پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری نے بڑے قدموں سے بے ضابطگیوں اور نیلامی میں ہیر پھیری کرتی ہوئی محکماؤں پر ایک بار پھر دباو ڈالا ہے۔ وہ ان سے سرکاری سطح پر خود تحقیقات کرنے کا اختیار دیتے ہوئے ان کی بے دردی اور نیلامی کو روکنے کے لیے ایک نئا منصوبہ پیش کیا ہے۔
اس منصوبے کے مطابق، قانونی طریقہ کار سے غیر معملی افسران کی جانب سے سرکاری محکمے میں انحرافات کرنے والوں کو خود تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ انہیں دو ہفتوں میں ایک بھرپور مالی معائنتی رپورٹ اس کمیٹی تھری کی پیش کرنا ہوگی جس میں ان تمام معاملات کو درج کیا جائے گا جو نہیں چکی ہیں اور اس سے احتساب کے عمل کو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن وہی نہیں، سرکاری محکمات کو ایسے خود انکوائری کرنے پر مجبور کیا گیا ہے جو اس کمیٹی تھری کی رپورٹ سے بہت مختلف ہیں اور وہ یہاں تک پہنچ جاتی ہیں کہ انہوں نے اپنا ذمہ دار افسر بھی نہیں پیش کیا۔
چیرمن پی اے سی تھری احمد اقبال نے احتساب کا عمل جاری رکھنے میں ان سے نقصان ہو رہا ہے، یہی وجہ اس طرح کی خود انکوائری کرنے پر مجبور ہونے کی وہ بھی توجہ نہیں دی جو اس سے احتساب کے عمل کو متاثر رکھے گا۔
اس سے اب ہم پیچھے چلے جاتے ہیں، ایسا کرنے پر مجھے افسوس ہوتا ہے۔
منشپ کو کمزور کرسکتے ہیں، ان محکماتوں میں سے جو خود تحقیقات کرنے کی ترغیب دیتے ہیں وہاں بھی پھر سے توسیع ہوتی جاتی ہے تاکہ وہ خود معاملات میں ملوث رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس منشپ کی پالیسیوں کو چیلنج کرنے والا ایک ساتھ ایک ہوتا جائے۔
منطقہ پی اے سی تھری کی یہ کارروائی بالکل اچھی نہیں ہو گی، مگر اس کے پیچھے ایسا منصوبہ پیش کیا گیا ہے جو بھرپور نہیں ہے۔ ایک دوسرے سے خود انکوائری کرنے پر مجبور کرنا اور فوری رپورٹ بنانے کی ضرورت کو ایک دوسرے سے الگ کرنا کچھ حقیقی احتساب کا Meaning نہیں ہے۔
تمہیں پتہ لگچکا ہوگی کہ اس کمیٹی تھری نے اچانک پیٹھوں سے سرکاری محکمات کو ایسے خود انکوائری کرنے پر مجبور کیا ہے جس کی وہ پوری ذمہ داری نہیں دیتے۔ اس منصوبے کا مقصد سرکاری محکمات میں نیلامی روکنا تھا، لیکن اب یہ لگتا ہے کہ انہوں نے سافٹی ایڈس کے بجائے ایک بدحالی کو ٹچ کر دیا ہے۔ تمہیں انہیں اپنی غلطیوں کی وجہ سے نقصان دہ قرار دینا چاہئے اور پھر ان پر توجہ دی جائے کہ انہیں یہ ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے جس سے احتساب کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔
ایک دفعہ یہ بات تھی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری سرکاری محکمات کو خود investigated کرنے پر مجبور کرتا تو بہت اچھا ہو گا، لیکن اب وہیں تک پہنچ رہے ہیں کہ انہیں اپنا ذمہ دار افسر نہیں پیش کرنا پڑتا!
