بلوچستان میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کا پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

حقیقت پسند

Well-known member
امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے صحت manzil ہالنے کے بعد بلوچستان میں دہشتگرد حملوں پر گہرا غصہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے جو سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر دباو پڑا تھا۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو امریکا کی جانب سے نامزد کردہ ایک غیر ملکی دہشتگرد تنظیم ہے۔

نٹالی بیکر نے دھارمک رہو ہاتھیں لگائے اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر گہرا غصہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا دہشت گردی کے متاثرین، ان کے خاندانوں اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔

اس وقت پاکستانی عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنا چاہئیں تاکہ وہ تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزاریں۔
 
بہت غصے ہو گیا ہے اس دھارمک رہو کے بعد ۔ میرا یہ خیال ہے کہ دہشت گردی کی پھر سے بڑی وادھا تو نہیں آئے گی بلکہ اس پر ایک اور منظر نامہ چڑھ گیا ہو گا جس سے ان لوگوں کے حق میں لڑائی لڑنی پہلی باری ہوگی۔
 
امریکی ناظم ٹالٹی بیکر کی بات پر نظر ڈالیں تو ان کا غصہ اس لئے ہوا کیا کہ دہشت گردانہ حملوں نے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر بھی تباہی کی ہے؟ بلوچستان میں امریکی جانب سے نامزد کردہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ذمہ وار حملوں کی طرف اشارہ کرنا تو بے معافی ہیں 🙅‍♂️। امریکا نے دھارمک رہو ہاتھیں لگائے اور اس لیے انہوں نے بھی گہرا غصہ ظاہر کیا ہے، لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکا کیسے دھمکی دیتا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کی سلامتی کو برقرار رکھ سکے؟ #امریکی_دھمکی #دہشتگردی_کے_خلاف
 
یہ تو ایک بڑا غم کا موقع ہے کہ ہمیں ان دہشت گردوں کو روکنے کی پوری صلاحیت کے ساتھ لڑنا چاہئیں تاکہ وہ ایسے لوگوں کو خوفزدہ نہ رکھ سکیں جو اس دنیا کو زندگی کے ساتھ اچھی طرح جانتے ہیں… 😡

اس وقت تو بہت سے لوگ اس مقصد کا تعاقب کررہے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی میں ایسے Moments کو جیت سکیں جن میں انہیں ان دہشت گردوں کی جانب سے تکलیف نہ ہو سکے 🤘

لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب ہمیں ان شہریوں کو مدد فراہم کرنا چاہئیں جو اپنے گhar میں ہی دہشت گردوں کی جانب سے تکلیف رہی ہے وہ لوگ بھی ایک ساتھ کھیلنا چاہئیں تاکہ وہ اپنی زندگی کو یہ تو خوفزدہ نہ رکھ سکیں اور وہ بھی ایسے Moments کو جیت سکیں جو انہیں ہمیں ملا سکیں 🙏
 
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں پر امریکی ناظم نٹالی بیکر کی شدید مذمت کا ایک اور مہذب موقع ہوا ہے۔ وہ ایسی صورت حال سے نمٹنا چاہیں گی جس میں پاکستانی شہریوں کو اپنی خودمختاری کے حقدار سمجھا جائے اور انہیں دباؤ سے نکلنے کی پوری آزادی ملے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں آئندہ انتخابات بھی اس وقت کے لیے ناجائز ہوگی جتنی تک یہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے ان کا کیا ہوا ہوگا؟
 
امریکا کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کے حملوں پر غصہ ظاہر کرنے کی نٹالی بیکر کی رہنمائی تو لازمی ہے، لیکن وہ اس پر ایک حد تک زور نہیں دے رہی جیسا کہ لوگ چاہتے ہیں۔ یہ ایک بھرپور عمل ہے کیونکہ پاکستانی عوام کو وہ حق حاصل کرنا چاہئیں جو اپنی زندگیوں سے لاحق ہیں۔
 
