مدھو گوتمکالا کے ایسے کردار کی بات آ رہی ہے جس نے امریکی ادارے کے لیے ایک بڑا شوک دیا ہوا، اس نے بھاری ذمہ داری سے باہر چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنا شروع کیا ہے اور اب جس ماسٹر سائبر جھول کو پہچانا جا رہا ہے اس میں بھی ایجنسی کے اپ لوڈ کی گئی فائلز شامل تھیں، یہ بات صوفری نائک نے بتائی ہے کہ ایجنسی نے حکومت سے اہداف میں یہ کردار سنبھالتے ہوئے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنا شروع کیا تھا، یہ ایک دھچکا ہے اور یہ بات نہ پوچھنی چاہئیں کہ وہ کمپنی کی ملکیت جو اس جھول میں شامل ہے وہ کیسے انہیں حکومت کی معلومات کو چوری کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے؟
اس بات پر مجھے بھی گہرا علاج لگ رہا ہے کہ اہداف کو چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنا جس طرح سے شروع کیا گیا ہے وہ ایک دھچکنڈی کی طرح ہے. اگر اس سے پہلے اہداف نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان کی معاہدوں کو کسی بھی شخص کے ہاتھ میں دھمکی دھمی دکھایا جائے تو وہ سارے اہداف کمزور ہو گئے. اور اب ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کے ہاتھ میں یہ فیصلہ لائے جانے کا موقع ملا ہے.