اس میں ایک واضح نقصان ہے، کیونکہ یہ اسی بات پر زور دیتا ہے کہ محکمے میں انحرافات کرنے والوں کو خود investigated کرنا پڑے گا، لیکن اسی وقت انہیں اپنے ذمہ دار افسر کی وضاحت کرنی پڑتی ہے! یہ کس طرح احتساب کا عمل سے متاثر رہتا ہے?
بغیر کسی چیلنج کے محکمے میں بے پناہی اور نیلامی کی پدھر کو دیکھتے رہتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ان کے اپنے محکمے میں بھی سسی لگنی تو اس کو پورا کرنا آسان ہو جائے گا۔
سکپٹिकल اسپارٹن
ماڈر کیپٹن سے لے کر مینجمنٹ ٹیلنٹس تک، سرکاری محکمات میں بے ضابطیوں کا ہونہار درجہ انھیں تو بدلتا رہا لیکن اس سے نتیجہ کچھ اور نہیں، وہ بھی نہیں چکی ہیں۔ خود تحقیقات کرنے کی منصوبے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا معاملہ گزشتہ کچھ کا دھونہ کیا جائے گا، نئی رپورٹ کیوں پیش کرنی پڑے گی؟ اور ایک بھرپور مالی معائنتی کو دو ہفتوں میں پیش کرنا? چیرمن پی اے سی تھری سے ملنے پر کچھ نہیں معلوم ہوتا، محسوس کرتا ہوں کہ ان کی رپورٹ سے احتساب کا عمل دھنستا جائے گا۔
میں یہ سोचتا ہے کہ اس منصوبے کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے بلکہ اور اور محنت کی ضرورت ہے۔ اگر ان مواقع پر سرکاری افراد کو ذمہ داریاں سونپنا پڑتے تو وہ اس کے لیے ہی بے دردیوں کی طرف متوجہ ہوتے، مگر اس صورت میں ایک اور منصوبہ تیار کیا جائے جو ان معاملات کو اپنی سرگرمیوں میں شامل کرے اور بھرپور املاک کی رپورٹ فراہم کرے
ایسا لگتا ہے کہ اس کمیٹی تھری کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ ایک نئی تبدیلی کا اشارہ ہے لیکن وہ دوسرے محکمات بھی خود انکوائری کرنے پر مجبور کرو رہی ہیں، یہاں تک کہ ذمہ دار افسر نہیں پیش کیے جارہتے ہیں۔ یہ دیکھنا ہر کوئی کے لئے ایک سکھاؤٹ ہے کہ کبھی بھی ہم اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے اور نہیں صرف اپنے لئے سہولت کی ساتھ لے لیں، اس پر انحصار کرنا گمراہ کن ہوتا ہے
یہ تو خبث کا تہوار ہوا ہے۔ انصاف کی کوشش سے بڑے نچلے اور بدعAMEالوں پر دباؤ ڈالنا بھی ایک حقیقت ہے لیکن یہ اس بات کو پورا نہیں کر رہا کہ انساف کی ذمہ داری صرف ایک کمیشن یا کمیٹی پر हੀ نہیں چھوڑی جا سکتی بلکہ سارے سرکاری اداروں کو اس کے لیے پناہ گاہ کی شکل میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ایسا نہیں ہو سکتا ہے … کیونکہ اس کمیٹی تھری کو ان مضمون کی جانب سے اپنی فوری کوشش کروائی جانی چاہیے جو ان بے دردیوں میںوں کو محکوم کر سکے اور ان مظالم پر Serious mind رکھی جا سکے … لگتا ہے وہی کوشش کی جائے جو چیرمن پی اے سی تھری نے اپنے پہلے منصوبوں سے کروائی thi … اور اس میں ایک ہفتہ لگنا چاہیے کہ ان مظالم پر ایسا محنت کر جانی چاہیے جو احتساب کے عمل کو بڑھا سکے …