امریکی وزیر خارجہ کی بیان سے یہ بات بھی صاف ہوگئی ہے کہ امریکا میں اسے دھارمک رہو ہاتھیں لگانا اور دہشت گردی پر صریح و قاطع کلام کرنا ایک پہل بھی ہے۔ لیکن اس بات کو یقین نہیں ہوگا کہ اس سے دھرمند اور دہشت گردوں میں کچھ تبدیلی آئے گی یا نہیں؟
 
مجبوں یہ بھی ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف اپنا دباو بھی ظاہر کیا ہے اور ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن اس سے قبل ان حملوں میں شامل افراد کے خاندانوں کو بھی تعزیت اور دلی ہمدردی کی ضرورت ہے...
اس کے علاوہ اگر پاکستانی عوام اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہتے ہیں تو وہ ایک ساتھ تھر نہیں بن سکتے، انہیں تعلیم، ماحولیاتی معیشت اور کھانا کی کمی سمیت سب سے بڑے مسائل سے نمٹنا ہوگا.
 
سچ کہا کرو، یہ بے جانی حملے تو بھارپور ہیں... अमریسی ناظم کی طرف سے اس پر غصہ ظاہر ہونا اچھا ہے، لیکن وہ یہ بھی سمجھنی چاہئیں کہ ان حملوں کے پیچھے کیسے منصوبہ بند ہوا تھا... اور پھر یہ کوئی نہ کوئی ذمہ داری قبول کرنے لگا تھا، تو اس پر بھی سچا جواب دينا چاہئیں...
 
بھائیو مگر یہ نٹالی بیکر کس لیے اس طرح غصہ ظاہر کر رہی ہے؟ تو صرف ایک شخص کو دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرنا ہی نہیں تھا اور گھبراہٹ بھی نہیں تھی، یہ تو ایسا نہیں ہو سکتا!

لگتا ہے کہ انہیں اس میں کوئی سیاسی اقدار ہوئیں، یا تو وہ دہشت گردی پر ٹھوس نہیں تھیں، یا وہ ان کی پالیسیوں کا خلاف تھیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں کوئی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف دیکھنا بھول جائیں کہ انہوں نے کیا۔

شائقین، اس سے سکون لینا چاہئیے، ایسے شخص کو نظر انداز کرنا چاہئیے جو دھارمک رہو ہاتھیں لگائے اور غصہ ظاہر کرتا ہے۔
 
یہ کتنی بھی غلطی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی صورت حال کو لے کر لوگ خاموش رہ جائیں اور نہیں، اس وقت یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی صوٹ و صلاحت سے بھاگے دھبے میں نہ پھنسے بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں، پہلی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ نہیں رہتے جنہوں کو ملکی سیاست میں دلچسپی نہیں اور وہ انہیں دھمپ دیتے ہوئے جائے تو یہ کیا دباؤ اٹھاتا ہے، پھر سے یہ بات یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگیوں کو چکڑے پر لگا رکھتے ہیں اور دوسروں کو ان کی بے حرمتی کرنا پڑتا ہے 🤯
 
امریکی ناظم امریت کا یہ کھلے کارڈ دیکھ کر کچھ انڈر اسٹینڈنگ تھوڑی خواہش مانتے ہیں کہ وہ اپنے نال، نہال اور فوج کے ساتھ یہی دھارمک رہو تباہی کا شکار نہ ہو۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی صورتحال تو ایسے ہی ہے، اس لیے یہ لوگ اپنی سرگرمیوں سے بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ ان پر تباہی کا زور دیتے رہتے ہیں۔
 
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں پر امریکی ایسے رہنما جو اپنی صحت منزل ہالنے کے بعد بھی توٹے ہوئے چارے میں ملوہر ہوا ہو وہ ہمدردی کی بات کر رہا ہے ؟؟ ایسا نہیں لگتا کہ انھوں نے اپنی سرکار کو بھی اسی طرح سے بتایا ہو گا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو چلنے کی اجازت دی جائے گئے ؟؟
 
واپس
Top