بلوچستان میں گندم کی قلت ایک عجیب و غریب صورت حال بن چکی ہے جس کے باعث کوئٹہ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2900 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے، جبکہ اندرون صوبہ اس کی قیمت تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔Government کی یہ نئی پالیسی کے تحت اگلے سال بھی کوئٹہ میں گندم خریدنے پر پابندی نہیں رکھی جائے گی، اس سے آنے والے دنوں میں آٹے کی قلت مزید تیزی لے اور شہریوں کا کھانے کا سامان بھی خطرے میں ڈال دियاجایہ نئی پالیسی کو government نے رواں سال 2026 کے دوران اپنائی ہے اور اس سےGovernment کی یہ پالیسی کے تحت بھارتی سرزمین سے گندم لانے پر پابندی لگی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو آٹا خریدنے کے لیے دوسرے صوبوں سے جاننا پڑے گا۔ اس حوالے سے بلوچستان کے وزیر خوراک نور محمد دومڑ نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں گندم کی قلت کو دور کرنے کے لیے صوبے میں گندم نہیں خریدتے، جس سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہریوں کو مزید مہنگا کھانا بنایا جا رہا ہے۔