بھارت کے خلاف میچ سے انکار،پی سی بی نے بڑا اٹھالا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کو خط میں یقینی طور پر بتایا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلن گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرف سے بھارت کے خلاف میچ سے انکار کرنا ایک اہم فیصلہ ہے جس کی وجوہات نہیں دسی گئیں لیکن اس میں پاکستان کی سیکیورٹی کی پالیسی کا ایک نیا درجہ لگایا گیا ہے۔
بھارت نے باضابطہ طور پر بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا تھا، اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا تھا لیکن اس میں ایسا نہیں ہوا کہ وہ آئی سی سی کو یقینی طور پر بتا سکیں کہ ان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے جائیں گے۔
سفید دھول والے پکڑے
جب آئی سی سی نے پوری دنیا کو بتایا تھا کہ بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا ہے تو اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسکاٹ لینڈ کے جانب سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنا جاری رہی گا لیکن اس میں بھی کسی حد تک یقینی طور پر بات چیت نہیں کی گئی تھی، اس کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی پالیسی کو سامنے لایا ہے اور بھارت کے خلاف میچ سے انکار کیا ہے۔
جس وقت بنگلا دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز سے انکار کر دیا تھا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا تھا، وہ پوری دنیا میں دیکھتے رہے تھے کہ یہ آئی سی سی نے ہو گا یا نہیں، لیکن اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی پالیسی کو سامنے لایا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف میچ سے انکار کرنے والے ہیں۔
بی سی بی کا مطالبہ
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے ورلڈ کپ میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
بی سی بی کا کہنا تھا کہ بھارت میں ان کے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات موجود ہیں۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئندہ سیزن سے قبل اسکواڈ سے ریلیز کر دیا جس پر بنگلا دیش میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کو خط میں یقینی طور پر بتایا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلن گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرف سے بھارت کے خلاف میچ سے انکار کرنا ایک اہم فیصلہ ہے جس کی وجوہات نہیں دسی گئیں لیکن اس میں پاکستان کی سیکیورٹی کی پالیسی کا ایک نیا درجہ لگایا گیا ہے۔
بھارت نے باضابطہ طور پر بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا تھا، اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا تھا لیکن اس میں ایسا نہیں ہوا کہ وہ آئی سی سی کو یقینی طور پر بتا سکیں کہ ان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے جائیں گے۔
سفید دھول والے پکڑے
جب آئی سی سی نے پوری دنیا کو بتایا تھا کہ بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا ہے تو اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسکاٹ لینڈ کے جانب سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنا جاری رہی گا لیکن اس میں بھی کسی حد تک یقینی طور پر بات چیت نہیں کی گئی تھی، اس کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی پالیسی کو سامنے لایا ہے اور بھارت کے خلاف میچ سے انکار کیا ہے۔
جس وقت بنگلا دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز سے انکار کر دیا تھا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا تھا، وہ پوری دنیا میں دیکھتے رہے تھے کہ یہ آئی سی سی نے ہو گا یا نہیں، لیکن اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی پالیسی کو سامنے لایا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف میچ سے انکار کرنے والے ہیں۔
بی سی بی کا مطالبہ
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے ورلڈ کپ میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
بی سی بی کا کہنا تھا کہ بھارت میں ان کے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات موجود ہیں۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئندہ سیزن سے قبل اسکواڈ سے ریلیز کر دیا جس پر بنگلا دیش میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