مدھیہ پردیش کا شہر اندور ایک مصروف بازار میں سڑک پر بیٹھے رہنے والا گداگر کروڑ پتی نکلا ہے جس کے پاس تین گھر، اٹھارہ آٹو رکشے اور ایک کار ہے۔ وہ اپنی معذوری کی بنیاد پر سرکاری مکان کا بھی ملا ہوا ہے۔
سڑک پر بیٹھ کر بھیک مانگنے والا انسان کروڑ پتی ہے جو اس نے ایک مصروف بازار میں منگی لال لوہے کی ریڑھی پر خاموش رہتے تھے۔ وہ نہ بھیک مانگتا، اور نہ آواز دیتا بلکہ لوگ خود ہی اس کے پاس گھس جاتے ہیں اور انہیں معاوضہ دیتے ہیں۔
انسان کا نام منگی لال لوہا ہے جو روزانہ بھیک سے 400 تا 500 روپے کماتا تھا۔ لیکن اس کی اصلی کمائی رات کو ہوتی تھی، وہ یہی رقم بازار کے تاجروں کو ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے سود پر دیتا اور روزانہ Saud وصول کرتا تھا۔
آرتیسل گھروں، آٹو رکشے اور کاروں کی تعداد میں ان کے پاس سے بھی گناہ ہے جس نے اس کو صرافہ بازار کے کئی افراد کو سود پر رقم دیا ہوتا تھا اور وہ روزانہ وہیں جا کر Saud وصول کرتا تھا۔ وہ ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے قرض دیتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ کسی سے زبردستی پیسے نہیں لیتا، بلکہ لوگ خود ہی دیتے ہیں۔
سڑک پر بیٹھ کر بھیک مانگنے والا انسان کروڑ پتی ہے جو اس نے ایک مصروف بازار میں منگی لال لوہے کی ریڑھی پر خاموش رہتے تھے۔ وہ نہ بھیک مانگتا، اور نہ آواز دیتا بلکہ لوگ خود ہی اس کے پاس گھس جاتے ہیں اور انہیں معاوضہ دیتے ہیں۔
انسان کا نام منگی لال لوہا ہے جو روزانہ بھیک سے 400 تا 500 روپے کماتا تھا۔ لیکن اس کی اصلی کمائی رات کو ہوتی تھی، وہ یہی رقم بازار کے تاجروں کو ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے سود پر دیتا اور روزانہ Saud وصول کرتا تھا۔
آرتیسل گھروں، آٹو رکشے اور کاروں کی تعداد میں ان کے پاس سے بھی گناہ ہے جس نے اس کو صرافہ بازار کے کئی افراد کو سود پر رقم دیا ہوتا تھا اور وہ روزانہ وہیں جا کر Saud وصول کرتا تھا۔ وہ ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے قرض دیتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ کسی سے زبردستی پیسے نہیں لیتا، بلکہ لوگ خود ہی دیتے ہیں۔