شیرپور میں ایک تصادم کے بعد جواب جس سے ملک میں انتخابات سے قبل بڑھتے سیاسی تشدد کی بڑی تندگی پائی گئی وہ اس وقت ہوا جب مولانا رضا الکریم نے اپنے علاقے ‘جھینائی گاتی‘ میں ایک انتخابی منشور پڑھتے وقت حملہ کیا گیا تھا۔
ان کو 35 منٹ بعد میں اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیا گیا اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ وہ جماعت اسلامی کی ‘سری بردی اپازلا شاخ‘ کے سیکرٹری تھے اور انہیں تشویشناک حالت میں میمن سنگھ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا جاتا تو راستے میں دم توڑ دیا گیا تھا۔
ان حملوں کے بعد وہ لاش بھی مری چکی تھی اور اس نے پوسٹ مارٹم کی طرف بھیج دئی گئی تھی، انہیں اب یہ بات نہیں بھی آ سکتی کہ وہ ہلکے زخمی ہوئے تھے اس لیے اس کو اس وقت کیوں پوسٹ مارٹم کے طور پر بھیج دیا گیا تھا جس سے اسے زندگی سے دور کیا گیا تھا۔
اس واقعے میں ایک رپورٹر نے بتایا کہ اس وقت تقریب کے دوران بی این پی اور جماعت اسلامی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گئی۔ اس دوران سینکڑوں کرسیاں اور موٹر سائیکلیں توڑ دی گئیں جبکہ دونوں جماعتوں کے کم از کم 30 کارکن زخمی ہوئے۔
اس واقعے کو اپنے فیس بک پر ایک بیان میں شہید نورالزمان (بادل) نے جاری کیا اور الزام عائد کیا کہ یہ حملہ بی این پی کے کارکنوں نے کیا تھا، جس میں جماعت اسلامی کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے، جبکہ 3 کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ دیکھنا بہت دوزخ ہے کہ انتخابات سے قبل اپنی ریلیوں میں حملے ہوتے رہے دے! یہ لاش کی بات کرنا بھی انتہائی غمازدہ ہے، تو کیا یہ سیاسی تشدد اور ملک کو کس طرح متاثر کرسکتا ہے؟ سانس پلیٹ مین انچارج ہوئے!
یہ بات بہت متعصبیت اور حرب و تفرقہ کا ایک نوجوان معاملہ ہے! لاش کو پوسٹ مارٹم پر بھیج کر اس کی زندگی کو ختم کرنا اتنی بھی گندی بات ہے! یہ سارا واقعہ دیکھتے ہی بہت ہی متعصب اور نافذ کردہ تعصبی و تشدد کا مظاہر ہے! لاش کو پوسٹ مارٹم پر بھیج کر اس کی زندگی کو ختم کرنا اتنی بھی گندی بات ہے!
یہ ایسا محض بھٹکیں ہی نہیں، وہ سچ میں کیا حقیقت تھی؟ مولانا رضا الکریم کو اس طرح حملہ کرنا پورا غلطی تھی کہ انہیں چھوٹے ہی ایک تصادم کے بعد بھیڑ لگ گئی اور وہ لاش میں مری چکے، یقیناً اس حادثے نے بھی ان کی زندگی کو بدل دیا ہوگیا۔
یہ نہ صرف ایک سیاسی حملہ ہی نہیں بلکہ ایک انسانی زخمی ہے جو اپنے ساتھ ہلچل لائے ہوئے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں جنہوں نے یہ زخمیاں پہنچی ہیں اور ان کی جلد صحت برقرار کرنا ہو رہا ہے۔
اس واقعے سے یہ بات بھی لگنے لگی ہے کہ ایسے مواقع پر لوگ اپنی سیاسی گاڑیوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں اور دوسرے کی جان کو اس گاڑی میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔
آج بھی، شہیدوں کی یاد میں ایک لمحہ سکون چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ وہ ہمارا دل دوسرے جان سے جوڑنے کے لیے کام کر سکیں۔
اس واقعات کی پوری وضاحت نہیں مل سکتی اور یہ بات بھی کافی سوجھنی لگ رہی ہے کہ اس واقعے میں کون سا علاج ملتا تھا؟ ایسے حالات میں جان کی جانب کھینچنا ایسا تو بھی نہیں ہوتا جب زخمی لوگ کیسے محفوظ ہوتے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کی حال بہت معتدل تھی یا یہ صرف ایک ایسا ماحول تھا جس میں ایسے واقعات دیکھنے کو باقی نہ رہ سکتے، ابھی تک اس میں کسی کے لئے بھی تعزیرت نہیں کی گئی اور یہاں تک کہ وہ جانب جو اس واقعات کو دیکھنے پر اچھا لگ رہے ہیں، ان کو بھی پہلے سے ایسا ہی محسوس ہوتا تھا!
