بلوچستان کی کابینہ نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک جامع قانون کی منظوری دی ہے۔ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں یہ اعلان کیا کہ یکم فروری سے ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہو گی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہو گا۔
گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جائے گا اور لاپتہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں ایک لیगल فریم ورک موجود ہو گا۔
اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اس کی ذمے داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ پڑتال کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کرکے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے کہا کہ ’’کوئی اہلکار کسی شہری کو لاپتہ کرنے کے مجموعی طور پر کئی نقصانات ہوتے ہیں۔‘‘ ان کی رائے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس طریقہ کے استعمال سے نوجوان ریاست سے مایوس ہوتے ہیں اور عام آدمی کا اعتماد ریاست سے مجروح ہوتا ہے اور معاشرہ میں غیر قانونی کام کرنے کی روایت مستحکم ہوتی ہے جو گروہ ریاست سے مایوس ہو تھا ان کے بیانیے کو اس صورتحال میں تقویت ملتی ہے۔
یہ نئے قانون کے تحت زیر تفتیش افراد کے اہل خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، ملاقات کی اجازت ہو گی، طبائی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو ان تفتیشی مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔
گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جائے گا اور لاپتہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں ایک لیगल فریم ورک موجود ہو گا۔
اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اس کی ذمے داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ پڑتال کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کرکے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے کہا کہ ’’کوئی اہلکار کسی شہری کو لاپتہ کرنے کے مجموعی طور پر کئی نقصانات ہوتے ہیں۔‘‘ ان کی رائے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس طریقہ کے استعمال سے نوجوان ریاست سے مایوس ہوتے ہیں اور عام آدمی کا اعتماد ریاست سے مجروح ہوتا ہے اور معاشرہ میں غیر قانونی کام کرنے کی روایت مستحکم ہوتی ہے جو گروہ ریاست سے مایوس ہو تھا ان کے بیانیے کو اس صورتحال میں تقویت ملتی ہے۔
یہ نئے قانون کے تحت زیر تفتیش افراد کے اہل خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، ملاقات کی اجازت ہو گی، طبائی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو ان تفتیشی مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