Basant celebrations have become expensive, one-way tickets from Karachi to Lahore have exceeded 68,000. | Express News

سبز پسند

Well-known member
کراچی سے لاہور جانے والے مسافروں کا رخ ایک مشکل سفر پر ہو گیا ہے جس میں مہنگا ٹکٹ، نایاب نشست اور ٹریلیڈل تیز گتی بھی شامل ہوئی ہے۔ بسنت کی آمد کے ساتھ اس سفر پر مسافروں کو شدید دباؤ، پریشانیوں اور مہنگا سفر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انقلاب پسند شہر و نہیوں کی اس صورتحال نے مسافروں کو ایک مشکل موسم میں اپنی جگہ کھو کر دباؤ میں پڑا ہوا ہے اور انہیں ایک مہنگے سفر پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انقلاب پسند شہر و نہیوں کی جانب سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مہنگائی یقینی طور پر ایئرلائنز اور ریلوے نے شروع کی ہے جس میں مسافروں کو ایک مہنگے سفر پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

مسافر کا مشاہدات یہ ہے کہ ناقص نشستوں اور مہنگائی کی وجہ سے مسافروں کو ایک مشکل سفر پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال کے خلاف انقلاب پسند شہر و نہیوں نے اپنا مطالبہ کیا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں اور مہنگے ٹکٹ فروخت کرنے والی ائیرلائنز کے خلاف کارروائی کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
 
اس صورتحال پر ایسا لگ رہا ہے جو سب کے لیے مشکل اور مہنگا سفر کا باعث بن گیا ہے، میرے خیال میں یہ ایئرلائنز کے بوجھ پر نہیں بلکہ مسافروں کی تعداد اور یہاں کی ترقی پر ہو رہا ہے، اس لیے عوام کو ریلیف ملنے کے لئے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں سے ایک اچھی پالیسی تیار کرنی چاہیے، اس کے علاوہ مسافروں کو اپنے سفر کے بارے میں معلومات دی جانی چاہیے تاکہ وہ بہتر نिर्णय لیں اور مہنگائی سے قimat ہو کر اس سفر پر کامیاب رہ سکیں۔
 
یہ سفر اب ایک مشکل سفر بن گیا ہے جس میں ساتھ نال لگ رہا ہے مہنگائی، پریشانیوں اور ٹریلیڈل تیز گتی… انقلاب پسند شہر و نہیوں کو اتنا دباؤ میں پایا جا رہا ہے کہ مہنگا سفر سے بھی انکار نہیں ہوسکے گا… ہر جگہ یہی دیکھنا پڑ رہا ہے اور انہیں یہی پتّا چalta ہے کہ مہنگائی ایئرلائنز اور ریلوے نے شروع کر دی ہے… اس صورتحال سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے یہ بات دیکھنے کو میں نے کچھ مشاہدات کی ہیں، مسافروں کے لئے ایک مناسب منصوبہ بنانا پڑے گا تاکہ انہیں یہ دباؤ میں نہ پایا جاسکے… 🚨
 
اس وقت کیا ہوا ہے یہ بھی بتایا نہیں دے رہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے کون سی کمی اور مہنگی ٹکٹوں کی لاکھ پتی کی وجہ سے مسافروں کو ایسا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے? اور انقلاب پسند شہر و نہیوں کے مطالبے کا جواب کیسے دیا جائے گا؟ اس صورتحال سے باہر بھی کچھ سمجھنا پڑے گا کہ عوام کی مصروفیت اور زندگی کے ان ريلز کا خیال کیا گیا ہے جو مسافروں کے لیے ایسا بھی نہیں دیکھا جاتا تھا۔
 
بھلا یہ سفر ایک گم دھلے سفر ہو گیا ہے! مہنگا ٹکٹ، نایاب نشست، تیز گتی... یہ سب کچھ مسافروں کو مشکل سفر پر پھنسا ہوا ہے। اور پتہ چلتا ہے کہ انہیں ایک مہنگے سفر پر مجبور کر رہے ہیں! 🤕

جس پہلے مسافروں کو صرف سفر کی اہمیت سے یقین تھا، اب وہ یہ جاننا پڑ رہا ہے کہ سفر میں بھی ان کا ایک دوسرا شکار ہو گیا ہے! یہ کہلایا جاتا ہے کہ مسافروں کو صرف سفر کی ضرورت کے لیے ہی ٹکٹ بکھیرنا چاہئیے، لیکن اب وہ ایسا نہیں کر سکتے ہیں! 😩

اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو کارروائی کرنی چاہئیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے! اس طرح یہ سفر ایک نازک مرض سے زیادہ بنتا ہوا دباؤ میں کچھ بھی نہیں ہوا دیتا ہے! 💪
 
میں سمجھتا ہوں کہ انقلاب پسند شہر و نہیوں کی طرف سے دی گئی جھٹلے بیان پر توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات پتہ چلتے ہیں کہ ایک مہنگا سفر ہو گیا ہے اور یہ صرف ایئرلائنز اور ریلوے کی ناکام پالیسی پر منحصر ہے۔ اس کو چھوڑیں کہ انقلاب پسند شہروں کا مطالبہ تو صحت مند ہے لیکن یہ بات یقینی طور پر سچ ہے کہ مسافروں کو ایک مہنگے سفر کا سامنا کرنے پڑ رہا ہے؟ نہیں تو انہیں اس صورتحال میں اپنی جگہ کھو کر دباؤ میں ہوتا رہا ہے!
 
بہت جانتا ہوں کہ کچھ مسافروں نے گارڈن سٹریٹس پر اپنی رائے دیی ہوں گی، پھر بھی اچھا یہ ہو گا کہ لوگ آؤٹنگ کو اپنے سفر میں ایک چیلنج بنائیں، نہیں تو یہ سفر اور رکاوٹس دونوں ایک ساتھ ملا کر ڈرامہ بن گئے ہوں گی۔
 
اس صورتحال میں اسکے ساتھ ہی نہ صرف مسافروں کی مہنگائی کا مسئلہ پڑ رہا ہے بلکہ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ مسافروں کو ٹریلیڈل تیز گتی پر سفر کرنا پڑ رہا ہے جو ان کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے. اس صورتحال سے مچھلوں کو بھی خوف اور تکلیف ہوئی ہے کیونکہ انہیں بھی ٹرافیک میں اضافہ ہوا ہے جس سے ان کا معاشرہ پورا محور ہو رہا ہے.
 
اس صورتحال سے نکلنا مشکل ہو گا، یہ دیکھنا کہ کئی سال سے مسافروں پر مہنگائی کی تیز رفتار جاری ہوئی ہے، اور اب بھی کچھ کیا جا سکتا ہے؟ سب کو ایک ایسا سفر کرنا پڑ رہا ہے جو ان کے لئے گرانٹ کھیل جیسا ہو رہا ہے، اور کچھ لوگ اس میں بھی تنگ آ کر چلے جا رہے ہیں…
 
🤯 یہ صورتحال بہت جھیل ہوئی ہے، ٹکٹ میں اضافہ تو ایک طرف اور وہاں تک نایاب نشستوں کی کمی، سہولت کا خاتمہ اور اسفار کے دوران تیز گتی میں اضافہ ہوا ہے، ایسے میں مسافر کو ایک بھری موسم میں اپنی جگہ کھو کر دباؤ میں پڑنا پڑا ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے یہ رہی ہے کہ مسافروں کو بڑا چیلنج محسوس کرنا پڑ رہا ہے، ایک طرف مہنگا ٹکٹ اور دوسری جانب نایاب نشستوں کی کمی، اس کے ساتھ ہی اسفار کے دوران تیز گتی میں اضافہ کرنا بھی ہوا ہے جو مسافر کو بہت دباؤ میں پڑا رہا ہے۔
 
تھرڈ ایج برطانیہ سے کچنٹو کی طرف گئے لوگ ان کا سفر اور واپس آنے والی یاتری جہازوں کے سفر میں ہونے والے بدلاؤ پر توجہ دیتے ہیں تو انھیں یہ بات نہیں پتی کی ایسا سفر کو کتنے دن تک جاری رکھنے دیں گے؟ اس کے ساتھ ساتھ انھیں ٹکٹ کے علاوہ اس سے متعلق ہر چیز کی بھی کوشش کرنی پڑے گی۔
 
