بار بار چالان پر گاڑی نیلام ہوگی - Daily Ausaf

چیل

Well-known member
انٹرنیٹ پر بار بار چالان کرنے والوں کو ناکام بنایا جائے گا
پاکستان کی سرزمین پر ٹریفک کا بدترین دور قائم ہونے لگا ہے، اچھی سے بے عمدانہ سفر کو روکنے کے لیے وزیر اعظم مریم نواز شریف نے ایک اجلاس کے ذریعے چاروں طرف سے ٹریفک کے نظام میں تبدیلیاں کئی ہیں۔

وزیراعظم کے ذریعے اجلاس میں انہوں نے تمام سرکاری گاڑیوں کو چلانے پر پابندی عائد کرنے کی announcements دی ہیں، جو اس وقت سے ناکام ہونے لگے گی۔

علاوہ ازیں ایسا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ انڈر ایج رائیڈنگ پر گاڑی کے مالک کو آٹھ ماہ تک قید کرایا جائے گا اور اس صورت میں مریض افراد کی اہل خانہ کو فوری طور پر مالی مدد دی جائے گی۔

اناجلاس کے بعد وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹریفک بہتر کرنا پورا مقصد ہے، خلاف ورزی پر اچھی قیمتی سے جرمانہ دیا جائے گا، اس طرح ایسا نہ ہونے دے کہ ٹریفک کی رٹ کمزور ہو جائے اور آخری چانس نہ ملے، وہیں یقیناً نئی سرکاری ایجنسی قائم کی جائیگی گے جو ٹریفک کے معاملات پر کام کرے گی۔
 
ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم مریم نواز شریف نے ٹریفک کے معاملات پر ایک اچھی گٹھ پتہ کی ہے، انہوں نے ٹریفک کے نظام میں تبدیلیاں کئی ہیں جو آگے بڑھنے لگے گی!

اب آٹھ ماہ تک قید کرایا جائے گا تو اس سے وہ لوگ سمجھ جائیںगے کہ اگر انہیں ٹریفک کی رٹ نہیں دی گئی تو وہ کیسے سرفراز ہوں گے؟ اور مریض افراد کی اہل خانہ کو فوری طور پر مالی مدد دی جائے گی تو اس سے تمام انہیں یقیناً خوش رہنے دوں گے!

اس کے بعد وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ٹریفک کو بہتر کرنا پورا مقصد ہے اور خلاف ورزی پر جرمانہ دیا جائے گا، یہ تو ایک اچھی باتیں ہیں!

اس کے ساتھ ساتھ نئی سرکاری ایجنسی قائم کی جائیگی جو ٹریفک کے معاملات پر کام کرے گی تو یقیناً پوری ٹریفک بہتر ہو جائے گی!
 
اناجلاس سے پہلے میرا خیال تھا کہ یہ فیصلہ بہت اچھی بات ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی سرزمین پر ٹریفک کمزور ہوتی رہے گی تو اس کا مطلب بہت سارے لوگوں کے لیے اچھی بات ہوگی، وہ جو سفر کرتے ہیں ان کو ناکام بنایا جائے گا تو یہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہوگا، ٹریفک کی سڑکوں پر غلبہ ہونے سے بچنے کے لیے اس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، اچھی سے ناکام بنانے کو روکنے کے لیے اب وزیراعظم نے چاروں طرف سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایک بھلائی ہے، ٹریفک کی بدترین دور قائم ہونے لگے گا تو پاکستان کی سرزمین پر اس کے نتیجے میں بہت سارے مریض افراد پیدا ہوں گے، یہ ایک بے حوالہ صورتحال ہوگا، اب جب وزیر اعظم نے announcements دی ہیں کہ تمام سرکاری گاڑیوں کو چلانے پر پابندی عائد کی گئی ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے، اس میں تبدیلیاں کرنے سے کامیابی حاصل کرنی پوری امید ہوگی.
 