منصوبے کے مطابق غیر معملی افسران کو خود تحقیقات کرنے کا اختیار دیتے ہوئے ان کی بے دردی اور نیلامی کو روکنے کے لیے ایک نئا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ لेकिन یہ سوال ہے کہ یہ منصوبہ ان معاملات پر دباو ڈالتا ہے جو ابھی تک نہیں چکی ہیں؟ اور خود تحقیقات کرنے والوں کو بھی ان معاملات کی رپورٹ پیش کرنا ہوگی جس سے احتساب کا عمل متاثر ہوسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ منصوبے میں کسی ایسی ذمہ داری کی آگاہی نہیں کی گئی ہے جس سے احتساب کا عمل محفوظ رہے۔
منظور اس کمپلیکس ہے کہ کیوں یہ منصوبہ ہوا، کیا ہم جانتے ہیں کہ ان محکمات میں بھرپور تھٹوں اور غیر معملی ہونے والی صورتحال کس قدر پائیدار ہے؟ یہ کیا پلان تھا کہ اس کے بعد سے وہ محکمات آٹھ رات تک کام کرتیں، نئی ملازمین کو کام پر لگائیں اور ان معاملات کو سافری کرنے کی کوشش کریں؟ یہ تو ایک بڑا ہی منصوبہ ہوگا۔
منصوبے کی ناکامی کا شکرگزار ہوں گی؟ وہ انفرادی امتحانات کے ساتھ ساتھ محکمے کے ذمہ دار عہدیدار کی پیشی سے بھی نکل گئے ہیں، حالانکہ یہاں تک پہنچ جانیے تھے کہ انہوں نے اپنا ذمہ دار افسر بھی نہیں پیش کیا ۔ منصوبے میں کیا اس بات کی کوئی پٹی ہے کہ وہاں تک پہنچ جائیں گے؟ ہمارے محکمے ہر دن نیلامی کا شکار رہتے ہیں، اس کے لیے ہم اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
بہت مشقہ ہوا اس کا یہ منصوبہ ، سرکاری محکمات کو خود تحقیقات کرنے پر مجبور کیا جاسکتا تھا اور نئی رپورٹ کی پेश کرتے ہوئے ان معاملات کو درج کرکے احتساب کا عمل جاری رکھنا چاہیے، لیکن اب وہی دباؤ اس کمیٹی تھری پر ڈالا جاسکتا ہے اور ایسے ہی نئے منصوبوں کو پیش کیا جا سکتا ہے جو احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کرسکتی ہیں ، لہٰذا یہ دیکھنا ہی جاری ہوگا کہ کون سے نئے منصوبے اٹھائے جاتے ہیں اور سرکاری محکمات کو اس میں کچھ بھی حصہ ڈالنا چاہیے #حقیقی_احتساب #سرکاری_نئابی
یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کی یہ واضح رہی ہے کہ ان محکموں میں جو بے ضابطگی اور نیلامی ہر طرف سے دیکھنی پڑ رہی ہے، وہ اسی کی بھی نہیں چکی ہیں۔ یہ سچائی کا مشن صرف اس پر ہی توجہ دیتے ہو جائenge جسے انہوں نے پیش کیا ہے۔ اور وہ بھی صرف ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس کا یہی معیار ان سے بھی کم نہیں اچھا، جب تک وہ خود کو ابھار تھے، تو ان میں بھی محسوس نہیں ہوا کہ انہوں نے جو غلطی کی ہے وہ سچائی کا منصوبہ کیسے روک سکتی ہے۔
یہ منصوبہ کتنے سے بھرپور ہے؟ اگر ان غیر معملی افسوں کو سرکاری محکمے میں انحرافات کرنے والوں کی جانب سے خود تحقیقات کرنا پیسا لگتا ہے تو کیا اس میں احتساب ہو گا؟ اس سے زیادہ ایک واضح منصوبہ بھی پیش نہیں کیا گیا، صرف ایک بار پھر دباؤ ڈال کر لگایا گیا ہے۔ اور یہ بھی بتایا نہیں گی کہ انself investigation کی وہ اسٹینڈرز کیا ہوں گی جو ایسے حالات میں کیسے لگائیں گی جب سرکاری محکمات کو ایک طرف۔