بلوچستان میں دہشت گردوں پر سیکیورٹی فورسز نے آپریشن رد الفتنہ ون کامیاب کیا، جس کی وجہ سے 216 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
آپریشن کا آغاز 29 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں شروع ہوا، جب فوری خطرات کی پیشی پر خواتین اور بچوں کی جانب سے بھی نشانہ بنائے گئے تھے۔ دہشت گرد عناصر کا مقصد بلوچستان میں امن و ترقی کو سبوتاژ کرنا تھا۔
دہشت گردوں نے مقامی شہریوں کی جانب سے بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ کے شواہد میں بھی شامل ہوئے تھے، لیکن سیکیورٹی فورسز نے ان کو کامیابی سے کھا لیا۔
آپریشن کے دوران 36 معصوم شہری جن میں خواتین اور بچے شامل تھے جو شہید ہوئے، جبکہ 22 سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جان کو مہانے کے لیے پیش کی تھی۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پوری قوم شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔
بڑا relief bilkul , آپریشن رد الفتنہ ون نے دہشت گردوں کو کوئی Chance nahi diya , انہیں تو ہلاک کر دیا گیا، اور سب سے جھٹلے لاجسٹک سپورٹ کو باہر کر دیا گیا। خواتین و بچوں کا ساتھ دیکھتے ہی میرا heart badh jata hai , انہیں بھی اہم مقام پر رکھنا چاہئیے.
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیا گیا کام بھی ek good kamaal hai , آپریشن کے دوران 22 جوانوں نے اپنی جان دی، وہ sab ek real hero hai .
بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون نے دہشت گردوں کو بہت گھنا نقصان پہنچایا ، لگتا ہے کہ وہی رکاوٹ جو دہشت گردوں کے خلاف اس وقت کی سب سے بڑی تھی اور اب یہ کامیاب ہونے کا باعث بن گیا ہے۔ 216 افراد کو مار دیا گیا ، یہ ایک دیرپا نقصان ہے۔
دہشت گردوں نے شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کے بیرونی معاونت کو روکنے کی کوشش کی ، لیکن سیکیورٹی فورسز نے انہیں یہ مہینہ پورا نہیں دے سکا۔
خواتین اور بچوں کو مارنا بھی ایک دیرپا نقصان ہے ، ان کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں ہونی چاہیے ، یہ آپریشن صرف سیکیورٹی فورسز کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے ملک کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ سب بہت گھبرا داری فیل ہو گیا ہے، آپریشن رد الفتنہ ون نے تو دہشت گردوں کو کھا لیتے ہوئے دیکھا ہے، پھر یہ بھی رکھتے ہو گے کہ اب وہ دوسری جگہ سے آئیں گے؟ میں نہیں سمجھ سکتا کہ 36 معصوم شہری جن میں خواتین اور بچے شامل تھے وہ مارے جائیں، یہ تو توحید کی انتہا ہے।
اب تک بھی دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کو کیا نुकसاں پہنچائی ہیں، لेकن اب بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیاب ہونے سے دیکھتے ہیں کہ پاک فوج نے 216 دہشت گرد کو شکست دی، یہ ایک بڑا پیروڈہ ہے... اور ابھی انھوں نے شہداء کی سوانح کے لیے پاک فوج کو انعام دیا ہے...
جب پانی میں دھونے کے بائل میں ایک گولڈ اسٹیچر لگایا جاتا ہے تو وہ تمام گولڈ اسٹیچرز کم نہیں اٹھتے... اسی طرح پھیلے ہوئے دہشت گردوں میں ایک تیز سے تیز پاک فوج ہوا لگ رہی ہے...
بلاک بلیز نہیں... یہ آپریشن شہداء کی یاد میں کیا گیا ہے، اس کے بعد اور اس سے پہلے دہشت گردوں کا مقصد بلوچستان میں امن و ترقی کو خراب کرنا تھا...
لیکن ابھی ابھی دیکھتے ہیں کہ وہ اس کام سے ناکام رہے ہیں... اور ابھی انھوں نے اپنے تمام جہتوں کو پاک فوج کی کامیابی سے کھا لیا ہے...
