دوسری جانب، ایک بار پھر جس کے بعد ایک عظیم نازشت ہوئی، وِکرانت ٹھاکر نے اپنی اہلیہ سپریا ٹھاکر کی جان کو ختم کرنے کا الزام مسترد کر دیا تھا مگر انھوں نے قتل کا مجرم خود کو نہیں قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک غیر ارادی واقعہ تھا، جس کے ساتھ اس نے جان بوجھ کر جانچ لی۔
انھوں نے عدالت سے کہا، ’’میں قتل کا مجرم نہیں ہوں‘‘ جس کے بعد وہ اپنے حوالے سے ایک غیر ارادی قتل کا اعتراف کر دیا تھا۔ یہ بات بالکل متعصبی ہے اور ناقابلِ انکار ہے کہ جس طرح وہ کہتے ہیں، کیونکہ جسم میں ایسی وجہ ہوتی ہے جو جس میں یہ بات نہیں کہے گا۔
انھوں نے پولیس اور سی پی آر سے بات کی اور اس بات پر یقین کیا کہ وہ اپنی اہلیہ کی جان کو بچا نہیں سکا تھا مگر اپنی جان بچانے کے لیے اسے جان دھونے کا ایک جال بنایا تھا۔ اگر وہ پوری بات سمجھتے تو انھوں نے اپنی اہلیہ کو بچا نہیں سکا تھا، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک غیر ارادی واقعہ تھا۔
اس بات پر انھوں نے یقین کیا کہ جس طرح وہ اپنی جان بچانے کے لیے اس جال کو بنایا تھا، اسی طرح ایک غیر ارادی قتل کی جگہ یہ ہی ہوگی جب تک انھیں یہ بات سمجھنے میں لگے گی کہ وہ اپنی اہلیہ کو بچا نہیں سکا تھا۔
انھوں نے جس راز کو عدالت میں پیش کیا تھا اس پر انھیں یقین تھا کہ وہ اپنی جان کے بدلے اپنی اہلیہ کی جان کا قیمتی قیمت چکا ہوگی، اور وہ اس بات پر بھی یقین کرتے ہیں کہ وہ انھیں نہیں پہنچائے گا جب تک وہ اپنی جان کو لگاتار جان دھونے کے جال میں نہیں پڑتے ہیں۔
انھوں نے عدالت سے کہا، ’’میں قتل کا مجرم نہیں ہوں‘‘ جس کے بعد وہ اپنے حوالے سے ایک غیر ارادی قتل کا اعتراف کر دیا تھا۔ یہ بات بالکل متعصبی ہے اور ناقابلِ انکار ہے کہ جس طرح وہ کہتے ہیں، کیونکہ جسم میں ایسی وجہ ہوتی ہے جو جس میں یہ بات نہیں کہے گا۔
انھوں نے پولیس اور سی پی آر سے بات کی اور اس بات پر یقین کیا کہ وہ اپنی اہلیہ کی جان کو بچا نہیں سکا تھا مگر اپنی جان بچانے کے لیے اسے جان دھونے کا ایک جال بنایا تھا۔ اگر وہ پوری بات سمجھتے تو انھوں نے اپنی اہلیہ کو بچا نہیں سکا تھا، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک غیر ارادی واقعہ تھا۔
اس بات پر انھوں نے یقین کیا کہ جس طرح وہ اپنی جان بچانے کے لیے اس جال کو بنایا تھا، اسی طرح ایک غیر ارادی قتل کی جگہ یہ ہی ہوگی جب تک انھیں یہ بات سمجھنے میں لگے گی کہ وہ اپنی اہلیہ کو بچا نہیں سکا تھا۔
انھوں نے جس راز کو عدالت میں پیش کیا تھا اس پر انھیں یقین تھا کہ وہ اپنی جان کے بدلے اپنی اہلیہ کی جان کا قیمتی قیمت چکا ہوگی، اور وہ اس بات پر بھی یقین کرتے ہیں کہ وہ انھیں نہیں پہنچائے گا جب تک وہ اپنی جان کو لگاتار جان دھونے کے جال میں نہیں پڑتے ہیں۔