اس دuniya میںPolitics bhi toh sirf violence hi nahi hota , lekin ab to pata lagta hai ki elections se pehle aur baad me bhi politics mein tolerance kuch nahi hoti . Mulaana rezaa alkameen ko jhinnai gati main attack kar dika tha us samay uski zindagi kab tak ho sakti thi? 35 minute ke liye hospital pahunchne par mar gya aur lasha posht mare postmar kar diya gaya kya iska matlab yeh hi na ki unki zindgi khatam ho chuki thi?
یہ ایک دھمکی تھی کہ اگر کوئی بھی سیاسی شخص اپنے انتخابی مینوں میں اچھی نسل پر لکھنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی جان کی نفی کر دیتے ہیں. ملازمت کے بعد بھی اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ کسی کی جान بھی بھگتی ہے اس لیے وہ شخص اور ان کے پروروں کے لئے ایک دھن ہی پتہ چلا۔
یہ بات بہت عجیب ہے کہ ایسے واقعات ہو رہے ہیں جس سے سیاست سے پہلے ملک میں ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جو دھمکیاں اور تشدد کا سبب بنتی ہے، ابھی یہ حملہ بھی ہوا اور مری چکا ہے، وہ جس کی زندگی سے دور کر دی گئی تھی اسی شخص کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا، یہ بہت غلطی ہے۔
اس واقعے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے، یہ پتہ چلتا ہے کہ دوسرے نہیں بلکہ اپنے آپ کے ذمہ وار ہیں۔ Politics bane duniya ka sabse kharab sa rishta hai, yaad rakho apne man ko kisi ko nahi chunaate.
اس کا منظر جب بھی دیکھوں تو مجھے یہ دھارنا پتھر لگتی ہے کہ میرے ملک میں نوجوان رپورٹنگ کی صلاحیت سے ساتھ نہیں دی جاتی ، وہ اسی بات کو اپنی رپورٹز میں پेश کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر انہیں اُنھوں نے ایسے واقعات سے انکار کر دیا جہاں اس کے لئے ساتھ کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں تھی۔
اس فیلڈ میں بہت سارے رپورٹر ساتھ ہوتے ہوئے چلا آتے ہیں، ان کے اچھے ہونے کی کوئی گنا نہیں ہے ، بلکہ وہ پوری دuniya بھر میں ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔
اس واقعے کا جواب یہ ہوگا کہ ابھی تک نوجوانوں کو صلاحیت حاصل کرنا پہلے سے بڑے عہدوں پر چڑھنے کی مجبوری ملنے تک ہمیں پہچاننا پڑتا ہے، لیکن اب وہ صلاحیت حاصل کرنا اس وقت ہی ہوگا جب نوجوان رپورٹنگ کے لئے ساتھ رکھ سکیں گے۔
عجیب بات یہ ہے کہ دوسرے پرتشدد کے واقعات میں بھی اس طرح کی حملے ہوئے تھے جیسا کہ مولانا رضا الکریم کے حوالے سے، مگر ان واقعات پر کوئی کچھ نہیں کیا گیا جیسا کہ اب، یہ واقعہ ہمیشہ اپنے مقام پر ہے۔ اس کی وجہ سے بھی ایک سیاسی حلقہ میںPolitical parties party politics politics pehle pehle hai.
