بابا وانگا کی موبائل فون سے متعلق حیران کن پیشگوئی

چاٹ محب

Well-known member
دلائل اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ Baba Wanguا نے ان کے دور سے متعلق ایک اہم پیش گوئی کی تھی جو آج حقیقت میں بنتی نظر آرہی ہے جس میں لوگ روزمرہ زندگی میں مدد کے لیے چھوٹے آلات پر انحصار کر رہے ہیں اور یہی چھوٹے Algorithms انسانوں کے ایک دوسرے سے تعلق اور باہمی رابطے کے طریقوں کو بدل دیں گے۔

اس پیش گوئی کے مطابق اب بھی، یہاں تک کہ 10 سال کی عمر میں بھی بچے کمپیوٹر ، ٹیبلٹس اور موبائل فونز سمیت دیگر مختلف ڈیجیٹل آلات استعمال کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے کام کرنے میں تفریح اور دوسروں سے رابطے کی بنیادی ذریعہ ڈیجیٹل آلات بن چکے ہیں۔ اس سے اسکرین ٹائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں لوگ اپنے تعلقات کو کم کررہے ہیں اور دنیا بھر میں افراد کی ذہنی صحت منفی طور پر متاثر ہوتے جاسکتے ہیں۔

اس دہائی سے لے کر اب تک، سمارٹ فون جیسے ڈیجیٹل آلات کی عادت کا ایک سنگین منفی پہلو بھی ہے جس کے نتیجے میں لوگ اپنے کام اور تعلقات کو کم کررہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بچوں کی ذہنی صحت منفی طور پر متاثر ہوتی ہے۔

دلائل بتاتے ہیں کہ 23.80 فیصد بچے سونے سے پہلے سمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں اور اس شرح عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے، جو بچوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسکرین ٹائم میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت بھی اس کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے، جیسا کہ نفسیاتی مسائل جیسے بے چینی اور ڈپریشن کی بیماری سے متعلق کئی تحقیق سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
 
اس دuniya ki zindagi mein technology ka impact bahut bada hai, lekin iski negative side bhi hai. agar hum logo ko screen time reduce karne ke liye ek saamanya koshish karte hain toh phir bhi humara mental health ek aur problem ban gaya hai. ab hum phone ki madad se hi jeevan ko manage karte hain, jissey humein social interactions mein kami ho rahi hai. yeh toh sirf ek kharaab habbit nahi hai lekin yeh bhi ek sara jaadu hai jisse hum apne jeevan ko sakaratmak banane ki koshish kar rahe hain.

aur is baat par ek mushkil cheez hai, agar hum yeh sab dhundhte hain toh hamara future bhi ek aur khatra ban gaya hai. ab hum mobile ki madad se hi jeevan ko manage karte hain, lekin agle din kya hoga?
 
بھائی، یہ سب سے گہرا خوف ہے کہ اب 10 سال کی عمر میں بھی بچے اپنے فون استعمال کر رہے ہیں اور یہی چھوٹے الگोरیدمز ان لوگوں کو بدل رہے ہیں جو دوسروں سے رابطے میں آتے ہیں، ایسا کہ اب لوگ اپنے تعلقات کو کم کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں افراد کی ذہنی صحت منفی طور پر متاثر ہوتے جاسکتے ہیں، یہ سب سے بدترین بات یہ ہے کہ بچوں کو فون استعمال کرنے کی اور اسسکین ٹائم میں اضافے کی وجہ سے نفسیاتی مسائل جیسے بے چینی اور ڈپریشن کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
 
ایساFeels کہ 10 سال کی عمر میں بھی بچے کمپیوٹر اور موبائل فون سمیت دوسری دھول دیجیٹل آلات استعمال کر رہے ہیں، یہ تو بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کا ایک سایہ بھی ہے کہ اب لوگ ایسے اپنے کام اور تعلقات میں مدد لینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یہ ہے وہ پہلو جو کہ زیادہ سے زیادہ لوگ محسوس کرنے میں ناکام رہ گئے تھے جب اب انھوں نے اپنی دھول دیجیٹل زندگی کو ایک مفید وسیلا استعمال کرنا شروع کیا ہے اور اس کا ایسا سایہ بھی ہے کہ یہ ہوا وہ جگہ جب لوگ اپنی ذہنیت کو کم کرنے میں ناکام رہ گئے تھے اب انھوں نے اپنی ذہنیت کو بڑھا رکھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے تعلقات کو بھی یہی طریقہ استعمال کرنا شروع کیا ہے
 
یہ دیکھنا کتنی مہنگا ہے کہ 10 سال کی عمر میں بچے کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں... یہ ایک عجیب بات ہے کہ اب بھی ہمیں سمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی مدد سے ملنے کی پوری ضرورت ہے، لیکن ان چیزوں میں کچھ بات ہوتی ہے جو ہمیں اتنا ہی اچھا محسوس کرائی دیتی ہیں کہ ہم اپنے تعلقات کو کم کر رہے ہیں... یہ تو ایک اچھی بات نہیں ہے۔
 
یہ ایک Dangerous Cycle ہے جس میں لوگ اپنے ذاتی تعلقات کو کم کررہے ہیں اور اس کا نتیجہ ان کی ذہنی صحت میں Negatives Effects Aayein rahen hain. Smartphones ki popularity se pehle bhi humara Brain Healthy tha, ab uska use karke humara Brain Affected ho raha hai.

