امریکا کی سائبر اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکالا نے اپنے اپنے آپ کو ایک دھोखہ دہ چال میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے سیکیورٹی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اس کا استعمال ان کی پہلی چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کر دیا تھا جس میں ایک ایسا معاہدہ تھا جو سرکاری استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلفSelf-Service سیکیورٹی ابلارض کی فعال ہو گئیں جن سے حکومت کی معلومات کو چوری کرنا روکایا جاتا ہے۔
جس طرح سے یہ معاملہ ایک سنگین غلطی کے طور پر پیش آیا ہے، اس لیے یہ بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے مئی میں ایجنسی میں شمولیت کے بعد سیسا کے چیف انفارمیشن آفیسر کے دفتر سے Special ڈھانچے کو اپنے آپ کے استعمال کے لیے اجازت دی تھی، جو کہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔
جس پہلے سے اس معاہدے کو چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرنا ہو گا کہ انہوں نے سیکیورٹی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اس معاہدے کو اچانک چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کر دیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ان معاہدات میں شامل معلومات ایک ایسے ایئی ٹول کی ملکیت والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ سے شائع ہوتی ہیں، جو اس بات کو بھی دکھاتا ہے کہ یہ مواد کبھی بھی ایسے استعمال ہو سکتے ہیں جسے کوئی دیگر صارفین کے پرامپٹس کے جواب دینے کی ترغیب دی گئی، اور وہ یہ دیکھ کر بھی متاثر ہو سکتا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایپ کے 700 ملین سے زائد فعال صارفین ہیں۔
جس وقت امریکی سائبر ایجنسی کی دیگر ملازمتوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال روک دیا گیا تھا، پولیٹیکو نے بتایا کہ گوتمکالا نے سیکیورٹی ایجنسی کو دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور بعد ازاں اس کی غلطی کی۔
اس معاملے میں یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ گوتمکالا نے چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کرنے والی تمام معلومات اے آئی ٹول کی ملکیت والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ سے شائع ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان معاہدات میں شامل معلومات ایک ایسے ایئی ٹول کی ملکیت والی کمپنی سے شائع ہوتی ہیں جو اس بات کو بھی دکھاتی ہے کہ ان معاہدات میں شامل معلومات ایسے استعمال ہو سکتی ہیں جس پر کوئی براہ راست تعلق رکھنے والی فہرست میں نہیں ہوتا۔
جس وقت بھارتی نژاد ڈاکٹر مدھو گوتمکالا کی سربراہی میں سیسا میں سب سے سینئر سیاسی اہلکار ہیں، انہوں نے ایک وفاقی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالی تھی جو روس اور چین جیسے حریف ممالک کے جدید ہیکرز سے حکومت کی نیٹ ورکس کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہے۔
انہوں نے سیکیورٹی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اس کا استعمال ان کی پہلی چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کر دیا تھا جس میں ایک ایسا معاہدہ تھا جو سرکاری استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلفSelf-Service سیکیورٹی ابلارض کی فعال ہو گئیں جن سے حکومت کی معلومات کو چوری کرنا روکایا جاتا ہے۔
جس طرح سے یہ معاملہ ایک سنگین غلطی کے طور پر پیش آیا ہے، اس لیے یہ بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے مئی میں ایجنسی میں شمولیت کے بعد سیسا کے چیف انفارمیشن آفیسر کے دفتر سے Special ڈھانچے کو اپنے آپ کے استعمال کے لیے اجازت دی تھی، جو کہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔
جس پہلے سے اس معاہدے کو چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرنا ہو گا کہ انہوں نے سیکیورٹی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اس معاہدے کو اچانک چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کر دیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ان معاہدات میں شامل معلومات ایک ایسے ایئی ٹول کی ملکیت والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ سے شائع ہوتی ہیں، جو اس بات کو بھی دکھاتا ہے کہ یہ مواد کبھی بھی ایسے استعمال ہو سکتے ہیں جسے کوئی دیگر صارفین کے پرامپٹس کے جواب دینے کی ترغیب دی گئی، اور وہ یہ دیکھ کر بھی متاثر ہو سکتا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایپ کے 700 ملین سے زائد فعال صارفین ہیں۔
جس وقت امریکی سائبر ایجنسی کی دیگر ملازمتوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال روک دیا گیا تھا، پولیٹیکو نے بتایا کہ گوتمکالا نے سیکیورٹی ایجنسی کو دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور بعد ازاں اس کی غلطی کی۔
اس معاملے میں یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ گوتمکالا نے چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کرنے والی تمام معلومات اے آئی ٹول کی ملکیت والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ سے شائع ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان معاہدات میں شامل معلومات ایک ایسے ایئی ٹول کی ملکیت والی کمپنی سے شائع ہوتی ہیں جو اس بات کو بھی دکھاتی ہے کہ ان معاہدات میں شامل معلومات ایسے استعمال ہو سکتی ہیں جس پر کوئی براہ راست تعلق رکھنے والی فہرست میں نہیں ہوتا۔
جس وقت بھارتی نژاد ڈاکٹر مدھو گوتمکالا کی سربراہی میں سیسا میں سب سے سینئر سیاسی اہلکار ہیں، انہوں نے ایک وفاقی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالی تھی جو روس اور چین جیسے حریف ممالک کے جدید ہیکرز سے حکومت کی نیٹ ورکس کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہے۔