یہ دیکھنا بہت پٹا تھا. شہید نورالزمان کی جانب سے ایسا بیان لگتا ہے جیسے وہ کہتے ہیں کہ وہ اس واقعات میں انصاف اورTruth کے حامی ہیں، لیکن یہ ایک غلط تصور ہے. سچ بھی بتا رہا ہے کہ دونوں جماعتوں میں لڑائیوں اور پرتشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال کو حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ بات تو بھی پچتی ہے کہ پوری دuniya یہی ساتھ دیتی رہی.
اس واقعات پر غور کر رہا ہوں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ پھر سے ملک میں سیاسی تشدد کی نیند نہیں آئی۔ اور ابھی بھی اس بات کو نہیں سمجھا جاسکتا کہ انتخابات کے منظر نامے پر اس طرح کی بربادی ہوئی تو یہ وہی نہیں تھا جو 2018 میں ہوا تھا، پھر سے یہ بات بھی نہیں آئی کہ کسی سیاسی پارٹی یا جماعت کی ذمہ داری اور اس کے حامیوں کی جانب سے سچائیوں کو لگانا ضروری ہے۔
ایسے ماحول میں رہنا تھوڑا بھی آسان نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس واقعے پر ایک سے زیادہ گھنٹوں پہ لگاتار رپورٹس دیتا رہنا، حالانکہ وہ سب کو جانتا ہوتا ہے کہ اس واقعے پر حقیقت سے بات کرنا مشکل ہے اور اس پر کسی بھی گھنٹوں پہ رپورٹ کرنا زیادہ کوشش نہیں کرتا ہے، یہ سب کی جانب سے ایک حقیقت کو چھुपانے کی کوشش ہے۔
اس واقعات سے پتھر پٹھر موڈ نکل کر کھڑی ہوئی ہے. لاش کو پوسٹ مارٹم کا کہا جائے تو یہ ایک اہم پوچھ سے بھری ہوئی ہے کہ اس شخص کی جان کس نے بچائی تھی اور کون اسے ماری چکا تھا. اس دوسرے گولے میں دیکھنا ہے کہ اب ایسی جگہوں پر سے حملے ہو رہے ہیں جن پر یقیناً کوئی نظر نہیں رکھتا تھا اور وہ بھی اسی طاقت کا استعمال کر رہا ہے جس سے حالات اس قدر خراب ہو گئے ہیں.
اس دuniya میں کیا ہوتا ہے؟ ایک تصادم کے بعد ایسے حملوں سے بھی ملنے لگے ہیں جس سے وہ شخص جو اپنی جھینائی گاتی میں انتخابی منشور پڑھتے تھے اور اس کے بعد چلے جاتے تھے وہ دم توڑ کر ہلاک ہو گئے ہیں اور پوسٹ مارٹم کی طرف بھیجا گیا تھا ۔ لاش کو بھی کچھ دیر تک میمن سنگھ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کرکے بھی جلا دیا گیا ۔ اب یہ بات سے پچتنی نہیں کہ وہ ایسے زخمی تھے جو اسے زندگی سے دور کیا گیا تھا ۔ اس کی جانب سے ہوئے حملوں اور شہیدت کی ندی ہمیشہ بھی جاری رہے گی، لگتا ہے کہ اس دuniya میں ہمارا مستقبل بھی اسی طرح سے ہوتا جائے گا
ان سے پہلے بھی یہ بات تو معلوم تھی کہ دوسرے نے بھی اپنی جان دے کر اس وقت سے خود کو سیاست میں قائم رکھا ہے، اب اس نے کیا۔ politicians kaafi acha hai kise nahi, tabhi aisa hua.