بلوچستان میں ہڑتال کے دوران شہری پر تشدد، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس جاری کردیا۔ اس واقعے کا بڑھتا ہر پہلے حوالہ ہوتا رہا ہے، جس میں شہری کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے گال بھاری کیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ اس واقعے میں کوئی شہری جان سے نہ ہو، لیکن پولیس اہلکاروں نے غیر انسانی رویہ دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی ناقابلِ برداشت ہے، لیکن پولیس اہلکاروں کو اپنے فرائض انجام دینے کا پابند رہنا چاہیے اور شہریوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ان کی بنیادی تربیت اور ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے میں ملوث اہلکار کے خلاف شفاف اور فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے اور واضح کیا کہ حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کی रकابتی کے لیے پرعزم ہے۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ شہری اور پولیس کے درمیان گہرا تنازعہ جاری ہے، جو شہر کی ایسی صورت میں ہوا جس سے لوگوں کو گھبراہٹ ہوئی ہے۔
بلوچستان میں ہڑتال کے دوران شہری پر تشدد، یہ واقعہ بھی تو تکرار ہوتا رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان لوگوں کو پھانسی دی جا سکتی ہے، سارے ملک میں شہریوں کی عزتِ نفس کی بات کی جائے تو وہاں بھی یہی نتیجہ نکالنے کا وقت آئے گا۔
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ شہری اور پولیس کے درمیان گہرا تنازعہ جاری ہے، یہی وجہ ہے کہ سارے ملک میں شہریوں کی عزتِ نفس کی بات کی جائی پئے تو اس سے باور تھامنے کی کوئی آدتیش نہیں ہوتی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا کہ قانون کی خلاف ورزی ناقابلِ برداشت ہے، یہاں تک کہ انہوں نے واقعے میں ملوث اہلکار کے خلاف شفاف اور فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے، یہ سچ ہی کہتے ہوئے ہیں، لیکن یہی بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شہری اور پولیس کے درمیان گہرا تنازعہ جاری ہے، جو شہر کی ایسی صورت میں ہوا جس سے لوگوں کو گھبراہٹ ہوئی ہے۔
اس واقعے کا بہت زیادہ غور کرنا پڑ رہا ہے، پولیس اہلکاروں نے شہر میں ایسا رویہ دکھایا ہے جو معاشرے کے لیے بے سلیقہ ہے۔ واضح طور پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ شہری کو جان سے نہ ہوا، لیکن یہ بات بھی پوری دنیا میں واضع ہوتی ہے کہ شہر اور پولیس کے درمیان تو تفاوط ہوتے ہیں، لیکن یہ کہ polsis ahlakaron ko kya roha hai wo bhi thoda galat hai.
اس واقعے کا پورا ماحول دیکھ کر میرا خیال ہے کہ شہریوں کی عزتِ نفس کو لینا پابند رہنا بھی ایک بڑا کام ہے، لیکن پولیس اہلکاروں کی جانب سے جو رویہ دکھایا گیا ہے وہ بہت گaltajanak hai. مجھے لگتا ہے کہ شہریوں کی فوجی جاسوسی اور فوری قانونی کارروائی نہ ہونے پر ان کی عزتِ نفس کا خوف بڑھ گیا ہے. اس میں تو کسی کو ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے لوگوں کو گھبراہٹ پہنچ جائے
یہ واقعہ بھی ہو چکا ہے کہ شہری اور پولیس کے درمیان کیا تنازعہ ہوسکتا ہے؟ پہلے تو تھینڈابنڈی اور اب یہ ہڑتال کا واقعہ، ایسا ہی ٹرافک آئنسٹ ہوا تو آج یہ تشدد، یوں یہ ہوا کہ شہری اور پولیس کے درمیان تنازعہ ہی جاری ہے۔ سرفراز بگٹی جی نے بھی اپنی کوشش کی ہے، لیکن یہ سوال یہ رہا کہ شہری اور پولیس کے درمیان کیا منسلک ہو سکتا ہے؟
یہ دیکھنا بہت کھنثار کا ہے! بلوچستان میں شہری پر تشدد اور پولیس اہلکاروں نے ایسا کیا ہے، یہ کبھی بھی_accept نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس جاری کیے ہیں، لیکن یہ کافی بھرپور نہیں ہو سکتی ہیں۔ شہری اور پولیس کے درمیان تنازعہ گہرا ہو گیا ہے، یہ تو دیکھنا پura tha
جس طرح جو شہری جان سے نہیں ہوئے، وہی نہیں یہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا جاتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو اپنے فرائض انجام دینے کا پابند رہنا چاہیے، لیکن یہ بھی لازمی نہیں ہے۔ حکومت کو انہی شہریوں کے حقوق کی रकابتی پر ہمیشہ توجہ دینی چاہیے جو شہر میں رہتے ہیں۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ شہری اور پولیس کے درمیان کوئی معاف نہیں، یہ ان کے درمیان ایک گہرا تنازعہ ہے جو ابھی تک جاری ہے۔
اس واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ شہری اور پولیس کے درمیان بے ایمان رویہ دکھایا گیا ہے، یہ تو ناقابلِ برداشت ہے۔ ابھی تک سے اس جگہ پر بھیڑ کی گئی ہے، اور یہاں یہ بھرپور تنازعہ جاری ہے۔
ہمیشہ سے پوچھتا آ رہا ہوں کیا ایسے واقعات کا جواب یہ ہوتا ہے کہ لوگ کیسے بیتے ہیں؟ اور کیا شہر میں جانے والا چل رہا ہو؟ میرے خوف تھا کہ اس واقعے نہ تو پولیس اہلکارز نہ ہی شہریوں کو ساہم کرتے ہیں بلکہ پھر بھی ایسے واقعات ہو رہتے ہیں۔ اور جس جس واقعے پر انٹرنیٹ پر بات چیت ہوتی ہے وہی سارے لوگ اس پر commenting کرتے ہیں کیوں کہ پہلے نہ سمجھتے کہ اس میں کیا بोलنا چاہئے؟