بھارتی ریاست مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے میں شکار ہو گئا تھا، اس حادثے کی وجہ سے پائلٹ نے اطلاع دی تھی کہ اس کو رن وے نظر نہیں آ رہا تھا۔
پھر بھی اسی حادثے میں 4 دیگر افراد ہلاک ہو گئے تھے، ان میں اجیت پوار سمیت چار अन्य لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
بھارت کے مرکزی وزیر برائے ایوی ایشن رام موہن نائیڈو نے بتایا کہ بارامتی ہوائی اڈے کے قریب حد نگاہ کم تھی، جس کے باعث ان تمام افراد کو لے جانے والا طیارہ حادثے میں شکار ہوا۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایوی ایشن ٹیمیں اس حادثے کی تحقیقات کے لیے پہنچ گئی ہیں اور ابتدائی معلومات کے مطابق طیارے کی لینڈنگ کی کوشش کے موقع پر حد نگاہ بہت کم تھی۔
ایسا تو ایسا، ایک بار پھر ہوائی اڈے میں حادثات ہوتے ہیں... نہیں جانا کہ رن وے نظر آئی یا نہیں تھی، یہ بات تو پتہ چلا ہی نہیں گا... میرا خواہش ہے کہ ایسے حادثات نہ ہونے دیں... کافی کچھ لوگ ہلاک ہو گئے تھے، ان کے قریب جانے والا ٹریک پائلٹ کو یہ بات نہیں آئی... جس سے اس حادثے میں ان لوگوں کی جان لی گئی...
ایسے حادثات ہو رہے ہن، یہ بھی ایک دیکھنا پڑ رہا ہے کہ ہوا لینے والے لاکھوں لوگ ساتھ ہی دیکھتے ہیں، ایسا ہوا تو لڑکے یوں شہر میں چلا گیا تھا، اور اب ایسی بھی بات نہیں کہ رن وے کون دیکھتا ہے؟
یہ حادثہ حقیقی طور پر غم بخش ہے، مگر یہ بات بھی توحید کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایک بار پھر کسی حادثے میں لاکھوں لوگوں کا ساتھ ختم ہوتا ہے، اور یہ صرف ایک پائلٹ کی سرورانی موڑ نہیں بلکہ حد نگاہ کم ہونے کی وجہ سے ہوا تو کچھ بات کہی نہیں، لاکھوں لوگوں کو گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس وقت تو کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایک بار پھر ہوا سرگرمی میں بھارتی ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی کو بھی بے جا سزا دیا جائے، مگر اس حادثے کے بعد یہ بات کوئی نہیں کہ ایوی ایشن ٹیمیں اس کے خلاف اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کی کوشش کرें گی، مگر یہ تو کچھ ہی دیر میں پتہ چل جائے گا، تو ایسے میں ضروری ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو بھی محفوظ رکھنا پڑے
یہ ایک دیرپہلے حادثہ ہو گا جس کی وجہ سے ہر کوئی پریشان ہوا۔ ان 4 افراد کی جان لی گئی تھی، ایسے میں یہ کہتا ہو کہ ایک اور شخص بھی شامیل ہو گا تو اس سے پوری دنیا بھر میں تکلیف ہوئی ہو گی۔
اس حادثے کی جسمانی صحت کے حوالے سے یہ بات پتہ چل گئی ہو گی کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد رینو وے پر نہیں تھے، اور لینڈنگ کے دوران ہی ان کی جان لی گئی تھی۔
اس حادثے سے پتہ چل گئا ہے کہ ایک بار پھر ایوی ایشن ٹیمیں اس سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ابھی تک یہ کہتا ہو نا ہے کہ انہیں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ انہیں کیسے لینڈنگ کرنا پڑے گا، لیکن یہ بات تو سمجھ لائی جاتی ہے کہ ایسے حادثات بڑی حد تک روک سکی جاتی ہیں۔
اس حادثے نے ہمیں تنگ کرایا ہے، اور ابھی تک اس پر پوری دنیا کا دباؤ ہوا ہو گیا ہے۔
ایسا تو کیا دیکھو! ایک رکن مہاراشٹر کی حکومت کی ٹیم میں اور طویل عرصے سے ہوا پر چڑھنے والے ایک انسान کو جو پائلٹ بن گئے تھے ،اس کا ایک حادثہ ہوتا دیکھو! 4 افراد بھی ہلاک ہوئے اس حادثے میں. یار، بھارت میں ایسا کیسے ہوتا ہے؟ اور وزیر کو اس حادثے کی تحقیقات کرنے کے لیے آئے اور بتایا کہ لینڈنگ کے موقع پر حد نگاہ کم تھی. یہ تو ہلاک ہونے والے شخص کے پہلو سے بھی بات کر رہے ہوں ،لیکن اس حادثے میں 4 لوگ ہلاک ہوئے. یار، کیا اس پر توجہ نہ دی جا سکتی؟ میری غaltنا تو ایسا تو ہے کہ مجھے بھی توجہ دینی پڑی.
