بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان ایک سنگین تنازع کا جنم ہوا ہے، جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کرکٹ کپ کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کی جانب سے اس کے حل کے لیے بھی دباؤ اور تباہ کن فیصلے سامنے آنے کا امکان ہے۔
سابقہ وزیر اعظم بنگلہ دیش شہیدوں کی موت پر ناامدگی پر غضب و نینواں بھر کر آئی ایس آئی اور ان کے حامی لوگوں نے بھارت کو اس ناکامی کا culpit قرار دیا تھا اور جس سے انہوں نے اس پر تحریک کی تھی، جن میں شہیدوں کی موت پر بھارت کے حامیوں کو لٹنا اور ان پر غضب و نینواں ہونا شامل تھا۔
جس سے عالمی کرکٹ ایجنسی کو اس ناکامی میں دباؤ ہے کہ وہ ایسا فیصلہ کرے جو کھیل کے تقاضوں اور علاقائی حساسیت کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
اس ناکام سیزن کی وجہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی پر مبنی ہے، جس سے بنگلہ دیش کے لیے ٹورنامنٹ سے باہر رہنا اس کی ناکامی میں ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
دنیا بھر میں کرکٹ کے مقbolین کی نظر اس تنازع کو دیکھ کر کچلنے کا کہنا مشکل ہوگا، کیونکہ یہ سچائی تک پہنچنا ہی ایسا کہیں نہیں جس کے بعد اس میں حل پیدا ہوس۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان یہ تنازع ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کرکٹ کپ سے زائد باتوں میں گھول جاتا ہے، ایسے میچز کو ہی نہیں بلکہ یہ سب کچل کر دیکھنا مشکل ہوگا کہ اس میں کیونے ناکامی ہوئی۔
اس کپ میں بھارت کو توازن حاصل ہونا چاہیے، اس لیے انہیں کرکٹ کے پورے منظر نامے پر دیکھنا اور اپنی تاکت کو سمجھنا چاہیے۔
ایسا بھی ماحول بن گیا ہے جو آپ کو ہمیشہ سے متاثر کرتا رہتا ہے، آج بھی کرکٹ کے مقبول نہیں تو اس تنازع میں رہ جائیں گے تاکہ یہ سچائی ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کی ہار میں تبدیل نہ ہو۔ بھارتی اور بنگلہ دیشی فیلڈرز ایک دوسرے پر غضب اور نینواں بھر کر آ رہے ہیں، اب یہ کہیں چلے گا کہ یہ اس کھیل کی کامیابی میں توازن قائم کریں یا صرف اپنی ناکامی کی ذمہ داری ادا کرنے پر ہی ٹھیک رہیں؟
بنگلہ دیش اور بھارت کی ایسے تنازعوں سے ہٹنا ہی چاہیے جو کھلاڑیوں کی سلامتی پر اثر انداز ہوتی ہیں… cricket ka to har kheladi ko safety zarur hoti hai . ab baaki kuchh bhi hai, kuchh bhi solve kiya jaa raha hain... ICC ke hisaab se yeh tournament fix karne ki koshish karni chahiye… to cricket ka nam tana khilaadiyon ki zindagi ko nahi le jaaye
اس تنازعہ کو دیکھتے ہوئے، میرے خیال میں بھارت اور بنگلہ دیش دونوں ایسے ملک ہیں جو کھیلوں سے باہر زندگی کی معیشت پر بھی منفرد ہیں، اگر وہ اس کھیل کو آپس میں کشادہ نہ کریں تو ملکی معیشتوں کو بھی نقصان ہو گا۔
بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کی ایک ساتھ بٹھ کر رہنی چاہئے۔ یہ تنازع کچلنے میں ہماری مدد نہیں کرتا اور اس کے نتیجے میں کھیل کو نقصان پہنچنا تھا۔ ہمیں کھلاڑیوں، آفس، اور ہر ایک کی جانب سے بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کے درمیان سہولت پیدا کرنا چاہئے. ناکامی کا منظر جس سے دنیا کو متاثر ہوتا ہے، اس کا حل ٹورنامنٹ سے باہر جانے کی ناکامی کے باعث نہیں بلکہ طویل عرصے سے موجود تنازع کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ایسا منظر دیکھتے ہی محکوم ہو گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ ایجنسی کون اچھا کروڈ گئی، لیکن یہ ایک ناکام سیزن کا شکار ہوا، مگر جس کے پیچھے ان کو کیا حقیقت کہنا ہو گا؟ ایسی ہی دیکھنا ہوتا ہے جو کہ ہم کابول پر چڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اب یہاں سے گزر جاتا ہے اور اب ہمیں اپنا کام شروع کرنا پڑتا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کی ایسی تنازع کو تو ختم کرنا مشکل ہوگا، ان دونوں کی طرف سے بھی کچھ ناکام پابندیاں بھی رکھی ہوگیں تو یہ سب کچلنے کا کہنا مشکل ہوگا
