شبنمکیبوند
Well-known member
مضمون: بالک ہٹ اور گرین لینڈ کا کھلونا | ایکسپریس نیوز
ایک دوسرے سے گھٹنے والی دنیا میں جہاں لوگ اپنی سرزمینوں کو ہاتھ میں لیتے ہیں اس دنیا کی چند عجیب باتوں میں ایک بھی ہے جنھیں کہتا ہے "امریکا سے پہلے کی سرزمینوں کو کبھی نہیں بچایا گیا" اور اس دنیا کی ایک نئی سرزمین ہے جو 20 صدی سے اپنا یہ منظر بنائی رہی ہے جس کی سرحدوں کو کبھی نہیں پہنچایا گیا
امریکا کو بلاشبہ ایک نئی دنیا میں لانے والا ایک اور ایک ہوتا ہے جس کی سرزمینوں کو بھی اپنی لالچ کے باعث ہاتھ میں لیا گیا ہے اس دنیا کی سرزمینوں پر کئی صدیوں سے امریکی ادارے نے اپنا دباو بڑھایا ہے اور اب ان کی سرزمینوں کو ایک بھی نہیں رہ جاتا ہے
ایک اور بات یہ ہے کہ دنیا میں ایسے کئی علاقے ہیں جو اپنے سرزمینوں کو بھی پکڑ کر رکھتے ہیں اور انہیں بھی امریکی ادارے نے اپنی لالچ میں اپنے ہاتھ میں لیا ہے
مگر پھر کیا یہ اسے صرف ایک ایسے سندھی میرت کو ہی سمجھتی اہمیت ڈالتی ہے جیسے ڈچ ویسٹ انڈیز کمپنی نے کئی صدیوں قبل مین ہیٹن اور بروکلین کی زمین پر ابادلے قبیلے کو ساٹھ گلڈر کے مساوی مالیت کے زرعی آلات، دھاتی برتن اور کپڑا دے کر اپنی سرزمینوں کو ہاتھ میں لیا تھا
انابتدائی استعمار کی ایسی بھی روایتیں رہی ہیں جس سے عالمی کتنے تباہیوں اور مصائب کو سامنے لاتے ہیں اور ان سب پر یہی منظر آتا ہے کہ "امریکا سے پہلے کی سرزمینوں کو نہیں بچایا گیا" اور اس کی دنیا میں ابھرتی ایک نئی سرزمین اس منظر پر ہے
دنیا میں یہ بات ہے کہ ایک سے زیادہ صدیوں سے امریکا اپنے ادارے کی لالچ کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں کو اپنا ہاتھ میں لیا ہے اور اب انہیں بھی نہیں رہ جاتا ہے اور اس پہلی سرزمین کے بعد دنیا کی ایک نئی سرزمین باضابطہ طور پر اپنے دار الحکومت ویلنگٹن میں منسلک ہوئی ہے
اس دنیا کی ساتھ ساتھ اس کا دار الحکومت ویلنگٹن بھی ابھر رہا ہے جس کے ہیڈ کوارٹر ڈنمارک اور امریکا دونوں ایک ایک کول میں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی پیدائش کے بعد دنیا نے اسے ایک نئی سرزمین قرار دیا ہے
اس طاقت کو بوجھنے والی بات یہ ہے کہ دنیا کس حد تک اس طرح کی استعمار کی روایتیں اپنا کر رہی ہے اور اگر ابھرتی ایک نئی سرزمین کو بھی اسی طرح کی استعمار کی روایات پر چلنا پڑتا ہے تو اس کے بعد دنیا کتنے تباہ ہو جائے گا اور دنیا میں یہ بات کیا جاسکتی ہے کہ "ایسے استعمار کی روایات نہیں رہنی چاہیں"
ایک دوسرے سے گھٹنے والی دنیا میں جہاں لوگ اپنی سرزمینوں کو ہاتھ میں لیتے ہیں اس دنیا کی چند عجیب باتوں میں ایک بھی ہے جنھیں کہتا ہے "امریکا سے پہلے کی سرزمینوں کو کبھی نہیں بچایا گیا" اور اس دنیا کی ایک نئی سرزمین ہے جو 20 صدی سے اپنا یہ منظر بنائی رہی ہے جس کی سرحدوں کو کبھی نہیں پہنچایا گیا
امریکا کو بلاشبہ ایک نئی دنیا میں لانے والا ایک اور ایک ہوتا ہے جس کی سرزمینوں کو بھی اپنی لالچ کے باعث ہاتھ میں لیا گیا ہے اس دنیا کی سرزمینوں پر کئی صدیوں سے امریکی ادارے نے اپنا دباو بڑھایا ہے اور اب ان کی سرزمینوں کو ایک بھی نہیں رہ جاتا ہے
ایک اور بات یہ ہے کہ دنیا میں ایسے کئی علاقے ہیں جو اپنے سرزمینوں کو بھی پکڑ کر رکھتے ہیں اور انہیں بھی امریکی ادارے نے اپنی لالچ میں اپنے ہاتھ میں لیا ہے
مگر پھر کیا یہ اسے صرف ایک ایسے سندھی میرت کو ہی سمجھتی اہمیت ڈالتی ہے جیسے ڈچ ویسٹ انڈیز کمپنی نے کئی صدیوں قبل مین ہیٹن اور بروکلین کی زمین پر ابادلے قبیلے کو ساٹھ گلڈر کے مساوی مالیت کے زرعی آلات، دھاتی برتن اور کپڑا دے کر اپنی سرزمینوں کو ہاتھ میں لیا تھا
انابتدائی استعمار کی ایسی بھی روایتیں رہی ہیں جس سے عالمی کتنے تباہیوں اور مصائب کو سامنے لاتے ہیں اور ان سب پر یہی منظر آتا ہے کہ "امریکا سے پہلے کی سرزمینوں کو نہیں بچایا گیا" اور اس کی دنیا میں ابھرتی ایک نئی سرزمین اس منظر پر ہے
دنیا میں یہ بات ہے کہ ایک سے زیادہ صدیوں سے امریکا اپنے ادارے کی لالچ کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں کو اپنا ہاتھ میں لیا ہے اور اب انہیں بھی نہیں رہ جاتا ہے اور اس پہلی سرزمین کے بعد دنیا کی ایک نئی سرزمین باضابطہ طور پر اپنے دار الحکومت ویلنگٹن میں منسلک ہوئی ہے
اس دنیا کی ساتھ ساتھ اس کا دار الحکومت ویلنگٹن بھی ابھر رہا ہے جس کے ہیڈ کوارٹر ڈنمارک اور امریکا دونوں ایک ایک کول میں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی پیدائش کے بعد دنیا نے اسے ایک نئی سرزمین قرار دیا ہے
اس طاقت کو بوجھنے والی بات یہ ہے کہ دنیا کس حد تک اس طرح کی استعمار کی روایتیں اپنا کر رہی ہے اور اگر ابھرتی ایک نئی سرزمین کو بھی اسی طرح کی استعمار کی روایات پر چلنا پڑتا ہے تو اس کے بعد دنیا کتنے تباہ ہو جائے گا اور دنیا میں یہ بات کیا جاسکتی ہے کہ "ایسے استعمار کی روایات نہیں رہنی چاہیں"