آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں، یہ راز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے نمائندہ عاصم افتخار نے اجاگر کیا ہے۔ انھوں نے سندھ طاس معاہدے کو ایک خطرناک معاملے کی طرح دیکھا ہے جس کی معطلی سے دنیا کے معاہدوں کا نظام کمزور ہو سکتی ہے۔
اس معاہدے کو ایک دوطرفہ معاملہ سمجھتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ یہ عالمی نوعیت کا معاملہ ہے، جس میں کسی ایک طرف کی کامیابی سے دوسری طرف پر اثر ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا ہے کہ اگرPolitics کا یہ معاملہ Politics پر ہی منحصر ہے تو World Trust متاثر ہو جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی ایک خطرناک بات بھی انھوں نے اورتی ہے، اس معاہدے کو ایک ایسے معاملے کی طرح دیکھنا چاہئیے جس میں دنیا کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہو جو کہ کسی ایک طرف پر پورا نہ ہو سکے۔ اس لیے انھوں نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا کو دیکھنے کو چاہیے، جس کی معطلی کے اثرات کے بارے میں کافی اور جانتے ہوں۔
اس معاہدے کو ایک دوطرفہ معاملہ سمجھتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ یہ عالمی نوعیت کا معاملہ ہے، جس میں کسی ایک طرف کی کامیابی سے دوسری طرف پر اثر ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا ہے کہ اگرPolitics کا یہ معاملہ Politics پر ہی منحصر ہے تو World Trust متاثر ہو جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی ایک خطرناک بات بھی انھوں نے اورتی ہے، اس معاہدے کو ایک ایسے معاملے کی طرح دیکھنا چاہئیے جس میں دنیا کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہو جو کہ کسی ایک طرف پر پورا نہ ہو سکے۔ اس لیے انھوں نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا کو دیکھنے کو چاہیے، جس کی معطلی کے اثرات کے بارے میں کافی اور جانتے ہوں۔