بلوچستان میں گندم کی قلت شدت اختیار کر گئی، ایک کلو آٹا 145 روپے کا ہوگیا، حکومت کا اس سال بھی گندم نہ خریدنے کا فیصلہ - Daily Qudrat

سورج مکھی

Well-known member
بلوچستان میں گندم کی قلت ایک عجیب و غریب صورت حال بن چکی ہے جس کے باعث کوئٹہ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 2900 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے، جبکہ اندرون صوبہ اس کی قیمت تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔Government کی یہ نئی پالیسی کے تحت اگلے سال بھی کوئٹہ میں گندم خریدنے پر پابندی نہیں رکھی جائے گی، اس سے آنے والے دنوں میں آٹے کی قلت مزید تیزی لے اور شہریوں کا کھانے کا سامان بھی خطرے میں ڈال دियاجایہ نئی پالیسی کو government نے رواں سال 2026 کے دوران اپنائی ہے اور اس سےGovernment کی یہ پالیسی کے تحت بھارتی سرزمین سے گندم لانے پر پابندی لگی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو آٹا خریدنے کے لیے دوسرے صوبوں سے جاننا پڑے گا۔ اس حوالے سے بلوچستان کے وزیر خوراک نور محمد دومڑ نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں گندم کی قلت کو دور کرنے کے لیے صوبے میں گندم نہیں خریدتے، جس سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہریوں کو مزید مہنگا کھانا بنایا جا رہا ہے۔
 
یہ قلت تو پوری دنیا کی problem hai, بلوچستان بھی اس میں شامل ہیں. گندم کی کمی سے آٹا کیسے بنتا ہے? اگلی سال کوئٹہ میں بھی پابندی نہیں رکھی جائے گی تو کیا ہونے والی بات کے؟ شہریوں کا کھانے کا سامان خطرے میں ڈال دیا جا رہا ہے، یہ تو پوری problem. government کی پالیسی اچھی نہیں لگتی, لیکن وہ بتاتے ہیں کہ اس سے بلوچستان میں گندم نہیں خریدتے تو آٹا کیسے تھا? 😕
 
یہ واضح ہے کہ بلوچستان میں گندم کی قلت ایک بڑی مشکل ہے اور اس سے لوگ جھوٹ لگا رہے ہیں کہ وہ اپنے گندمی کو بھرپور طور پر خرید رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں غلط فہمی سے آگاہ کرنا پڑے گا۔ government نے ایک نیا پالیسی بنائی ہے جس کی وجہ سے لوگ مہنگا کھانا خریدنے کو مجبور ہو گئے ہیں اور یہ بھی واضح ہے کہ انہیں اس بات کو سمجھنا پڑے گا کہ اپنے صوبے میں نہیں بس دیگر صوبوں میں سے گندم لانے کی ضرورت ہے۔
 
یہ پالیسی تو government کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بھی نہیں ہو سکتی؟ اور آٹے کی قلت کو دور کرنے کے لیے بلوچستان میں گندم نہیں خریدتے، تو یہ کس لیے? government نے ایک پالیسی بنائی ہے اور اس پر لوگ دھنجی چلنے کی اجازت دیتے ہیں، حالانکہ اچھا لگتا ہے کہ government نے بلوچستان میں گندم خریدنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے تو یہ کیا ماحولیت کو؟
 
یہ تو بلوچستان میں سے گندم لانے کی پالیسی نہیں بنائی جائے، ایسا سارے لوگ کیا کر رہے ہیں؟ آٹے کی قلت بھی تو مایوس کن بات ہے، اور اب کئی صدیوں پہلے یہ پالیسی لا دی جائے گی تو فکری نہیں! آپ سے پوچھتا ہوں تاں انصاف کی حقائق کو بتایا نہیں دیتا کہ وہی لوگ یہ پالیسی لا رہے ہیں جو گندم کے ملازمت پر ہیں اور ان کو ایسا کرنا نہیں آتا ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو بھوک سے مراتے دیکھتے ہیں.
 
یہ بات تو بہت اچھی نہیں کی جائے، بلوچستان میں گندم کی قلت ایک عجیب صورتحال ہو رہی ہے اور یہ سب وہی پالیسی کا نتیجہ ہے جو government نے اپنائی ہے، یہ تو اس کے نتیجے میں شہریوں کو آٹا خریدنے کے لیے دوسرے صوبوں سے جاننا پڑے گا، اور اب وہ ان پہلوانوں کا مقابلہ کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی جگہ بن لی ہے، بلوچستان میں گندم کی قلت کو دور کرنے کے لیے یہ پالیسی تو بہت ہی غلط ہے اور اس کا نتیجہ آٹے کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ تو حکومت کی نئی پالیسی سے شہریوں کو بھوک لگانے کی ساتھ نہیں دلاتی؟
 
یہ پالیسی تو government کی بھلائی میں ہے نہیں، بلکہ وہ اپنی بھینٹ کی کھانے کی قلت کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب انہوں نے گھروں میڹنے پر پابندی لگا دی ہے، آج بھی وہ دوسرے صوبوں سے جاننے والیں ہیں اور شہریوں کو اچھا کھانا دیتے رہتے ہیں، نہ صرف یہ بلوچستان میں تیزی سے آٹے کی قلت ہوئے گی بلکہ دوسرے صوبوں کے لئے بھی یہ معاملہ ایک عجیب صورتحال بن جائے گا 😒
 