Lagataar screen time se Humara Body aur Mind Dono Par Negatives Effect Aayenge, toh humein Apne Screen Time ko Control Karna Chahiye, aur apne Family aur Friends ke Sath More Interaction Karaana Chahiye.
 
میری رाय یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے فون کا استعمال کم کرنا چاہئے اور وہیں اپنی صحت کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کریں
 
اس دuniya mein computer, tablets aur mobile phones ki baat karein toh humein lagta hai ki ye sab kuch cheeter ban rahi hain. Log apne zindagi ko screen par hi spend karte hain, aur dusre logon se milna bilkul nahi banta.

Mujhe lagta hai ki ye samasya jo aaj ka samay hai uski solution yehi hai ki hum din mein thoda khana khayein aur raat ko thoda soyein. Screen time kam karna aur apne aap ko discover karna zaroori hai.

Mujhe lagta hai ki logon ko ye dawa dene ki cheeter se nahi judna chahiye, bas usse jud kar ek saadha jeevan banaya ja sakta hai.
 
اس دuniya me bhi kai logon ko lagta hai ki hum computer, tablet aur mobile phone ka istemaal karke apne jeevan ko saaf aur accha bana sakte hain, lekin bas iske khilaf koi soch nahi karte hain. Yeh duniya me kaafi problems prastut karti hai, jaise ki children ki manasik swasthya par bura asar padta hai jab ve apne parents se alag rehte hain aur dusre logon ke sath bhi nahi khelti hain. Is duniya me humein lagaana chahiye ki har cheez ka istemaal karke humein koi bhi faida na milegi, lekin iska khatra bhi hota hai.
 
ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اس دہائی میں ڈیجیٹل آلات سے نکلنے کا وقت حاصل کرنا چاہیے۔ پچھلے دنوں تک کمپیوٹر، ٹیبلٹس اور موبائل فونز سمیت دیگرigital آلات اس قدر مقبول بن گئے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ محنت کرنے کی بجائے ان کا استعمال اپنی زندگی میں دوسری حیثیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت بچوں کو کورس اور تعلیم سے پہلے کمپیوٹر استعمال کرنا سبسک्रائب کرنے کی طرح کے لگتا ہے۔ یہ دوسری زندگی بن گئی ہے جو لوگوں کو اپنی ذہنی صحت سے باہر لے جا رہی ہے۔
 
اس دuniya mein aai dekhna bahut bura hai... 10 saal ki umar mein bhi bachche smartphone aur laptop istemaal kar rahe hain, yeh toh khasiyat hai. Unki zindagi ko digital duniya ke andar sara badal diya gaya hai jahaan social media, games, aur online charchein unki attention ko kho jaati hain.

Uske parinaamon ka matalb yeh hai ki log apne career aur relationships ko kam kar rahe hain. Unka screen time bhi zyada ho raha hai jo unki mental health ko nuksaan pahuncha sakti hai, jaise depression, anxiety aur other psychological issues.

Mujhe laga ki yeh digital age humein kuchh galat faisla karke aaya hai. Humne apni zindagi ko koi limits se bhi nahi rakha, to humara duniya ab ek game ka khel ban gayi hai jahan har koi apna time manage karta hai aur dusre ke sath connect nahi hota.
 
عمر کی بدولت یہ دیکھ رہا ہوں کہ بچے کم سے کم عمر میں ہی ٹیبلٹس اور موبائل فونز استعمال کرنا شروع کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کا تعلقات کو کم کر رہے ہیں... یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ 10 سال کی عمر میں بچے بالکل ایسا ہی ٹیبلٹس اور موبائل فونز استعمال کرتے ہیں جیسا کہ_adults_ ... یہ واضح ہو رہا ہے کہ اس دہائی سے لے کر اب تک بچوں کی ذہنی صحت منفی طور پر متاثر ہوتی جا رہی ہے...