[انٹرنیٹ پر بار بار چالان کرنے والوں کو ناکام بنایا جائے گا ] 👍🚗💨

میری خواہش ہے کہ وہ ٹریفک نظام جو قائم ہوتا ہے، ایسا ہی رہے جو چل سکتا ہے! 🤣
 
انجلاس ہوا تو ڈرامہ ہوا ہی نا ڈرامہ؟ وزیر اعظم کا یہ فیصلہ ٹریفک کے نظام میں تبدیلی لانا بھی ہوگا اور اناجلاس سے یہ پتا چلا ہوا ہے کہ پاکستان میں ناکامان کو ایک جگہ پر ڈب ہونا پئے گا؟ اناجلاس میں انہوں نے تمام سرکاری گاڑیوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور ایسی ہی طرح کے پابند بننے والے لوگ بھی ٹریفک میں اضافے سے پتہ نہیں چلے گا؟
 
یہ بھی ایسا ہی تھا جب میں نے پہلی بار کچھ کرنے کی کوشش کی تھی، اب وزیر اعظم کو اس کی وجہ سے چاروں طرف سے اگہٹا ہوا ہے!

ٹریفک کے نظام میں تبدیلیاں کرنے کی یہ کوشش بالکل واضح نہیں ہو رہی ہے، پھر بھی انھوں نے چاروں طرف سے اگہٹا ہوا ہے اور اب ٹریفک کے بدترین دور کی طرف بڑھ رہی ہے!

جب میں بھی کوئی بات نہ کرنے لگتا تھا تو اب وہ کیا کر رہے ہیں! یہ گمراہی ٹریفک کے نظام میں کسی بھی تبدیلی کی پوری کامیابی کو روک دیتی ہے، اور اب انھوں نے ایسا ہی کیا ہے!

اسٹریٹجی کے بغیر سستے راتوں میں اپنی چار چکر کی گہری غور و فکر کرنا، یہی تو نہیں بلکہ ایسا کھل کر آنے پر چھپنا بھی!

اب جب وزیر اعظم نے announcements دی ہیں کہ تمام سرکاری گاڑیوں کو چلانے پر پابندی عائد کرنی ہے تو میں سچ منجھ کر رہا ہوں، اس بات کو پورا لگتا ہے کہ یہ پابندی بھی اس کے لیے ایک اسی طرح کی گمراہی ہے!

انڈر ایج رائیڈنگ پر قید کرایا جائے گا؟ آٹھ ماہ تک؟ اور جب یہ فیصلہ بھی ہو جاتا ہے تو وہی بات ہے!

ماضی کی یاد آ رہی ہے، چلنا تو مشکل تھا، لیکن ٹریفک کے بدترین دور میں جانا نہیں بہت اچھا Idea ہوگا!

اس طرح ایسا کرنے سے نہیں، آئی ایس آٹو رائیڈنگ کی سیکرٹی کا ایک نئا سرور قائم کیا جائے گا؟ یہ تو بھی ایک اسی طرح کی گمراہی ہے!
 
یہ تو بہت اچھا decision ہے مگر اچھے سے بے عمدانہ سفر روکنے کے لیے انڈر ایج رائیڈنگ پر پابندی لگائے جائیگی تو یہ تو ٹریفک سے نجات ملے گی، لیکن قید کرایا جائے گا؟ آٹھ ماہ تک کسی شخص کو جیل میں رکھنا تو بے معانی ہے، اس طرح اچھی قیمتی سے جرمانہ دیا جائے گا تو یہ صرف ٹریفک کے خلاف ایک صاف message دے گا نہیں کہ لوگ اچھا سفر کریں، اور ایسا کرنے والوں کو کیسے پکڑا جائے گا؟
 
بھٹو چل رہے ہیں اور سڑکوں پر پچر تھم ہو گیا ہے! اس وقت کو بھگنے کے لیے وزیر اعظم نے ایک نئی قیمتی سرگرمی کی اگاہی دیکھی ہے اور ٹریفک کے نظام میں تبدیلیاں لائے ہیں، مگر اچھی طرح سے بے عمدانہ سفر روکنے کی یہ رہنمائی بھی کہی گئی ہے? ناکام بنایا جائے گا!