اس کرکٹ کپ میں جو معروجیت کھیلی گئی اس کا اہداف کھلاڑیوں کی سلامتی کو safest رکھنا تھا، لہٰذا ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کس طرح ان کھلاڑیوں کا احترام بھرپور طور پر یہ معروجیت کی شرط تھی اور اس پر برتی گئی تھی۔
اس تنازع کو دیکھتے ہوئے میں سمجھ سکتا ہوں کہ کرکٹ ایجنسی نے یہ بات بھی تسلیم کی ہے، لیکن ابھی تک اس پر کیا فیصلہ کیا گیا ہے؟
بھارتی اور بنگلہ دیشی کرکٹرز کے درمیان یہ تنازع ایسی باتوں پر مشتمل ہے جس سے کرکٹ کو کچلنے والا خطرہ ہے ان کے درمیان ایک دوسرے پر تھپکے ہیں، اور یہاں کھلاڑیوں کے بھالے کی بات ہے جس سے اس تنازع کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے
اس ناکام سیزن کی وجہ اس وقت تک باہر نہیں آ سکتا جب تک ایک حل نہیں ملا، اور یہاں کرکٹ کے محنت کشوں کے لیے بھارتی اور بنگلہ دیشی کرکٹرز کی جانوں پر ان کے حوالے سے غصہ اور نینواں ہیں
دنیا بھر میں کرکٹ کے حامل لوگوں کا دھ्यان اس تنازع کو دیکھنے پر توجہ ملے گی، کیونکہ یہ سچائی تک پہنچنا ہی ایسا کہیں نہیں جس کے بعد اس میں حل پیدا ہوس۔
بھارتیوں کو لگتا ہے کہ انہوں نے ایک پوری موت کی سزا دی ہے… یہ تو کیا وہ ان شہیدوں کی موت پر غضب اور نینواں بھر کر کرسکتے تھے؟ اور اب وہ کیا کرتے ہیں، ناکامی کو ذمہ دار بناتے ہوئے دوسروں پر تشدد اور غضب کی سزا دینا? یہ تو ایسے میچز میں کھیلنا بھی مشکل ہوتا ہے جہاں دوسرے خاندان کے لوگ کھیلنے کے لیے مجبور کر دیں...
تو یہ بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کی بین الاقوامی کرکٹ کے معاملے میں ایک بڑا ناکام سیزن ہوا ہے، جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کرکٹ کپ کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کی جانب سے اس کے حل کے لیے بھی دباؤ اور تباہ کن فیصلے سامنے آنے کا امکان ہے۔
ابھی وہ شہیدوں کی موت پر غضب و نینواں بھر کر آئی ایس آئی اور ان کے حامی لوگوں نے بھارت کو اس ناکامی کا culpit قرار دیا تھا اور جس سے انہوں نے اس پر تحریک کی تھی، جن میں شہیدوں کی موت پر بھارت کے حامیوں کو لٹنا اور ان پر غضب و نینواں ہونا شامل تھا۔
عالمی کرکٹ ایجنسی کو اب اس سے دباؤ ہے کہ وہ ایسا فیصلہ کرے جو کھیل کے تقاضوں اور علاقائی حساسیت کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
یہ ناکام سیزن کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی پر مبنی ہے، جس سے بنگلہ دیش کے لیے ٹورنامنٹ سے باہر رہنا اس کی ناکامی میں ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
دنیا بھر میں کرکٹ کے مقbolین کی نظر اس تنازع کو دیکھ کر کچلنے کا کہنا مشکل ہوگا، کیونکہ یہ سچائی تک پہنچانا ہی ایسا کہیں نہیں جس کے بعد اس میں حل پیدا ہوس۔
میں سوچتا ہوں کہ آئی سی سی کو اپنی جانب سے ایک حل تلاش کرنا چاہیے، اور کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی کو یقینی بنانا چاہیے۔
