بچوں کی بیماریوں پر دوروزہ قومی کانفرنس ہفتے سے کراچی میں شروع ہوگی | Express News

سارس

Well-known member
کراچی میں بچوں کی بیماریوں پر دوروزہ قومی کانفرنس شुरू ہونے والی ہے۔ ان کانفرنس کے دوران مختلف ماہرین طفیلات اور ان کے امراض سے متعلق تجاویزات پیش کریں گے، جس میں بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن، غذائی قلت، معدے کی بیماریاں، دماغی، پلمونولوجی اور نیورولوجی سمیت متعدی امراض شامل ہیں۔

اس کانفرنس کا مقصد بچوں کی صحت میں اہم چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنا ہے، جس سے ماہرین طفیلات نے اپنے تجاویزات پیش کیں گے۔ آئی ایچ این کی جانب سے ان کانفرنس کا منظم کردار لیا جا رہا ہے۔

اکتوبر کے بعد سے یہ کانفرنس 31 جنوری کو شروع ہوگی جس میں بچوں کی صحت اور ان کے امراض کی روک تھام پر مبنی تجاویزات پیش کی جائیں گی۔

اس کانفرنس سے بچوں کے امراض کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم اور موثر پلیٹ فارم پیش کرنے کا مقصد ہے، جس سے ماہرین طفیلات نے اپنی تجاویات پیش کیں گے۔
 
بچوں کی صحت کو لئے جانے والی یہ کانفرنس کا خیال میں بہت اچھا ہے، مگر ان میڈیا میں پڑتال کرنے والے لوگ اس کی وضاحت نہیں دیتے، یہ جاننا چاہئے کہ ماہرین طفیلات اور ان کے امراض سے متعلق تجاویزات پر ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو بچوں کی صحت کو لئے جانے والے لوگوں کو ان تجاویزوں کا مطلع کر سکے، اور اس کانفرنس سے یہ بھی محسوس ہوا گیا ہے کہ پہلے تک بچوں کی بیماریوں پر توجہ نہیں دی گئی تھی، اب یہ کانفرنس بچوں کی صحت کو لئے جانے والے لوگوں کے لیے ایک اہم سندگہ بن سکتی ہے
 
کسی بات پر تھوڑی سوجھلا ہوا ہے کہ بچوں کی صحت پر اتنا مہم جس میں ان کی بیماریوں کا مقابلہ کرنے والے ماہرین اور ان کے تجاویز کھیل ہوں گے، اس کا آئی ایچ این کے ساتھ منظم کردار لیا جانا تو اکمل طور پر جنت ہے مگر یہ سوال یہ ہے کہ میسج کی کیسے پہل چلیں گئیں?
 
عمرتھوڈی کی پریشانی کیا دیکھیں، اب بچوں کو ہمیشہ سے لڑائے جارہے ہیں... ان کی بیماریاں جو بڑھتی جا رہی ہیں وہ کسی کے ہاتھ نہیں آ سکتیں، یہ معالجین کا ذمہ دار کام ہے کہ ان کی پہچان کر ان کا علاج کر دیں... میرو خیال ہے اس کانفرنس سے ناہیں تو بچوں کی صحت میں سुधار ہوگا وہی اور یہ معالجین کی جانب سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان۔
 
یہ بہت اچھا کارگرویت ہوگی کہ کراچی میں اس کانفرنس کو منظم کیا جائے، نہ تو یہ معاملہ ایک چیلنج بن جاتا ہے، اور نہ ہی یہ سمجھ پہنچتی ہے کہ بچوں کی بیماریوں کو کنٹرول کرنا ایسا آسان ہو گیا ہے کہ ابھی ابھی تو اور بھی نئے امراض پیدا ہوتے چلے آتے ہیں! لاکھوں پر لاکھوں کی پناہ ماں نہ بن سکیں، ان کا یہ وعدہ اچھی طرح سے کیا جائے گا؟
 
ਕراچی میں یہ کانفرنس اچھی news ہے, بچوں کی صحت کے لیے ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے, ان بیچوں کو آپنے ساتھ مرنے نہیں دیں گے, ان کی جانداریت کو بچا رکھیں گے.
 
چھوٹی عمر میں بچوں کو ان بے شمار بیماریوں سے دھاکہ دینا کتنے خطرناک ہوتا ہے؟ ایسے میڈیکل چیلنجز پر بات کرنا ایک اچھا واقف بنانے کا پلیٹ فارم ہوگا تو چلو یہ کانفرنس کیا ہے؟ ایک اور بات یہ ہے کہ 31 جنوری کو اس کانفرنس کا آغاز کیا گیا ہے، مگر میں بتاتا ہوں کہ آکتوبر سے یہ کانفرنس شروعات ہونے والی تھی تو یہ کس وجہ سے نوبت بدلی؟
 
ہیٹنگ بریکز اینڈ ایپڈیٹس پر کام کرنے والوں کی تعداد ہمدردی کا شکار ہے، انھیں یہ جاننا چاہیے کہ بچوں کی بیماریوں سے لڑنا ایک کام ہے اور اس پر جیسے سسٹم بنایا جا رہا ہے، جو انھیں ایسی تجاویزات پیش کرائیں گی جن سے وہ اپنی پالیسیوں میں فرق کرسکیں
 
بچوں کو صحت مند رکھنا اور ان کی بیماریوں پر دور کا پلیٹ فارم ہمارے ملک میں ضروری ہے اس کانفرنس سے نکلنے والی تجاویز سے ماہرین طفیلات کے سامعین کو بھی آگاہ کرنا ہوگا

اس کانفرنس کا منظم کردار آئی ایچ این نے لیا ہے جو اس پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کانفرنس سے نکلنے والی تجاویز بچوں کی صحت کو بھی آگے لے رہیں
 
بچوں کی صحت کا یہ کانفرنس ایک بڑی بات ہوگी, ان کی بیماریوں پر دوروزہ تبادلہ خیال کرنا بہت ضروری ہوگا! غذائی قلت اور معدے کی بیماریاں، دماغی یا پلمونولوجی اور نیورولوجی سمیت متعدی امراض ان کے لیے خطرناک ہیں، لेकین اب یہ کانفرنس بچوں کی صحت کے بارے میں بات کر رہی ہے تاکہ ان کی بھی روک تھام کی گئی ہو! 👶🏼💉
 
واپس
Top