پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر کوئی مذاکرات چاہتا ہے تو انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی شرط رکھ دی ہے۔ وہ نے کہا کہ اس سے پہلے وہ اہل خانہ کوBushra Bibi سے ملنا چاہیں گے اور پھر پی ٹی آئی کی پارٹی لیڈر شپ کے ملازمت ہونے والے لوگ بھی اپنے اندر مذاکرات کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ قیدیوں سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اجازت نہیں ملی اور اب مجھے نہیں معلوم ہے کہ واپسی کیسے ہو گی؟
انہوں نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار صرف محمود خان اچکزئی کو دیا ہے۔ اس سے ملک میں ایسے نہیں ہیں جو ان کی طرف سے مذاکرات کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان لوگوں کو مذمت کرنا چاہتے ہیں جو اپنی طرف سے مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کی وہی اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار صرف محمود خان اچکزئی کو دیا ہے۔ اس سے ملک میں ایسے نہیں ہیں جو ان کی طرف سے مذاکرات کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان لوگوں کو مذمت کرنا چاہتے ہیں جو اپنی طرف سے مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کی وہی اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے ہوتے ہیں۔