آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں:پاکستان

کلامِعشق

Well-known member
آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں، یہ راز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے نمائندہ عاصم افتخار نے اجاگر کیا ہے۔ انھوں نے سندھ طاس معاہدے کو ایک خطرناک معاملے کی طرح دیکھا ہے جس کی معطلی سے دنیا کے معاہدوں کا نظام کمزور ہو سکتی ہے۔

اس معاہدے کو ایک دوطرفہ معاملہ سمجھتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ یہ عالمی نوعیت کا معاملہ ہے، جس میں کسی ایک طرف کی کامیابی سے دوسری طرف پر اثر ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا ہے کہ اگرPolitics کا یہ معاملہ Politics پر ہی منحصر ہے تو World Trust متاثر ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی ایک خطرناک بات بھی انھوں نے اورتی ہے، اس معاہدے کو ایک ایسے معاملے کی طرح دیکھنا چاہئیے جس میں دنیا کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہو جو کہ کسی ایک طرف پر پورا نہ ہو سکے۔ اس لیے انھوں نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا کو دیکھنے کو چاہیے، جس کی معطلی کے اثرات کے بارے میں کافی اور جانتے ہوں۔
 
یہ بات تو واضح ہے کہ پانی کا معاشرہ ابھی بھی ایسا ہے جو آگے بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ معاہدہ جو اب انٹرنیشنل سیکیورٹی کونسل میں اجاگر کیا گیا ہے وہ ایک خطرناک بات ہے۔ اگر یہ معاہدہ محفوظ نہیں تو تو تمام معاہدوں کی محفظت نہیں ہوسکیگی، یہ تو بھارتیوں کے لئے ایک اور دلچسپ معاملہ بن گیا ہے۔
 
ایک بڑا خوف پزیر معاملہ آئا ہے، آبی معاہدے کی سہولت کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ یہ راز تو واضح ہو گیا ہے کہ ایک بھی معاہدے کی سہولت کو محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس کے بعد سے دنیا میں ایسی عالمی نوعیت کا معاملہ سامنے آیا ہے جو سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھی پورا نہیں ہوسکتی ہے۔ اس معاہدے کو politics پر منحصر سمجھتے ہوئے ایک خطرناک بات بھی سامنے اٹھ رہی ہے کہ دنیا کے ساتھ ایسی تعلقات پیدا کیے جائیں جو کہ کسی ایک طرف پر پورا نہ ہو سکے۔
 
🤔 یہ بات کتنی بھی عجیب نہیں کہ جب کسی اچھی گلی پر پاؤٹ لگتی ہے تو دوسری طرف کی سڑک بھی ٹوٹ جاتی ہے۔
 
ایک ایسا معاملہ ہے جو ابھی بھی ہر ایک کو ہوشomeen kar raha hai, اور اس کی حل nahi hoti… سب سے پہلے یہ بات تو کہیں نہ کہیں پہچان لی جائے کہ پاکستان کا اچھا ساتھ کیا ہے، اور اب وہ ہی وہ معاہدے پر غور کرتے ہیں جو دنیا کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں…
 
آپنی بات سے متفق ہوں گے کہ آبی معاہدے کو کمزور سمجھنا بھی خطرناک ہے، لہٰذا اس سے قبل خود کو اس معاہدے کی معطلی کے بارے میں چوڑی طرح جانتا رہنا چاہئیے... 🤔
 
آپ کی بات تو اچھی ہے, انھوں نے سندھ طاس معاہدے کو ایک خطرناک معاملہ کے طور پر دیکھا ہے، یہ تو صحیح ہے۔ لیکن آپ جانتے ہوں کہ دنیا میں معاہدوں کی پالیسیوں کو بھی ایسے مواقع پر تجدید کیا جا سکتا ہے جیسے یہ حال ہے۔ اس لیے، انھوں نے کہا اچھا کہ یہ معاہدہ دنیا کو دیکھنے کو چاہیے۔ اگرچہ سندھ طاس معاہدے کی توجہ دینا ضروری ہے، لیکن اس میں ایک نقطہ نظر بھی ہونا چاہیے کہ یہ کیسے دنیا کو متاثر کر سکتا ہے؟
 
بچے بڑے ہوئے ہیں تو اب یہ راز سامنے آ گیا ہے کہ آبی معاہدہ محفوظ نہیں، وہ تو ایک خطرناک بات ہے لیکن اس سے بھی ایسا کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں بنتا! 😂 یہ راز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے نمائندہ عاصم افتخار نے اٹھایا ہے اور وہ ایسا معاملہ سمجھتے ہیں جو دنیا بھر میں اچھی طرح سے متاثر کر سکتا ہے۔

اس معاہدے کو ایک خطرناک معاملے کی طرح دیکھنا چاہئیے جس میں دنیا کے ساتھ تعلق ہو جو نہیں پورا ہو سکے اور یہ بات سب کو دیکھنے کو چاہیے اس معاہدے کی معطلی کے اثرات کے بارے میں جانتے رہیں۔
 
اب پچاس سال سے ابھی آبائی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، یہ سب راز میں اترا ہے کہ آپکے معاہدوں کی طاقت پینے کے لیے آپ کو ملک کے اندر ایسا چہرہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی طاقت اس وقت تک رہ سکے جو تکمل ہو سکتا ہو، اور پھر اس کے بارے میں تفرقہ نہیں کیا جا سکتا، یہ سب سب کو معلوم ہے کہ پچاس سال سے ابھی کسی معاہدے کی طاقت پانے کے لیے آپ کو ملک کے اندر ایسا چہرہ بنانا پڑتا ہے جو انفرادی طور پر اس وقت تک رہے جب تک کہ اس سے دنیا کی معایات ٹھیک ہو جائیں اور پھر آپکے ملک کو ایسا چہرہ بنانے کی ضرورت نہیں رہتی تو وہی عالمی نوعیت کے معاملے میں فائدہ مند ہو گا، اور پچاس سال سے ابھی کسی کی بات پر ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے.
 
یہ بات بہت سچ ہے کہ آبائی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں ہوسکتا... اس معاہدے کی منصوبہ بندی میں دنیا کے تمام ملکوں کو شامل کرنا چاہیے جس سے اس کے اثرات کونسے ہوں گے وہ سب کچھ ظاہر ہوجائےगا. 🤔

اس معاہدے کو ایک دوطرفہ معاملہ سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے، لیکن اس میں دنیا کے تمام ملکوں کی جانب سے ایک ایسا تعلق بنانا چاہیے جس سے اس کے اثرات کو سمجھنے کے لئے کافی اور جانتے ہوں.

میری رای ہے کہ آبائی معاہدے کی منصوبہ بندی میں پاکستان، بھارت اور بھی دوسرے ایسی ملکوں کو شامل کرنا چاہیے جو اس معاہدے سے متعلق ہوں گے. اور یہ سب کچھ ایک ایسا تعلق بنانا چاہیے جس سے اس معاہدے کی معطلی کے اثرات کو سمجھنے کے لئے کافی اور جانتے ہوں. 💡
 
واپس
Top