بنگلہ دیش میں ریفرنڈم اور انتخابات سے پہلے مسلح افواج کو اعلیٰ ترین سطح پر رٹ رہی ہے، جس کی وضاحت چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے دی ہے۔ اس خطاب کے دوران انہوں نے عوامی اعتماد کے تحفظ اور جمہوری عمل کی ساکھ کو مسلح افواج کا کردار قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کے لیے مکمل جاتی نظم و ضبط اور آئینی حدود کی پاسداری ضروری ہے۔
انھوں نے عوامی اعتماد کو حرمت کے ساتھ رکھنے اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے میں مسلح افواج کی کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے، جس کے لیے وہ مکمل غیر جانبداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کو مدد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام کو اپنی رائے دینے کا موقع دیا جائے گا، اور قومی انتخابات میں عوامی نمائندوں کی طرف سے اپنے نمائندوں کی جانب منافرت کرنے کی صلاحیت ملے گی۔
لیکن انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور پہلوانانہ بناتے ہوئے ہم آہنگی سے فرائض انجام دیں تاکہ ملک جمہوری استحکام کی جانب بڑھ سکے۔
اس خطاب سے پہلے یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس سیاسی کشیدگی اور ماضی کے انتخابی تنازعات کا مسملہ ہو رہا ہے وہ بھی ان ہدایات سے تعلق رکھتا ہے۔
انھوں نے عوامی اعتماد کو حرمت کے ساتھ رکھنے اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے میں مسلح افواج کی کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے، جس کے لیے وہ مکمل غیر جانبداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کو مدد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام کو اپنی رائے دینے کا موقع دیا جائے گا، اور قومی انتخابات میں عوامی نمائندوں کی طرف سے اپنے نمائندوں کی جانب منافرت کرنے کی صلاحیت ملے گی۔
لیکن انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور پہلوانانہ بناتے ہوئے ہم آہنگی سے فرائض انجام دیں تاکہ ملک جمہوری استحکام کی جانب بڑھ سکے۔
اس خطاب سے پہلے یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس سیاسی کشیدگی اور ماضی کے انتخابی تنازعات کا مسملہ ہو رہا ہے وہ بھی ان ہدایات سے تعلق رکھتا ہے۔