بھی بھی ایسے دن ہوتے ہیں جب میں سوچتا ہوں کہ واپس جانا چاہئیں تھلگ نالے میں مٹھی مٹھی پانی پینا، آئی ایس پی میں بٹر کو پلا کر کھانا بنایا کرنا اور اپنی ماں کی طرف سے بنا ہوا الائے ڈھانچہ چلانے کے دिन۔ بلوچستان میں گندم کی قلت یہ بات بھی ہے کہ لوگ اس کی قیمت پر توجہ نہیں دیتے، آٹا پھر کے سب سے اچھا اور پیداوار میں اضافہ ہونے پر قیمت کم نہیں ہوتے، وہ لوگ جو گندم خریدتے ہیں وہ صرف تاکفہ کے لیے اور گھر کی کھانے کی دیکھ بھال نہیں کرتیں۔
 
یہ پالیسی تو اس وقت تک یقینی نہیں ہو سکتی کہ اگلے سال بھی کوئٹہ میں گندم خریدنے پر پابندی رکھی جائے گی, سارے صوبوں میں ایسا کیوں کرنا ہے؟ یہ بلوچستان کا معاشیات کو نا متوازن بنانے کا ایک طریقہ ہو رہا ہے, آٹا بھی آٹا ہی ہوتا ہے اور پابندی سے یہ صرف مزید بڑھ جائے گا، لاکھوں لوگ اپنے کھانوں میں آٹا استعمال کرتے ہیں, اس سے شہریوں کو اچانک توجہ دلانی پڑے گی, لاکھوں لوگ اپنے کھانوں میں آٹا استعمال کرتے ہیں, یہ نئی پالیسی تو بلوچستان کی معیشت کو زیادہ خراب کر دے گی.
 
یہ نئی پالیسی government کی ایک عجیب بات ہے، گندم سے بھرپور صوبہ بلوچستان کے ساتھ نہ آگے بڑھو، بلوچستان میں اسے خریدنے پر پابندی لگائی جانے کی وہی بات کوئٹہ میں ایک تھیلا 2900 روپے میں فروخت کر رہا ہے جو اندرون صوبہ میں تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ ایک واضح پالیسی نہیں ہے بلوچستان کو شہریوں کا کھانے کا سامان لازمی طور پر تلاش کرنا پڑے گا، بھارتی سرزمین سے جانا پڑے گا اور اس سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ government کو اس کی پالیسی پر توجہ دینی چاہئے، بلوچستان کے عوام کو ان्न کھانے کے لیے معقولPrices اور ساتھ ہی آٹے کی مارکٹ میں استحکام بھی بنانے کی ضرورت ہے۔
 
یہ واضع ہے کہ governo نے ایسے پالیسی کی سائن ڈیا لی ہے جس سے لوگ اپنی کمیوں میں آٹا خریدنے کو مجبور ہو رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ governo پوری طرح بھارتی سرزمین سے گندم لانے کی اجازت دے رہا ہے اور بلوچستان کو آٹا خریدنے کا انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ یہ بات بھی واضع ہے کہ government کی اس پالیسی سے آٹے کی قلت کا مسئلہ تو حل نہیں ہوگا بلکہ مزید تیزی لے گا اور شہریوں کو کھانے کا سامان بھی خطرے میں ڈال دیا جائے گا! 🤔
 
بلوچستان میں گندم کی قلت ایک بڑی صورتحال ہے, اور یہGovernment کا نئا پالیسی کے تحت تھا جو انہوں نے رواں سال 2026 کے دوران اپنائی ہے. اب تو کوئٹہ میں گندم خریدنے پر پابندی ہیں اور اس کی وجہ سے آٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے. اب لوگ دوسرے صوبوں سے جاننا پڑ رہے ہیں کھانے کے لیے, یہ نئی پالیسی میں تو Government کی چاہت تھی کہ شہریوں کو اپنے صوبے سے گندم کھینچنا پڑے اور وہ دوسرے صوبوں کے لیے جانا پڑ رہے ہیں. بلوچستان کی حکومت نے بتایا ہے کہ انہوں نے گندم نہیں خریدتے، لیکن یہ بھی بات کوئٹہ اور دوسرے صوبوں سے آتے ہوئے گندم کی کیونکہ Government کے توجہ نہیں دیا.
 
بہت غیر معمولی یہ صورت حال ہے! government کو آٹے کی قلت پر غور کرنے کی ضرورت تھی، لیکن انہوں نے اس کا مواقع سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ اپنا دیا ہے۔ 2900 روپے میں بیس کلو آٹا فروخت کرنا تو بہت مایوس کن ہے، اس سے اس کے بعد شہریوں کی ملازمت سے دو چیٹ دھچکیں پڑ رہی ہیں! 🤔

اس نئی پالیسی کو government نے رواں سال کیا ہے اور اس کا خیرنظر کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی وجوہات تھوڑی جگہ سے بھی لے لے کر سمجھنی چاہئیں۔ government کو بلوچستان میں گندم کی قلت کو دور کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی پالیسی اپنانی چاہئیں، لیکن انہوں نے اس بات پر غور نہیں کررکھی ہے کہ اس سے کونسے لوگ متاثر ہو گئے ہیں؟ 🤷
 
واپس
Top