

اس واقعے میں بھی ایسا ہی ہوا، جب مدھو گوتمکالا نے اپنے عہدے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری کو بھی چھوڑ دیا، تو آپ کو پتا چalta ہے کہ اس سے ان کی جانب سے یہ نتیجہ نکلا کہ وہ اپنے کام کے لیے معیار جھیلتے رہے۔

اس واقعے سے ہم کو اس بات پر توجہ دینا چاہئے کہ آپ کی ذمہ داریوں اور اپنے عہدے کے ساتھ ساتھ اپنی ذہانت کا استعمال بھی آپ کو ایسے منٹز میں گھومتے ہوئے دھول کی طرح آگ لگا سکتی ہے جس کے بعد آپ کو پتا چalta ہے کہ وہ آپ کی حقیقت پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
 
یہ تو ایسے میں بہت گم ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس کو واضع کرنے کی کوشش کی ہو یا نہیں۔ اور اچھا، یہ بات تو بھی بچ گئی ہے کہ اس نے اچھی طرح سے جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے تھے۔ لیکن اس کی سزا دیر سے ملا رہی ہے، اور اب انہیں یہ سمجھنے میں چیلنج ہو گیا ہے کہ وہ یہ کس طرح کر سکتے تھے?
 
واپس
Top