اس تنازعے کی وجہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی پر بھی انفرادی طور پر دباؤ ڈالتا ہے، اس کے علاوہ یہ بھی ایک خطرناک بات ہے کہ دنیا بھر میں کرکٹ کے مقبولین اس تنازعے کو دیکھتے رہیں گے اور ان پر دباؤ پڑے گا، جس سے یہ عالمی کرکٹ کی جانب سے حل کے لیے ایک ایسی صورتحال بن سکتی ہے جس سے اس کے مقبولیت میں کمی آئے گی।
اس کھیل کو محفوظ اور عادتی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام طرفوں کی جانب سے ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بھی محفوظ رکھے، اور اس طرح انفرادی دباؤ کو کم کیا جا سکے گا اور یہ تنازعہ ختم ہو جائے گا۔
اس تنازعے کی وہ گھنٹیاں، جب بھارتی اور بنگلہ دیشی کرکٹ سرفراز تھیں، میرے لئے بہت تھکا کن ہیں۔ اس کپ میں ایسے فیصلے اور دباؤ کی موجودگی جو ناکامی تک پہنچ گئے وہ کرکٹ کے لیے بھی ناقابل chấpشودگی ہیں۔
یہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کرکٹ کو جو اہمیت حاصل ہے وہ ایسی بھی ہے جس کی وجہ سے عالمی میں اسے ایسے معاملات کے سامنے آنا پڑتا ہے جو کہ ان کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی پر منحصر ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی کھیلوں میں بھارت یا بنگلہ دیش کی نمائندگی کی۔
اس تنازع کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ سوچنا مشکل ہوگا کہ دنیا بھر کی کرکٹ کے شہر کس طرح ایسے سچائی تک پہنچانے میں کامیاب ہوگے جس پر ان کا اعتماد ہوا ہو، یہ ایک بڑی چیلنج ہے کہ وہ اس سے باہر رہنے کی آواز کو سمجھتے ہوئے اپنے قائلین کو یہی کہیں دے گا۔
اس ناکامی سیزن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹی ٹی ون کپ کھیلنے والے تمام ٹیموں کو ایسا فیصلہ کرنا پڑے گا جس سے ان کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے، ایسی صورت میں اس تنازع کو ختم ہونے والا ہوگا۔
اس تنازع کو حل کرنے کا یہ رستہ آسان نہیں ہوگا… پہلے سے بھی اس پر بات کی گئی تھی، لیکن اب تک کسی اچھے نتیجے کا نتیجہ نہیں نکلا… اور ایسے میچز کو دباؤ میں لاکر کھیلنے سے کھلاڑیوں کی سلامتی پر یہ تباہ کن اثر ہوسکتا ہے…
کھیل کے مقبلین کی نظر اس پر دیکھنا مشکل ہوگا… کرکٹ ایجنسی کو اپنی صلاحیتوں پر فخر نہ رکھنا پڑega… یہ توازن قائم کرنے کا صرف ایک طریقہ ہوسکتا ہے - کھلاڑیوں اور آفیشلز دونوں کے درمیان ایک سمجھौतہ تلاش کرنا۔
اس تنازع میں سب کو دیکھ کر گنجان غصہ اور غضب بھری ہوئی ہے، اس بات کو پورا کرونا مشکل ہوگا کہ دنیا کے تمام کرکٹ پرست لوگ ایسے فیصلے کا مخالف ہونے پر مایوس نہیں ہوتے اور اس سے منھوں میں پانی اٹھنے کو کچھ بھی نہیں آتا ۔
تھوڑی سے پچیس کیوں کرتا ہوں؟ آج بھی کرکٹ کے مقبلین دیکھتے ہیں کہ انہیں اس تنازع میں کبھار وہ، کبھر ہمیں؟ میرا خیال ہے کہ کرکٹ ایجنسی کو ایسا فیصلہ کرنا چاہیے جو تمام جماعتیں سمجھ سکیں اور کھیل کے تقاضوں پر توجہ دی جائے، نہ کہ یہ ہمیں ایک دوسرے کی طرف بھیڑ کھا دے۔
اس تنازع کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ سچائی چھپنا تھی کہ دنیا بھر میں کرکٹ کی مقبولیت اس پر نہیں پھیلتی، کرکٹ ایجنسیوں کو اس سے حقیقی حل تلاش کرنا ہوگا اور انہیں دباؤ کے بدلے میڈیا کی سست لوہیوں پر پھنسنا نہیں چاہئیے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کرکٹ کپ سے باہر رہنا ایک بڑا چیلنج ہے لیکن میرے لئے یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ ابھی ہمیں اس کے بعد کیا ڈھونڈھن گے؟ اور پھر یہ سوال آتا ہے کہ کئی دفعہ انہوں نے اپنی موت کا ذمہ داری سولہ کر لی ہے اور اب وہ اس پر بھی دباؤ رکھ رہے ہیں۔