😱💻
 
ایسا لگتا ہے کہ لوگ ایک اچھلے سائنس فائیکس پر یقین کر رہے ہیں... 🤔 چھوٹے آلات کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا جسم اور دماغ کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے، لوگ اس وقت تک ٹیبلٹس اور فونز پر جھوڑی رکھتی ہیںजब وہ کچھ نیند پاتے ہیں... 📱 یہ بہت خطرناک ہوسکتا ہے، انٹرنیٹ پر زیادہ وقت گزارنا کھانے کی طرح ہے اور یہ وہی جسم کا کھانا ہے جو ہاتھ سے پکایا گیا ہے... 🤷‍♂️
 
اس دuniya میں tech ki tezi se guzari hai, aur har din hum apne screen par jata rahe hain. yeh toh sahi hai kahaan? lekin agar wo bhi aapke dil ke liye acha nahi ho toh kaisi cheez ho gayi? ab hum logon ko phone, tablet aur laptop se kafi khudpar rehne ki anumati mil rahi hai. yeh koi bhi tarah se achha nahi hai. yeh humare family ka samay ghabraana laga rakhti hai. aur agar aapko kisi cheez ke baare mein soochta hai to tab bhi aapke hands ki raahat padti hai.

aur kya hoga? ab har duniya mein ek dusre se judne ke liye screens ban gaye hain, jisse hum apne family aur friends se milte samay bina kisi achaanak kaafi samay guzarta rehte hain. yeh toh bhi galat hai. ab hum logon ko phone ki addiction ho rahi hai aur iske natiye mein humare mental health bhi kam ho rahe hain.

yahaan se jata hua ek pehlu hai, jo sabhi ko yaad hai: "duniya ki duri kahan hai?" lekin ab yeh toh galat hai. ab ham phone aur screens ke zariye duniya ka aanand lene ja rahe hain, jo har cheez ko samajhne mein mushkil ban rahi hai.
 
یہ سب عجیب ہے، لوگ اپنے فونوں پر تھک جاتے ہیں اور اس کے بعد بھی اس کی مدد لیتے ہیں، یہ تو ہمیں ڈرامہ دیکھنے میں آئے گا! 10 سال کی عمر میں بھی چھوٹے ٹھنڈک کا علاج کرنے والے آلات استعمال ہونے لگے، یہ تو ہمیں توحید سے گواہی دیتے ہیں!

اسکرین ٹائم میں اضافہ نہ صرف بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہا ہے بلکہ وہی کچھ کامیاب شخصیات جو اس سے ہٹنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں بھی ایسی حالت میں دیکھنا پورے روز مرہ کا کام بن جاتا ہے!
 
ابھی یہی نہیں، کمپیوٹر اور موبائل فونز پر چھوٹے Algorithmز کی عادت نہیں پھیلتی تو بچوں کا تعلقات اور معاشرت سے کیسے منسلک ہوتا؟ اس وقت 10 سال کی عمر میں بھی بچے ٹیبلٹس اور موبائل فونز استعمال کر رہے ہیں، یہ تو دیکھو، دنیا کے نئے جناس اپنے چھوٹے ساتھ ہی خود کو بنانے میں لگت جاتی ہیں۔
 
چھوٹے algorithms میں بدل دہانی کو دیکھتے ہوئے، یہ پتا لگتا ہے کہ لوگ اپنے تعلقات سے دوری کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صحت میں خرابی آ رہی ہے… 😕
 
یہ بات کوئی غلط نہیں دے گی کہ پھر لہور میں ایسے بچے بھی ہیں جو اپنے ماموں کو فون کر رہے ہیں اس سے قبل کہ وہ 5 سال کی عمر میں سونے پہلے ہی فون استعمال کر چکے ہوں۔

اس وقت تھیٹر اور مینز ریزروس نہ رہنے کا اس بات کو بھی کوئی غلط نہیں دے گی کہ لوگ ایسے ہیں جو اپنی فہرست میں سب سے پہلے جگہ پر فون کے ساتھ ساتھ ٹیلی گریمیز اور اسکرین ٹائم کا بھی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ نائٹ_clubز جیسے مقامات پر ایسے لوگ ہیں جن کو اپنے پوری زندگی میں کچھ اور ہو سکتا ہے۔
 
اس دuniya mein jo bhi ho raha hai, sabse zyada time people screen par deta hua hai. Ab tak ke liye, koi bhi baat sunne wala nahi tha, lekin aaj ye reality ban raha hai ki yeh screen time humein bahut hi bura maangta hai.

Bachche jo 10 saal ka ho rahe hain, unke paas mobile aur laptop ki jarurat hai, toh wo kitne si umar tak use karte rahein? Yeh to ek big problem ban gaya hai.

Abhi yeh research karna chahiye ki kya hum iski zaroorat ko kam kar sakte hain ya nahi? Koi solution find karke, humein apni life ko aur bhi suhajana chahiye.
 
واپس
Top