آپریشن رد الفتنہ ون نے دہشت گردوں کو چیلنج کیا ہے اور شہداء کی قربانیوں پر پورا توجہ دینا بھی ضروری ہے... "اس سے ایک بات واضح ہے، جب تمارہ نہیں کیا جاتا تو اس کا خلاف بھی کرنا مشکل ہوتا"
اس آپریشن کی واضح بات یہ ہے کہ ایسا آپریشن اچھا نہیں ہوگا جب تک اس میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو اپنی جان دھANDھنی پڑتی رہے گی، انہیں جو بھارتی فوج اور پاک فوج کے جوانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے وہ اپنی زندگیوں کو یہیں گویا پھونک دیتے ہیں، اس بات پر زور نہیں ڈالنا چاہیے کہ آپریشن کا مقصد کیا ہوگا اور اس میں کس طرح فوری خطرات کو حل کیا جا رہا ہے؟
بلیک کا یہ کارہم نتیجہ تو بالکل چھوٹا بھی نہیں تھا، جس میں 216 دہشت گردوں کی قتل ہوئی ان کو اس لیے کہتے ہیں جو آپریشن رد الفتنہ ون میں شامل تھے ان سب کا کچلنا۔ میرا خیال ہے اس کی واضح وجہ یہ تھی کہ یہ آپریشن دہشت گردوں نے شہروں میں اپنے شواہد کو سبوتаж کرنے لگے تو اسے ٹھیک سے روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔ 36 معصوم شہریوں کی جان بہل گئی وہ یہ سبکے لیے اہم بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان شہداء کی قربانیوں کو ہمارا ساتھ دینی چاہئیں
یہ اپریشن دیکھتے ہی میرا دل ٹوٹ گیا ہے کہ ان شہداء کی جان کس کے ہاتھوں گئی تھی، شہداء جن میں بچے اور خواتین بھی تھے جب میرے لئے یہ بات سونا ہے کہ دہشت گردوں نے انہیں کس طرح سے مارا تھا تو میں واضح طور پر ان کو condemning کر رہا ہوں گا۔
پاک فوج کے جان بچانے والے یہ جوانوں نے اپنی جان دے کر امن و ترقی کی جدوجہد میں بھیڑ کھیل دی ہے میرے لئے یہ آپریشن ایک اچھا پہلو ہے۔
بلوچستان میں امن و ترقی کے لئے دوسرے کوششوں کی ضرورت ہے، لیکن اب تو یہ آپریشن کامیاب ہوا ہے اور میرے پاس اپنی کہانیوں میں کوئی اچھا بات نہیں ہے بلکہ میرے لئے یہ صرف ایک ایسا لمحہ تھا جس پر میں دھونے کے لئے ٹوٹ گیا ہوں گا، لہٰذا اس کا شکر ادا کرنا ہی کافی نہیں۔
میں اس آپریشن کی پوزیشن لینا چاہوں گا، جس نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ یہ آپریشن بہت اچھی فوری پوزیشن تھی، لکین اس پر تنقید کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ایسا آپریشن کبھی نہیں کیا گیا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں زیادہ سے زیادہ معصوم افراد ہلاک ہوئے۔
دہشت گردوں کو فوری خطرہ قرار دیا گیا تھا، لیکن یہ آپریشن واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں تھی، بلکہ اس نے بلوچستان میں امن و ترقی کو سبوتاژ کرنا تھا جس کی وجہ سے یہ آپریشن کامیاب ہوا۔
ایک ایسا وقت آتا ہے جب آپ بھگڑوں پر چنچل بھی نہیں رہتے اور سیکیورٹی فورسز کو ہر دہشت گرد کا شکار کرنا پڑتا ہے! بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون نے ایسی سرگرمی کی کہ ابھی ہوئی تو اس کی جسمانی رہنمائی کر چکی ہیں! 216 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا اور ان میں سے کئی کے مقاصد کو ٹالنے والے لوگ بھی شہید ہوئے!
سیکیورٹی فورسز نے اس آپریشن میں ایک بڑا کامیاب تجربہ کیا جو کہ ان کی طاقت پر ثبوت دیتا ہے! اور یہ آپریشن صرف 29 جنوری سے شروع ہونے والے تھا، اس پہلے سے شواہد تھیں کہ بلوچستان میں امن و ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس آپریشن میں شہید ہونے والے 36 معصوم شہریوں میں سے 22 سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی شامل تھے، انہیں ان کی جان کو مہانے کے لیے پیش کرنا تھا!
اس آپریشن نے دکھایا ہے کہ بلوچستان میں امن و ترقی سے کوئی بھی معاملہ اس کے جیسا ہونے میں نہیں آتا! اور یہ آپریشن صرف ایک شاندار اقدار کا حصہ بن گیا ہے جو سیکولر فوج کی طاقت کو دکھانے والا ہے!
اس آپریشن میں یہ بات بھی بات ہے کہ ایسے لوگ کیوں بنتے ہیں جو دہشت گردی کی پوری چال آکھیں، ان کے پاس جانتے ہوئے یہ کہ انہیں کیوں مایوس کرنا پڑ رہا ہے؟ دہشت گردی میں سہولت نہیں، صرف خودھکی اور جسمی زچہ ہوتا ہے …………
زہرہ زہر...بلوچستان میں دہشت گردوں کی چیلنج کو ایک بار پھر سے سیکورٹی فورسز نے کامیاب کیا ہے، یہ بہت خوشی کی حدیث ہے! اپنی جان لگا کر ان دہشت گردوں کو جو شہریوں کے معاشرے میں تباہی پہنچانے چاہتے تھے، وہ سب ماریا گیا ہے۔
دونوں لڑائیوں میں اہل خانہ کی سرگرمی دیکھنی بھی ایک جیت کے پھول ہے! اس آپریشن کے دوران شہید ہوئے 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی تھے... یہ تو دلتанہ عمل تھا۔
بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کی کامیابی ایک بڑا فخر منظر ہے، 216 دہشت گرد ہلاک ہونے سے وہیں نئی ہمیشہ کیHope ہے۔ یہ آپریشن مقامی شہریوں کی جانب سے بھی ایک طاقت مندرجہ تھا، لاجسٹک سپورٹ کو کٹار کرنے کے لیے وہیں ڈرائی پاؤंड نہیں تھا ۔ پھر یہ اپنی نتیجہ میں ایک سوجھا کیا، لیکिन 36 معصوم شہری اور 22 جوانوں کی جانوں کو اس پر گوئی کرنے سے بھی پھر یہ ہمیں سکوت میں رکھتا ۔