یہ ایسا سفر تو ہونا پڑا tha, جس سے ہم تمام مسافروں کو ڈر کی جھلک لگا۔ اچھے ٹکٹ کھانے پر بھی نہ رہا, ہن سے پہلے تو بس میں نایاب نشستوں کا بھی بوجھ لگا تھا اور اب وہ ٹریلیڈل تیز گتی سے جانے پر مسافروں کو مہنگا سفر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہاں تک کہ انقلاب پسند شہر و نہیوں کی یہ صورتحال اس لیے ہوئی ہے کہ ایئرلائنز اور ریلوے میں بھی مہنگائی کا بوجھ لگ گیا تھا۔ اب وہی نہیں بلکہ مسافروں کو ایسا سفر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو انہیں پورے سفر کے بعد بھی نئی جگہ تلاش کرتے دیکھنا پڑتا۔

کیا اسے یہ سمجھنے میں مشکل ہو گیا کہ مسافروں کی بھرپور سروس کیسے دے رہی ہیں؟ ایسے سے کیا کروائیں گے جس سے وہ سب کو ڈر میں پڑا ہو کر اپنی جگہ تلاش کرتے دیکھنا پڑتا ہو؟
 
عوام کو یہ بھی کوشش کرنا چاہیے کہ اس صورتحال سے نجات پانے کے لیے ایئرلائنز اور ریلوے کی طرف سے بھی کسی قسم کا اقدامہ ہونا چاہیے۔ مگر یہ بات تازہ ترین ڈیٹا پر مبنی نہیں ہے۔ 🤔
 
بہت بہتproblem ہے کروا کراچی اور لاہور میں سفر کرنا اور یہ سوال ہے کہ لوگ اس سفر کے لئے کس لئے چل رہے ہیں؟ وہاں کی حکومت نے خود مہنگائی کو بڑھا دیا ہے اور اب لوگوں کو اس سفر پر مجبور کررہی ہے اور ان کے لیے یہ ایک بڑی چیلنج بن گیا ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے عوام کو مہنگا سفر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں اپنے حقوق کے لئے لڑنا پڑ رہا ہے۔ اس سے عوام کو ایک مشکل موسم میں دباؤ اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں اپنے سفر کے لیے بھی اپنی جان بچانے کی ضرورت ہے۔
 
ابھی بیکار اچاں ریلوے ایکسپریس کی چوٹ پر مسافروں کا سامنا کر رہے ہیں اور اب پہلے کیا تھا؟ یہ وہ سفر ہے جس کا کوئی بھی معیار نہیں، مہنگا ٹکٹ، نایاب نشست، اور تیز گتی پر چلنا ہوتا ہے جو کہ ایسے سفر کے لیے کچھ بھی معقول نہیں ہوتا ہے۔

تجربات سے بتاتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک مہنگے سفر پر مسافروں کو مجبور کر رہا ہے اور یہ بھی بات کی نہیں کہ اس سفر میں سہولت کہیں بھی نہ مل سکتی ہے، ناقص نشستوں کی وجہ سے مسافروں کو تھکاوٹ بھی پہنچ رہی ہے۔

یہ یقینی طور پر ایئرلائنز اور ریلوے کے ذریعے شروع کی گئی مہنگائی ہے، جس سے عوام کو تھकاوٹ اور مہنگا سفر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اب سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری نوٹس لی جائیں اور مہنگے ٹکٹ فروخت کرنے والی ائیرلائنز کے خلاف کارروائی کی جا سکے تو صرف ایسی نئی صورتحال ظاہر ہو سکتی ہے جو کہ مسافروں کو ریلیف مل سکے۔
 
ارے یہ تو ایک بڑا ماحولیاتی نقصان ہو گا، سب لوگ پیسے کھینچنے والی ٹیکسٹائل کمپنیوں کی مارکیٹنگ میں لپیٹ جائیں گی تو؟ وہاں تک نہیں اب ہر چیچیں ملازمتیں اور ایئرپورٹز کو بھی بند کر دیں گی تو بہتر!
 
عزیز! یہ سفر میں مسافروں کو بہت دبا رہا ہے، مہنگائی نے تمام رکاب کو اٹھایا ہے اور اب کچھ بھی مہنگا لگتا ہے جیسا ہو سکتا تھا۔ بسنت کی آمد سے شہر نہیں ہوتا تو یہ سفر ہمیشہ ایسا ہی رہتا، لگتا تھا مچھلی کے موٹھوں میں بھار سے پکڑ لیا گیا ہے۔

یہ بہت گہرا جلاع کا وقت ہے، اس سفر پر لوگ ایسے سفر کرنے کے لئے اپنی پریشانیوں کو اٹھانے کے لئے کیسے بن سکتے ہیں؟
 
واپس
Top