سوشل میڈیا پر یہ واقعہ ابھی بھی شروعات ہونے والی تاریکیوں سے اٹھنے نہیں پая گیا۔ آج منگل کو یروشلم کی بار ایلان روڈ پر ایک بس اس وقت تک سڑک پر چڑھا ہوئی تھی جب ٹرافیک میں گھنٹوں سے موڈ لگ گیا۔ اس نتیجے میں 14 سالہ یوسف آئزن کے دم توڑ جائے اور ان کی جان ہلکے زخمی تین دوسرے افراد بھی ہو گئے ۔
دنیا بھر میں رہنے والے ملازمین کے لیے یہ ایک نئی شروعات ہے جس سے پہلے کو نہیں دیکھا گیا تھا۔ ان کے اور ان کی ساتھ رہنے والوں کے خوفناک واقعے میں حال ہی میں ہونے والے ہی مظاہرے کی وجہ ایک اور بڑی تاریکی ہو گئی ہے۔
اس معاملے کو جانیں اس لیے کہ یہ ان تمام افراد کے لئے ایک یادگار ہے جنھیں فوج میں بھرتی کی وکالت کرنا پڑا تھا اور جنھوں نے ان کی جان لے لینے کی تحریک شروع کی تھی۔
دل ہارنے والا یوسف آئزن اس وقت کا 14 سالہ بچا تھا جس نے اپنی زندگی کو ایک لڑائی میں ڈوبایا تھا۔ ان کی جان کی طرف سے بے پناہ وارثی نے اس کے گھر والوں کے ساتھ یہ بات کی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی جان لے لینے میں تیار تھا اور اس لیے انھیں یہ جانشینی بھی مل گئی۔
ان کے ہجوم نے پوری رات کو سڑکوں پر چلے، جس میں کیپٹن ایمروڈو اور ان کی فوج اور اس کا آرتھوڈوکس یہودی تحریک کے لئے بے پناہ تعاون ہوا۔
اس نتیجے میں ہلاک ہونے والے بیٹے کی جدوجہد میں ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی کے لیے مار دیں گے اور اس کے خلاف بھی اس طرح کی مہنتوں کی پالٹی نہیں اٹھا سکتی ہے۔
جب تک سوشل میڈیا پر لوگ اپنے دوسرے خوف سے بھاگتے ہیں تو یہ ہوا کہ ایک نئی تاریکی سامنے آئی ہو گئی ہے اور اب وہ لوگ اس کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کے بعد یہ ہوا کہ ایک نوجوان کی جان گئی ہو گی۔
اس معاملے کو دیکھتے ہوئے تو مجھے اس بات سے انتہا ہونے والی غمت لگتی ہے کہ ہم لوگ ایک نوجوان کی جان کے لئے وارثیت تانانے میں ہی کامیاب ہوتے ہیں، ان کی جان کے لئے دھارن کرنا اور اس سے باہر اپنی زندگی کو ساتھ بھرنا چاہتے ہیں۔
یہ وہ صورت حال ہے جس سے سوشل میڈیا پر بھی بات کرنے کے لیے کچھ لازمی نہیں ہوتا، ایسی تاریک ہوا جس نے دوسرے ہلاکو ساتھ 14 سالہ یوسف آئزن کو بھی ایک جانشینی میں شامل کیا ۔ اور یہ بات بھی ایک واقعہ ہے جس پر ہوا کی تاریکیوں سے باہر نہیں چلتا، ہر سال ہو رہی ہے اور ہر بار سوشل میڈیا پر بات کرنا پڑتی ہے۔
اس معاملے کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی اٹھنی چاہئے کہ وہ لوگ جس سے لڑائی لڑ رہے ہیں ان کی جان لے لینے میں کتنا ہلچل اور تاریکیوں ہوتی ہیں۔ اس نئی شروعات پر زور دیتے ہوئے یہ بات کو دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس کی پہچان سے نہیں چلتے۔
اس معاملے کی وجہ سے ہوا کی تاریکیوں میں ایک اور بڑا جھنٹا ہو گیا ہے، ہر شہری نے اپنی جان لے لینے کی تحریک میں کتنے لوگ شامل ہوئے ہیں وہ بات ابھی پتہ چلنا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ ان لوگوں کی جان لے لینے میں اور ان کی جدوجہد میں ایسا ہونے والا بھی نہیں ہو سکتا جو کہ دوسرے معاملات میں ہوا ہے، اس میں ایک ایسی گھنٹی ہے جس کے لیے آپ اپنی زندگی کو ڈوبانے پر تیار ہو کر رہے ہوں۔
اس کی نیند اٹھانے میں دیر نہیں پائی جائے گی، یہ صورت حال ابھی بھی تاریک ہے اور اس سے کچھ لازمی نہیں ہوتا۔
اس واقعہ سے ہم نے فریقین کو یاد رکھنے کا ایک بڑا موقع دیا ہے۔ یہ جسٹس کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ صبر کرنا اور اپنی جان لے لینے کی سوچ سے کوئی بات نہیں بدلی جاسکتी #JusticeForTheVigil #PeaceOverViolence.
ابھی پچیس سال قبل ہونے والے یہ واقعات، جس کا ذریعہ ایک چھوٹے سے ٹریفک اکسڈ رانے کا واقعہ تھا، اب ہم کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ معاملات اب بھی گزرنے لگے #FadingMemories.