علاوہ ازیں انڈر ایج رائیڈنگ پر چلنے والوں کو آٹھ ماہ تک قید کرنا اور مریض افراد کی اہل خانہ کو فوری طور پر مالی مدد دینا بھی کیا گیا ہے، اس طرح یقیناً ٹریفک کو روکنے میں کچھ کامیابی ہو سکتی ہے! لیکن پچر تھم ہونے والا وہی بھی رہتا ہے؟
 
ٹریفک کے نظام میں تبدیلیاں ہونے سے ناکام بننا ایسا نظر آتا ہے جیسا کہ اس کے لیے ایک بہتر منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اس میں پابندیوں کی تعینات اور آٹھ ماہ تک قید کرنے والی سزائے کے ذریعے لوگوں کو ایسی جگہ پر پہچانا جائیے گا جو انہیں فوری طور پر اس بات کی یقین دिलائے گی کہ ٹریفک کے نظام میں تبدیلی ہو رہی ہے اور سارے لوگ اس کو مقبول بنانے کی کوشش کریں گے 🚗
 
اس فیصلے سے بعد میں بھی پچلے دنوں میں نہیں آئیں گا یہ، انہیں تین ماہ کے لیے کمزور اور غیر کارwandہ ہونے دیتے ہیں تو انہوں نے چار ماہ کی عذرت دی جو واضح طور پر نہیں تھی، اب وہ پابندییں لگا رہے ہیں اور کچھ دنوں میں ان کی پائیداریت کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی، یہ تو ایک نئی جانب سے آنا چاہتے تھے لیکن وہ انہوں نے اپنی لائسنس کی پابندی عائد کرنے میں کچھ ہی دن بھر کے اور انہوں نے کوئی یقینی بات نہیں کی، اب تو یہ انہوں نے وہی چاہا ہوتا تھا جو انہوں نے اپنے فاسلے کے دوران کہا تھا
 
بھی بھاتا ہے انٹرنیٹ پر لوگ ایسے چلن لگتے ہیں جیسے وہ ٹریفک سول نہیں ہے. اب وزیراعظم نے ہدایت کئی ہے کہ تمام سرکاری گاڑیاں چلنے پر پابندی ہو جائے گی, یقیناً ایسا ہونا چاہئے. انڈر ایج رائیڈنگ پر بھی قید اور مالی مدد دی گئی ہے، یہ سب کچھ ٹریفک کو کمزور نہ کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں. اب پہلی بار ایسا فیصلہ ہوا ہے جو شायद ٹریفک کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا.
 
ایسے میں ڈرپھٹس کو چیلنج بنایا جائے گا، پھر بھی یہ ایک اچھی بات ہے کہ وزیراعظم نے ٹریفک پر توجہ دی ہے اور اناجلاس کے بعد نئی سرکاری ایجنسی قائم کرنے کا فैसलہ بھی بہت اچھا ہے، اس سے ٹریفک کی صورت حال میں کمی آئے گا اور اس پر توجہ دی جائے گی
 
یہ رہا ایسا ایجنڈا جو وزیر اعظم نے تیار کیا ہے، لیکن یہاں سے ایک سوال آتا ہے کہ اسے کیسے عمل میں لायا جائے گا؟ اناجلاس کے بعد کوئی نہ کوئی چیلنجز آتے رہیں گی، جیسے کہ ہر گاڑی کی پابندی پر پوری دھمکی اور انڈر ایج رائیڈنگ کے لیے قید کی سزا دوسری جانوں کو اتنا بھارپور نہیں لگی، یہ سب ہی معاملہ ہے کہ کس طرح یہ پابندیاں اور جرمانے کام پر چلائیں گی؟
 
اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ چلنے والوں کو اپنی بے عمدانہ سوچ سے کچھ سکوا کیا جائے، کہیں تک یہ ناکام ہونا ایک اچھا شروعث ہے۔

ٹریفک کی دھمکیوں میں اناجلاس کے بعد اور پابندیاں لگنے سے قبل ان لوگوں کو سوچ کر کہا جاتا تھا کہ وہ ٹریفک کی دھمکیوں میں اپنی جان کھیل رہے ہیں۔ اُس کی خواہش سے اس ناکامی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اب ان کے بچوں کو پیداواری گاڑیاں چلانے پر پابندی لگا دی جائے گی، حالانکہ وہ ایسے وقت میں اپنے بچوں کو اس کا تجربہ دینے کی خواہش رکھتے ہیں جب انہیں پیداواری جگہ پر اُس کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