اس حادثے سے پہلے کیسے چیک کرنے دیتے تھے؟ ایسا لگتا ہۈ گا کہ یہ بھی ایک ڈرامہ بن جائے گا، پھر نا ٹھیک پائلٹ نے آپ کو ساتھ لے جانا شروع کر دیا تھا اور ان سارے لوگوں کی جان لی گئی۔
ایسا تو ہونے دو ہوتے، ایک ٹائیورلینڈ نہیں لینڈ کر سکتا اور اس پر کبھی بھی حد نگاہ نہیں تھی ۔ یہ سب سے چاٹکے ہوڈیوں کے لیے ہوتا ہے جب وہ اچھی گنجائش پر پھنسیں، اس وقت میں بھی یہی بات ہوسکتی ہے تو چالاکوں کے لیے اور نا ہی، ایسے حادثات ہونے پر جھٹلے سچائیوں کی بھی پوری تیزاب گنجائش پاتی ہے
یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہے کہ ایک بار پھر مریض اور عارضہ والوں کو لے جانے والا طیارہ حادثے میں شکار ہو گئا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حد نگاہ کم ہر واری ہی جھلکی دھلکن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے...
اس حادثے نے مجھے سچ بولی ہے کہ ایک بھی موڑ نہیں دیکھتا اور ریسپانسیbilٹی کی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئیے... ہوائی جہازوں میں صحت مند لینڈنگ کے لیے انسائفن سافٹوار کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں کی جانب سے بھی سافٹ وئیر انجینئرنگ کا استعمال کرنا چاہئیے... نائیدھو صاحب کے باتوں پر بات کرنے والے صحافیوں کو لینڈنگ کی کوئی مہلت نہیں دی جانی چاہئیے...
بھارت میں ایک نئی بات آئی ہے ، کہا کہ یہاں کے ٹھیک سے ٹھیک نہیں اترتے ہیں ، مگر ان کی لینڈنگ میں بھی ٹھیک سے ٹھیک نہیں اترتی ہے ! چاروں طرف کی کمی دیکھی گئی تو کون پچتے تھا? (lol)
بھی پریشان ہو گیا ہے یہ حادثہ، اور ایسے نوجوان لالچ اور بھاگدانی کے باعث شہید ہو گئے ۔ ہوائی اڈے کے قریب حد نگاہ کم ہی ہوتی تو یہ حادثے نہ ہونے دیں ۔ ابھی تو ہوا میں سے وادیوں کو بھی چلایا جاتا ہے، تو ایسے ملازمتوں کے لیے شہید کرنا نہیں چاہئیے۔
اس حادثے سے ہر کوئی متاثر ہوا ہے، مگر یہ بات کبھی نہیں رہنی چاہیے کہ ہوائی اڈوں پر حد نگاہ کم نہیں لگی ہوتی تو ان کیسے بچ سکتے تھے؟ ہوائی اڈے پر ایسی Condition کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے جو لوگوں کے حیات کو خطرہ میں نہ لگی ۔
یہ ایک دہرنہ جگہ ہے! آج تک وہی طرح کی حادثات ہوتے رہتے ہیں، لیکن لوگ اس کا ختم کرنا چاہتے ہیں تو نہیں؟ آئے دن لینڈنگ ہوائی اڈے پر بھی ایسی کی گئی ہوگی، تو اس کا کوئی فائدہ نہیں!
یہ بات سے حیران ہو گیا کہ انہیں پہلے تو لینڈنگ کے موقع پر حد نگاہ زیادہ تھی اور اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ حد نگاہ کم تھی… لگتا ہے کوئی بھی بات غلط نہیں ہوسکتی… کیونکہ اگر حد نگاہ زیادہ ہوتی تو حادثے سے बचن سکے تھے لیکن اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ حد نگاہ کم تھی… پھر یہ وہی بات نہیں ہوسکتی کیوں کہ حادثے میں اور بھی افراد ہلاک ہوئے…
ہمت نہ ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ایک نائب وزیر اعلیٰ بھی لینڈنگ میں شکار ہو جاتا ہے تو ان کی جانب سے کوئی چٹان نہیں اٹھائی جاتی وہ لینڈنگ کے وقت رن وے نظر نہیں آ رہا تھا، لہٰذا کیوں ایسا ہوا؟ اور انھوں نے کہا کہ حد نگاہ کم تھی؟ یہ تو دیکھتے ہیں کیوں انھوں نے لینڈنگ کو چھوڑ دیا؟
یہ دیکھنا گهری نراحتی سے ہوتا ہے کہ ایسے حادثات ہو رہے ہیں جو اچانک چلا آتے ہیں اور بھارتی ناوکی میں ہونا بھی چاہیے کہ کسی نئے حادثے کی طرف نظر کرتے ہوئے، یہ تو ایک بڑا حادثہ ہوا اور تین لوگ بھی جان گئے ۔ لینڈنگ کے موقع پر ہونے والی حد نگاہ کی کمی نے اس حادثے میں اپنے حصہ ڈالا ہوتا دیکھنا اچانک چلتی ہیں