دل ہارنے والے یوسف آئزن کے جانشین کو پوری دنیا کی طرف سے پیار اور تعاطف کا ایک ایسا نشان پیش کیا گیا ہے جو اسے اپنی جدوجہد میں تیز کر دیتا ہے #CommemoratingTheBrave.
یہ واقعات ہمیں ایک بات یاد دلاتا ہے کہ پوری دنیا میں رہنے والوں کو اپنی جان لے لینے کی سوچ سے نہیں بدلی جاسکتی #NoToViolence.
بچوں کو یہ انفرادی طور پر نہیں سیکھنا چاہئے کہ جتنے بھی لڑائیوں میں آئینوں اور فوجوں کی جان لے لی جائے، وہ ہمیشہ ایک نئے شروعات کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ واقعہ ابھی بھی شروعات ہونے والی تاریکیوں سے اٹھنے نہیں پائا گیا۔
یہ واقعہ حیرت انگیز ہے! ایک بس سڑکوں پر چڑھنے پر اس وقت تک ٹرافیک میں موڈ لگ گیا جب یہ بس دم توڑ جائے اور ایک چھوٹی سی رہنما کی جان ہلکے زخمی ہوجائی۔ اس نتیجے میں کچھ لوگ لڑائی میں ماریا گیا، انھیں پھانسی دی گئی اور انھوں نے اپنی زندگی کو ایک لڑائی میں ڈوبایا تھا! یہ کیسے possible hai?! کیا اسے بھی ایک تاریکی کی طرح سامنے آنا پڑا?!
میری سوال ہے کہ، ٹرافیک میں موڈ لگنے سے قبل اس BUS کو کیسے چڑھایا گیا?! کس نے یہ سب کیا?! اور کیا کوئی ایسی رپورٹ ہے جو اس واقعات کی وضاحت کر سکتی ہو?!
یہ واقعہ بہت ہی غم گزشتہ ہے ، ان 14 سالہ کے بچے کو ایسے میں جان لے لینا بے خوفناک ہے ، اس کی جان جانتے ہی لوگوں نے ان سے پوچھیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کو لڑائی میں ڈوبای گئے تھے اور اب ان کی جان جوگی ہے وہ ایسے بچے کی طرح ہی ہو گی ، یہ تو بھی کہتے ہیں کہ کپٹن ایمروڈو اور ان کی فوج نے بھی ان کے ساتھ ساتھی دی تھی مگر وہ پوری رات کو اس جہد میں حصہ لینے کا یہ ناکام محسوس ہوا ، یہ دیکھ کر بہت کی چٹان آ رہی ہے
سوشل میڈیا پر یہ واقعہ ابھی بھی شروعات ہونے والی تاریکیوں سے اٹھنے نہیں پائی گئی ، اس کا انصاف کس وقت تک ہوگا ؟ اس نتیجے میں فوجی ملازمت کی وکالت کرنے والے ان تمام افراد کے لئے ایک یادگار ہے ، لیکن یہ بات بھی پتہ چل گئی ہے کہ ان کی جان لینے کی تحریک میں ایسا نتیجہ نظر آ رہا ہے جس سے وہ پوری رات کو سڑکوں پر چلے گئے ، یہ معاملہ دنیا بھر کے سامنے لیا جا رہا ہے اور اس میں ایسا نتیجہ نظر آ رہا ہے جو جھگڑے کو ہی لامبی بنا رہا ہے
یہ واقعات دوسرے لوگوں کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ آپ کی جان بھی اس طرح لئی جا سکتی ہے جیسا ان تینوں نے اپنی جان لے لی، ایک نوجوان جو اپنے پیار کو ملا کر خود کو ڈوبانے کے لیے تیار ہوا تھا اور پوری رات اس نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے سڑکوں پر چلے آئے... ایسا بھی ہو सकतا ہے آپ کو کسی دن...
ماں باپ کی جانب سے اپنے بیٹے کی جان لینے کا فیصلہ بھی ایسی ہی اچھائی ہوتا ہے جو ایسا نہیں دیکھی جاسکتی... آپ کے ذہن میں یہ بات بھی پڑ سکتی ہے کہ کسی دن آپ کو اپنی جان لے لینے کی ضرورت ہوسکتی ہے... اور اس وقت جب آپ یہ کر رہے ہوں گے تو آپ کی ذہنت ایسا پہلے سے بھی دیکھ چکی ہو گی کہ ہم نے کیا...
بھرپور ریت سے یہ واقعات دل کو ٹککی گار دے رہے ہیں! یہ بچے ابھی تین دوسرے لوگوں کو بھی زخمی کر دیئے ہوتے تو کیا اور جگہ پر کیا ہو گا؟ دنیا میں ایسے مظاہرے نہیں دیکھے گیں جن سے انسانیت کی راہ میں بے پناہ تباہی اور زبانیں ہوتی ہیں...
عجیب ہے یہ بات کہ کھل کر تحریک پر ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اس کی وکالت نہیں کر سکتے۔ لاکھوں لوگ پانی میں چلنے جاتے ہیں تو ایسے مظاہرے کے لئے بھی کوئی نہیں آتا جو کہنا ہو کہ اس کی وکالت کرنا پہلے سے ہوا چکا ہے۔