یقیناً یہ ایک نئی چیلنج ہے، لیکن اس کی وصولی کو سمجھنے میں ہمیں اچھائی محسوس ہوگی۔
 
پاکستان میں ٹریفک بہت چھوٹی سی بات ہے، مگر وہاں کی جگہ پر گاڑی کھڑی کرنا ایسی بات ہے جو پوری ترقی کو روک دیتی ہے 🚗😬 اچھی طرح سے ناکام ہونے لگنے والوں کو پابندی عائد کرنا بہت अचھا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی آٹھ ماہ تک قید کی صورت میں یہ ناکام ہونے لگنے والوں کو کوئی فائڈ نہیں ہوسکتی 🚫😡 جب ٹریفک کا بدترین دور قائم ہونے لگے تو پوری ترقی پھنس جائے گی، مگر وزیراعظم کی ایسی فیلڈ ورکس بھی اچھی نظر اٹھ رہی ہے جو ناکام ہونے لگنے والوں کو دوسری ترقی کی پلیٹ فارم بنائے گی 💡🚀
 
تھنڈا ہو کہ وزیراعظم کی اہم announcements ko dekھ کر کچھ لوگ چالان کی لائیں گے, پھر کیا ہوا گا, ہمیں یہاں تک کہیں نہ جائے کہ ٹریفک بہتر ہوگئی ہے یا نہیں
 
اس وقت سے پاکستان میں ٹریفک بڑھتی جا رہی ہے، یہاں تک کہ پچیس کی گئی ایک منٹ میں اور ایسے ہی تین گز کرنے میں سات گنجہ ٹریفک کے باوجود نہیں رہتا، مگر واضح رہے کہ وزیراعظم کی یہ اناجلاس پاکستان کو ایک بہتر ترفیک کا شکار نہیں بنائے گا، مگر اس سے پوچھنا پڑے گا کہ انہوں نے کیسے یہ فیصلہ کیا؟ اور یہ بھی کہ وہاں کوئی ہدایت خطریات پر زور دیا تو نہیں، ابھی جس بات ہوا تو پہلی نے ٹریفک کی بد ترین آگے بڑھانے کا اہتمام کیا، اس سے پوچھنا پڑے گا کہ یہ وہی ہدایت تھی جو جس نے پہلے ہوئی اور ابھی اس پر زور دیا گیا، مگر انہوں نے اس سے بھی پہلے کیا نہیں؟ ~
 
ٹریفک کی صورت نہیں بدلی، صرف چالان واروں کو بھگڑا دیا جا رہا ہے! Minister Maimoona Tufail ko kuch loghia sa hai, to bhi uske ajlaas me hum sab tak pesh ab nahi. Yeh to sirf ek aur baat hai jo bilkul to sahi hai, yeh pata lagta hai ki agar hum aaj sirf traffic ke saath pehle se hi taal waro zyada karte the toh toh ye sab galat ho gaya!
 
ٹریفک سے بھاگنے والوں کو کچھ بھی سمجھنا نہیں پڑتا، ان کی بے عمدانہیں تو دیکھ لیے ہی پئی ہے۔ میری بات یہ ہے کہ اگر وزیراعظم نے ایک اجلاس کے ذریعے چاروں طرف سے ٹریفک کے نظام میڰ تبدیلیاں کئی ہیں تو یقیناً وہی اچھی ہونگی، لیکن ان announcements کے بعد بھی چالان کرنے والوں کو مٹائی نہیں کی جا سکتی۔ میرے خیال میں ٹریفک سے نجات کے لیے ہمہ جات کا اہل بننا ہو گا، ہر ایک کو اپنی جانب سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 🚗
 
سورکشا ہونے لگے ہیں، یہ بھی چل رہے ہیں، پھر اور فिर سے ٹریفک کے سامنے گزرنا پڑتا ہے... اس نئے اجلاس کا ماحول ہزاروں کے لیے ایک نئی ہمت کی بہت ہے، اور وزیر اعظم کی یہ بات بھی لائے جانے والے سے محفوظ ہے کہ انہوں نے ٹریفک کے معاملات پر فوری کارروائی کی ہے، لیکن پچیس کے دوسرے سال وہی سواہی میں ہوتی رہی...
 
واپس
Top